رسول اللہ ﷺ کے تربیتی وتدریسی اسالیب (دوسری قسط)

رسول اللہ ﷺ کے تربیتی وتدریسی اسالیب

رسول اللہ ﷺ کے تربیتی وتدریسی اسالیب

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

(دوسری قسط)

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا ہے؛ تاکہ آپ لوگوں کی بہترین تربیت اور تعلیم فرمائیں؛ اس لیے اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تدریسی طریقوں میں نبوی اسالیب کو اپنائیں۔

تعلیم و تربیت کا سب سے پہلا اور اہم اصول نرمی اور محبت ہے؛کیوںکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ سختی کے بجائے آسانی اور حسنِ سلوک کو ترجیح دی؛ تاکہ سیکھنے والے کا دل اچاٹ نہ ہو۔

دوسرا اہم ترین اصول ’’تدریج‘‘ یعنی مرحلہ وار تعلیم ہے، جس کے تحت احکام کو یکبارگی تھوپنے کی بجائے لوگوں کی صلاحیتوں اور حالات کے مطابق تدریجاً نافذ کیا جاتا ہے۔

تیسرا بنیادی اسلوب سہولت اور آسانی پیدا کرنا ہے؛تاکہ طلبہ یا مخاطبین پر ناقابلِ برداشت بوجھ نہ ڈالا جائے اور وہ دین سے متنفر ہونےکی بجائے قریب ہوں۔

چوتھا اور انتہائی مؤثر اصول مخاطب کی ذہنی اور نفسیاتی سطح کا خیال رکھنا ہے، جس کی بہترین مثال زنا کی اجازت مانگنے والے نوجوان کو منطقی اور دل نشین انداز میں سمجھانا ہے۔

ان تمام نبوی اسالیب کا بنیادی مقصد غصے اور سرزنش کے بغیر دلوں کو جیتنا، پیچیدہ حقائق کو آسان بنانا اور تعلیم کو ایک خوشگوار تجربہ بنانا ہے۔ (اب دوسری قسط پڑھیں)

عملی نمونہ پیش کرنا

نبی کریم ﷺ کے سکھانے کے طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ یہ تھا کہ آپ برت کردکھا تے تھے، خود عملی نمونہ پیش کرتے تھے؛ چنانچہ مالک بن حویرث فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نو عمر نوجوان تھے، جن کی عمریں قریب قریب تھیں، ہم آپ کے پاس بیس دن تک ٹھہرے، آپ ﷺ نے سمجھا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد ستانے لگی ہے (اور آپ نے) ہم سے پوچھا کہ ہم نے اپنے گھر والوں میں کس کس کو چھوڑا ہے؟ تو ہم نے آپ کو بتا دیا، آپ ﷺ بڑے نرم مزاج اور رحم دل تھے؛ اس لیے آپ نے فرمایا:ارجِعوا إلى أهليكم، فأَقيموا فيهم، وعَلِّموهم، وبَرُّوهم، وصَلُّوا كما رَأيْتُموني أُصلِّي’’اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ، انہیں دین سکھاؤ، انہیں (نیک کاموں کا) حکم دو، اور اس طرح نماز پڑھو،جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۰۰۸، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۶۷۴)۔

ایک دوسری روایت میں ہے، حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یومِ نحر (دسویں ذو الحجہ کو) اپنی سواری پر سوار ہو کر (جمرہ عقبہ کو) کنکریاں مارتے ہوئے دیکھااور آپ فرما رہے تھے:لتَأخُذوا مَناسِكَكُم؛ فإنِّي لا أدري لَعَلِّي لا أحُجُّ بَعدَ حَجَّتي هذه’’اپنے حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو؛ کیوں کہ میں نہیں جانتا کہ شاید میں اس حج کے بعد دوبارہ حج نہ کر سکوں‘‘۔

ان دونوں حدیثوں میں نظرڈالیں، آپ ﷺ نے عملی نمونہ پیش کرکے ان نمونوں کواختیار کرنے کا حکم فرمایا، آج ہمیں اپناجائزہ لیناچاہئے کہ کیا ہم بھی اپنے طلبہ کے لئے نمونہ بنتے ہیں؟ ہم تو اپنے بچوں سے بہت کچھ چاہتے ہیں؛ لیکن ہم خود عملی نمونہ پیش نہیں کرتے، نبی کریم ﷺ کی زندگی سے ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

سوال و جواب کے ذریعہ تعلیم

رسول اللہ ﷺ کے تربیتی و تدریسی اسالیب میں’’سوال وجوب‘‘ کا اندازایک نہایت مؤثر، دل نشین اور گہرا اثر رکھنے والا طریقۂ تعلیم وتدریس تھا، آپ ﷺ اس اسلوب کے ذریعہ سامعین کی توجہ کو کھینچتے، ان کے ذہنوں کو متحرک کرتے اور مشکل حقائق کو دلائل کے ساتھ ان کے دلوں میں راسخ فرما دیتے تھے؛ چنانچہ حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوارتھاکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے مخاطب کرکے سوال کیا: يا مُعاذُ، أتدري ما حَقُّ اللهِ على العِبادِ، وما حَقُّ العِبادِ على اللهِ؟’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہوکہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ ‘‘میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں توآپ ﷺ نے فرمایا:حَقُّ اللهِ على العِبادِ أن يَعبُدوه ولا يُشرِكوا به شَيئًا، وحَقُّ العِبادِ على اللهِ ألَّا يُعَذِّبَ مَن لا يُشرِكُ به شيئًا’’اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے، جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۸۵۶، وصحیح مسلم، حدیث نمبر: ۳۰)۔

ایک دوسری روایت میں ہے، حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کومخاطب کرکے سوال کیا: أرَأيتُم لو أنَّ نَهرًا ببابِ أحَدِكُم يَغتَسِلُ منه كُلَّ يَومٍ خَمسَ مَرَّاتٍ، هل يَبقى مِن دَرَنِه شيءٌ؟’’بتاؤ تو اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ بار غسل کرے، کیا اس کے میل کچیل میں سے کچھ باقی رہے گا؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: اس کے میل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گاتو آپ ﷺ نے فرمایا:فذلك مَثَلُ الصَّلَواتِ الخَمسِ، يَمحو اللهُ بهِنَّ الخَطايا’’یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، جن کے ذریعے اللہ تعالی گناہ مٹا دیتا ہے‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۵۲۸، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۶۶۷)۔

ایک اورروایت میں ہے، حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کومخاطب کرکےپوچھا:أتَدرونَ ما المُفلِسُ؟’’کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: ہم میں مفلس وہ ہے، جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ سامان، تب آپ ﷺ نے فرمایا:إنَّ المُفلِسَ مِن أُمَّتي يَأتي يَومَ القيامةِ بصَلاةٍ، وصيامٍ، وزَكاةٍ، ويَأتي قد شَتَمَ هذا، وقَذَفَ هذا، وأكَلَ مالَ هذا، وسَفَك دَمَ هذا، وضَرَبَ هذا، فيُعطى هذا مِن حَسَناتِه، وهذا مِن حَسَناتِه، فإن فنيَت حَسَناتُه قَبلَ أن يُقضى ما عليه أُخِذَ مِن خَطاياهم فطُرِحَت عليه، ثُمَّ طُرِحَ في النَّارِ’’میری امت کا مفلس وہ ہے، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا؛مگر اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا، لہٰذااس کی نیکیاں اس کو دے دی جائیں گی اور اس کی نیکیاں ختم ہونے سے پہلے ان کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۵۸۱)۔

مذکورہ حدیثوں کودیکھیں! کیسے نبی کریم ﷺ نے سوال کرکے صحابہ کے ذہنوں کومتحرک کیا؟ ان کے تجسس کوبڑھایا؟ ان کی توجہ اور ان کا ارتکاز حاصل کیا؟ نیزانہیں غوروفکر اور صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے آمادہ کیا؟ کیاہم بھی دوران تدریس وتربیت کسی اہم بات کوبتانے کے لئے اس طرز کو اختیارکرتے ہیں؟ اگرجواب ’’ہاں‘‘ میں ہے تو قابل تعریف! لیکن اگرجواب’’نہیں‘‘ میں ہے تو پھر ہمیں اپنا طرز تعلیم وتربیت بدلناہوگا اورکبھی کبھاراس طریقہ کوبھی اختیار کرناہوگا۔

مثال و تمثیل سے تفہیم

مثال و تمثیل کے ذریعہ تفہیم رسول اللہ ﷺ کا ایک انتہائی موثر تربیتی وتدریسی اسلوب تھا، جس کے ذریعہ آپ ﷺ مشکل، غیر محسوس یا پیچیدہ حقائق کو روزمرہ کی جانی پہچانی چیزوں، مادی مثالوں اور تمثیلات کے ذریعہ ذہن نشین کراتے تھے؛ کیوں کہ انسانی فطرت معنوی اور مجرد حقائق کو سمجھنے کے لیے بسااوقات حسّی اور ظاہری مثالوں کا محتاج ہوتی ہے اور نبی کریم ﷺ اس نفسیاتی حقیقت سےواقف تھے؛ اس لیے آپ ﷺ نے اس اسلوب کو کثرت سے استعمال کیا۔

حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن پڑھنےاورقرآن نہ پڑھنے والے مؤمن کی تمثیل دیتے ہوئے فرمایا:’’اس مومن کی مثال، جو قرآن پڑھتا ہے، ترنج (ایک خوشبودار پھل) جیسی ہے، جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہےاور اس مومن کی مثال، جو قرآن نہیں پڑھتا، کھجور جیسی ہے، جس کی کوئی خوشبو نہیں ہوتی؛ مگر اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے‘‘، اسی طرح آگے قرآن پڑھنےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی تمثیل دیتے ہوئے فرمایا:اس منافق کی مثال، جو قرآن پڑھتا ہے، ریحان (خوشبودار پودے) جیسی ہے، جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے؛ مگر ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال، جو قرآن نہیں پڑھتا، حنظلہ (تلخ پھل) جیسی ہے، جس کی کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۵۴۲۷، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۷۹۷)۔

ایک دوسری روایت میں اچھے اوربرے دوست کی تمثیل دیتے ہوئے فرمایا:’’اچھے اور برے ساتھی کی مثال عطرفروش اور بھٹی دھونکنے والے (لوہار) جیسی ہے، عطرفروش یا تو آپ کو تحفہ دے گا یا آپ اس سے خرید لیں گے یا آپ اس سے عمدہ خوشبو پائیں گے، جب کہ بھٹی دھونکنے والا یا تو آپ کے کپڑے جلا دے گا یا آپ اس سے بدبو پائیں گے(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۱۰۱، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۶۲۸)۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر آپ ﷺ نے اس کے دائیں اور بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ اور راستے ہیں، جن میں سے ہر راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہے، جو اس کی طرف بلاتا ہے،پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:{وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ}[الأنعام: 153]’’اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو، ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی، تمہیں یہ حکم فرمایا ہے؛ تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ‘‘(مسنداحمد، حدیث نمبر: ۴۱۴۲)۔

دیکھیں! نبی کریم ﷺ نے کس طرح مثال وتمثیل کے ذریعہ سمجھایا؟ پھرصرف زبانی مثال پر اکتفا نہیں فرمایا؛ بل کہ صراطِ مستقیم، گمراہی کے راستوں اورفکری انحراف کو سمجھانے کے لیے بصری (Visual) اور تمثیلی طریقہ کا استعمال فرمایا؛ تاکہ سامعین کے ذہن میں تصور بالکل واضح ہو جائے، ہم بھی خصوصیت کے ساتھ گرامرکی کتابوں میں کسی قاعدہ کو یادرکھنے کےلئے مثالوں کوہی ذہن نشین کرتے کراتے ہیں، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ بالخصوص چھوٹے بچوں کی تربیت اورتدریس میں آنکھوں سے نظرآنے والی ایسی مثالیں پیش کریں، جوبچے کے ذہن میں راسخ ہوجائے، اس سے فائدہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور کام بھی آسان ہوجاتاہے۔

تکرار اور تاکید

تکرار اور تاکید کے ذریعہ غلطی کی حکمت کے ساتھ اصلاح رسول اللہ ﷺ کا ایک نہایت مؤثر اور نبوی تربیتی اسلوب تھا، جس کے ذریعہ آپ ﷺ مخاطب کے ذہن پر بات نقش فرماتے، اہم احکام کو ذہن نشین کراتے اور بسا اوقات کسی لغزش یا بھول پر سختی کرنے کی بجائے حکمت، محبت اور اعادہ کے ساتھ اس کی اصلاح فرماتے؛ چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں: أنَّه كان إذا تَكَلَّمَ بكَلِمةٍ أعادَها ثَلاثًا، حتَّى تُفهَمَ عنه’’نبی کریم ﷺ جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دہراتے؛ تاکہ وہ اچھی طرح سمجھ لی جائے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۲۷۲۳)۔

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (یہ جملہ آپ ﷺ نے تین بار دہرایا)، صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول الله! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا، (اس وقت) آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: خبردار! اور جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺ اس جملے کو برابر دہراتے رہے؛ یہاں تک کہ ہم نے دل میں کہا: کاش آپ خاموش ہو جاتے(صحیح بخاری، حدیث نمبر:۲۶۵۴، صحیح مسلم، دحیث نمبر: ۸۷)۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا:واللهِ لا يؤمِنُ واللهِ لا يؤمِنُ واللهِ لا يؤمِنُ’’اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہو سکتا‘‘، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا:الذي لا يَأمَنُ جارُه بَوايِقَه’’وہ شخص، جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور تکلیفوں سے محفوظ نہ ہو‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۰۱۶)۔

کیا ہمارا رویہ بھی ایساہی رہتا ہے؟ کیا ہم اعادہ اور دہرانے کو کسرشان نہیں سمجھتے؟ کیا ایسانہیں ہوتا کہ ہم ببانگ دہل کہہ دیتے ہیں:’’ہم نے ایک بار کہہ دیا سوکہہ دیا، باربار نہیں دہرائیں گے‘‘ اور پھر دوسری مرتبہ کی غلطی پر’’دے دنا دن دن‘‘ سے ہی آغاز نہیں کرتے ہیں؟ ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسوہ کو اختیارکرنا چاہئے کہ وہ نہ صرف ایک بات کو کئی مرتبہ دہراتے تھے؛ بل کہ حکمت کی راہ اختیارکرکے اصلاح بھی فرماتے تھے۔(جاری۔۔۔۔)

رسول اللہ ﷺ کے تربیتی وتدریسی اسالیب(پہلی قسط)

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی