کاغذ سے اعمال تک

کاغذ سے اعمال تک

کاغذ سے اعمال تک

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


آج (۲۹/ ستمبر ۲۰۲۶ء) ایس آئی آر کی اس طویل اور بے ہنگم قطار میں کھڑے کھڑے نگاہیں، جب لوگوں کی دوڑ دھوپ، اضطراب اور تگ و دو پر پڑیں تو جانے کیوں نہاں خانۂ دل میں خیالِ محشر کا ایک جھونکا سا آ گیا، سوچنے لگا کہ شناخت کے اس ایک کاغذ کے لیے یہ نفسا نفسی اور حراساں کیفیت ہےتو اس ہولناک دن کا عالم کیا ہوگا، جہاں پوری زندگی کا حساب اور نامۂ اعمال کھول کر رکھ دیا جائے گا! قطار کافی طویل ہے، لہٰذا ساکت کھڑے رہنے سے کہیں بہتر تھا کہ دل کی ان دھڑکنوں اور فکری لہروں کو قرطاس کے سپرد کر دیا جائے، جو کچھ دل کے نہاں خانہ میں اترا، وہ اب آپ کے سامنے ہے۔

اس وقت ہندوستان میں انسان کی شناخت اور وجود کے ثبوت سے متعلق ایس آئی آر (Special Intensive Revision) کا عمل جاری ہے، کاغذات کی چھان پھٹک، ناموں کی تصدیق اور دستاویزات کے انبار پیش کرنے کا یہ مرحلہ دراصل انسان کو اس روزِ عظیم کی یاد دلاتا ہے، جس کی ہیبت کا تذکرہ بار بار کتابِ الٰہی اور احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے، یعنی: میدانِ محشر!

اس دنیاوی کارروائی میں ہر شخص سر جھکائے اپنی شناخت ثابت کرنے کی تگ و دو میں ہے کہ وہ کون ہے؛کس دھرتی کا باسی ہے اور سرکاری ریکارڈ میں اس کا وجود کن بنیادوں پر ثبت ہے؟ اگر نام، ولدیت یا عمر کے گوشواروں میں ذرا سا بھی شگاف یا کوتاہی نکل آئے تو دستاویزات کا سہارا لے کر اس کی مرمت کرنی پڑرہی ہے، دوسری طرف، میدانِ محشر میں بھی انسان اپنے تمام تر خلوص اور عریانیِ حقیقت کے ساتھ ربِ ذوالجلال کے حضور کھڑا ہوگا، وہاں دنیا کے چمکتے دمکتے عہدے، زر و سیم کے انبار، خاندانی نسب اور منصب کے غرور کوئی کام نہ آئیں گے، وہاں ترازو میں صرف ایمان کا جوہر اور اعمال کا وزن تولا جائے گااور جس کے اعمال کا ترازوبھاری ہوگا، وہی کامیابی سے ہم کنارہوگا؛ لیکن جس کے اعمال کا ترازو ہلکا ہوگا، وہ ناکامی اور محرومی سے دوچارہوگا: فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙز فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍﭤزوَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙز فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌ(القارعہ:۶ - ۹)’’جس کے ترازو بھاری ہوں گے، وہ تو پسندیدہ زندگی میں ہوگا؛ لیکن جس کے ترازو ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا ‘‘۔

کسی بھی فانی دفتر کے ریکارڈ میں نام کا درج ہو جانا صرف ایک عارضی وانتظامی ضرورت ہے؛لیکن ابدی دائرے میں نام اور اعمال کا محفوظ رہنا ہی اصل کامیابی یا ناکامی کا ضامن ہے، ربِ کائنات کا فرمانِ عالی شان ہے: وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ(الکہف:۴۹) ’’اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا، پس تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس میں درج چیزوں سے خوف زدہ ہوں گے‘‘۔

ایس آئی آر کے اس عمل میں تو بس چند کوائف اور کاغذات کی طلبی ہے؛ مگر میدانِ محشر میں انسان کے سامنے اس کی پوری حیاتِ مستعار کا ایک ایک ورق کھول دیا جائے گا، وہاں نہ کسی پردے کے پیچھے چھپنے کی گنجائش ہوگی اور نہ کسی عمل سے انحراف کی مجال، قرآن میں ہے: وَكُلُّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا ز اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا(الاسراء:۱۳-۱۴) ’’اور ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور قیامت کے دن اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا، کہا جائے گا: اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے‘‘۔

اس قطار میں کھڑے ہر شخص کے دل میں ایک لرزش ہے کہ کہیں اس کا نام فہرستِ حیات سے کٹ نہ جائے، کہیں شناخت کا کوئی زاویہ ادھورا نہ رہ جائے اور مطلوبہ کاغذات میں کوئی نقص نہ آ نکلے؛ لیکن روزِ محشر کی گھڑی اس سے کہیں زیادہ ہولناک اور سنگین ہوگی، وہاں فکر یہ نہیں ہوگی کہ سرکاری رجسٹر میں میرا اندارج درست ہے یا نہیں؛ بل کہ اصل اندیشہ یہ ہوگا کہ میرا انجام کیا ہونے والا ہے؟ اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں تھمایا جاتا ہے یا بائیں ہاتھ میں؟ اور میزانِ عدل میں میرے پلڑے کا رخ کس جانب جھکتا ہے؟

دنیا کے اس کاغذی چکر میں تو انسان اپنے کاغذات کی درستی کے لیے سو حیلے بہانے تراش سکتا ہے، معلومات کی اصلاح کرا سکتا ہے اور مہلت کے دائرے میں سب کچھ سنوار سکتا ہے؛ لیکن آخرت کی وادی میں یہ سہولت میسر نہ ہوگی، وہاں عمل کا سورج غروب ہو چکا ہوگا، حساب کا دفتر بندہوچکاہوگا،نہ نئی دستاویز تیار کرنے کا موقع ملے گا اور نہ کسی غلطی پر پردہ ڈالا جا سکے گا، عقل مند وہ ہے، جو اس دنیا ہی میں اس دارِ فانی سے کوچ کرنے سے پہلے اپنے اخروی ریکارڈ کو سنوار لے، نبی کریم ﷺ نے کیا ہی دل کو چھو لینے والا ارشاد فرمایا ہے:الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ(سنن الترمذی:۲۴۵۹)’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے‘‘۔

یہاں اس باریک فرق کو بھی نگاہوں میں رکھنا لازم ہے کہ دنیا کا ایس آئی آر صرف ایک انتظامی فریضہ ہے اور میدانِ محشر خدا کی حتمی عدالت کا ظہور،دونوں میں کوئی نسبتِ مساوات نہیں؛ لیکن دنیا کا یہ معمولی اور کٹھن تجربہ اگر انسان کے اندر بیداری کی ایک لہر دوڑا دےتو یہ محاسبہ کا ایک بہترین استعارہ بن سکتا ہے۔

آج اگر ہم اپنے نام، پتے، عمر اور شناخت کے کاغذات کی کھوج میں سرگرداں ہیں تو ذرا لمحہ بھر کے لیے اپنے اندرونی وجود کے آئینے میں بھی جھانک کر دیکھیں، کہیں ہماری نمازوں کے کھاتے میں کوئی کمی تو نہیں؟ کہیں حقوق العباد کے سلگتے ہوئے بوجھ نے ہماری روح کو بوجھل تو نہیں کر رکھا؟ کسی کی آہوں کا حساب، کسی کی دل آزاری کے نقش اور گناہوں کے وہ چھوٹے بڑے بوجھ، جنھیں ہم نے ہنستے کھیلتے نظر انداز کر دیا تھا، کہیں ہمارے نامۂ اعمال کی زینت تو نہیں بن چکے؟

دنیاوی ریکارڈ کی غلطی سدھارنے کے لیے تو دفتروں کے چکر کاٹنے کی مہلت موجود ہے؛ مگر موت کی دہلیز پار کرنے کے بعد یہ دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں، تب اصلاح کا کوئی اختیار ہاتھ نہیں رہتا، بس سامنے اعمال کا کھلا ہوا دفتر ہوتا ہے۔

تو پھر ایس آئی آر کی اس قطار میں کھڑے ہوکر کیوں نہ ایک سوال اپنے ضمیر کے کٹہرے میں رکھ کر پوچھا جائے: ہم دنیا کی کاغذی فہرست میں اپنا نام درج کرانے کے لیے تو اتنے بے چین اور مضطرب ہیں؛ مگر اس ابدی فہرست کے لیے کتنے فکر مند ہیں، جو ہمیں نجات کے ساحل تک پہنچائے گی؟

دنیا کا کاغذ صرف ہماری ظاہری شناخت کا پتہ دیتا ہے؛ مگر آخرت کا رجسٹر ہماری حقیقی روح کو بے نقاب کرتا ہے، دنیا میں کاغذات کی درستگی کا وقت محدود ہے اور آخرت میں اعمال کی پیشی اٹل، پس دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے کاغذات سنوریں تو سنوریں، ساتھ ہی اعمال کی دنیا کو بھی امر کر لیا جائے؛ اس لیے کہ دنیاوی فہرست کی غلطی تو سدھاری جا سکتی ہے؛ مگر نامۂ اعمال کی سیاہی صرف اسی دنیا کے دامن میں دھوئی جا سکتی ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی