رسول اللہ ﷺ کے تربیتی وتدریسی اسالیب
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی ذات کو ہمارے لئے بہترین اسوہ قراردیاہے، ارشادباری تعالیٰ ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ(الأحزاب:۲۱)’’رسول اللہ میں تمہارے بہترین اسوہ ہے‘‘، اس ’’بہترین اسوہ‘‘ کا تقاضایہ بھی ہےکہ نبی کریم ﷺ ایک استاذ اور مربی کی حیثیت سے بھی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہوں،اس تعلق سے خود نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: إنَّ اللهَ لم يبعثْني مُعنِّتًا، و لا مُتَعنِّتًا، و لكن بعثني مُعلِّمًا مُيَسِّرًا(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۴۷۸)’’بے شک اللہ نے مجھے سختی کرنے والا یا سختی تلاش کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا؛بل کہ اس نے مجھے سکھانے والا (معلم) اور (معاملات کو) آسان کرنے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘۔
پانچ ستمبر کی مناسبت سے(جس دن ٹیچرڈے منایاجاتاہے) مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کے تربیتی اور تدریسی اسالیب کو بیان کیاجائے؛ تاکہ اساتذہ ان کی روشنی میں اپنا جائزہ لیں اور تربیتی وتدریسی اسلوب میں ’’نبوی طریقہ‘‘ کو اختیارکریں۔
نرمی ومحبت
نبی کریم ﷺ کسی بات کو بتانے اور سکھانے میں نرم رویہ اختیار فرماتے اور محبت سے سکھاتے تھے؛ چنانچہ معاویہ بن حکم سُلمیؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک تھا کہ ایک شخص کو چھینک آئی، میں نے کہا: یرحمک اللہ، اس پر لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھنا شروع کیا،میں نے کہا: 'ہائے میری ماں کی بربادی! تم میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں پر مارنا شروع کیا (تاکہ میں خاموش ہو جاؤں)؛ چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرانا چاہ رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، جب رسول اللہ ﷺ نمازسے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر سکھانے والا کوئی معلم نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے گالی دی؛ بل کہ مجھ سے فرمایا: إنَّ صَلاتَنا لا يَصلُحُ فيها شَيءٌ مِن كَلامِ النَّاسِ، إنَّما هيَ التَّكبيرُ والتَّسبيحُ وتِلاوةُ القُرآنِ’’بے شک ہماری اس نماز میں لوگوں کی بات چیت میں سے کچھ بھی درست نہیں ہے، یہ تو صرف تکبیر، تسبیح اور قرآن کی تلاوت (کی جگہ) ہے‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۵۳۷)۔
ایک دوسری روایت ہے ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ اسے روکنے لگے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لا تُزرِموه دَعوه’’اس کا پیشاب مت روکو، اسے چھوڑ دو‘‘؛ چنانچہ لوگوں نے اسے چھوڑ دیا؛ یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور اس سے فرمایا:إنَّ هذه المَساجِدَ لا تَصلُحُ لشيءٍ مِن هذا البَولِ ولا القَذَرِ، إنَّما هي لذِكرِ اللهِ عزَّ وجلَّ، والصَّلاةِ وقِراءةِ القُرآنِ ’’یہ مساجد اس طرح کے پیشاب اور گندگی کےلئے نہیں ہیں، یہ تو صرف اللہ عزوجل کے ذکر، نماز اور قرآن پڑھنے کے لیے ہیں‘‘، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا تو وہ پانی کا ایک ڈول لے کر آیا اور اسے اس (پیشاب والی جگہ) پر بہا دیا(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۲۳، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۸۵)۔
ان دونوں حدیثوں میں دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ نے کس قدرنرمی کے ساتھ نماز اورمسجد کے آداب سکھائے، کیا ہم بھی اسی نرمی کے ساتھ اپنے مدرسہ اور اسکول کے بچوں کو آداب سکھاتے ہیں؟ اگرجواب ہاں میں ہے توبہت خوب! ورنہ اپنے طریقۂ کارکودرست کرنے کی ضرورت ہے۔
تدریج
نبی کریم ﷺ تعلیم وتربیت میں تدریج کے پہلو کو بھی سامنے رکھا کرتے تھے؛ چنانچہ ’’رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سےیمن بھیجتے وقت فرمایا: تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو، جو اہل کتاب میں سے ہے، پس جب تم ان کے پاس پہنچو تو سب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے، جو ان کے مال داروں سے لیا جائے گا اور ان کے محتاجوں کو لوٹا دیا جائے گا، اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو (مالِ غنیمت یا زکوٰۃ وصول کرتے وقت) ان کے اچھے اور قیمتی مال (بچانے) سے بچنا (یعنی زکوٰۃ میں اچھے سے اچھا مال زبردستی لینے سے گریز کرنا) اور مظلوم کی بددعا سے بچنا؛ کیوںکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۴۹۶، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۹)۔
اس حدیث میں واضح طور اصول تدریج کی رہنمائی کی گئی ہے، بالخصوص یہ بتایاگیا ہے کہ دعوت و تبلیغ میں مرحلہ وار طریقہ اپنانا چاہیے،سب سے پہلے عقیدہ (توحید و رسالت)، پھر عبادت (نماز)، اور پھر مالی فریضہ (زکوٰۃ)کی دعوت دینی چاہئے؛ تاکہ مخاطب پر یکبارگی بوجھ محسوس نہ ہو۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ کی روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: سب سے پہلے قرآن میں مفصلات کی سورتیں نازل ہوئیں، جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے؛ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام میں پختہ ہوگئے تو حلال اور حرام (کے احکام) نازل ہوئے، اگر سب سے پہلے یہ حکم نازل ہوتا کہ 'شراب مت پیو، تو لوگ کہتے: 'ہم کبھی بھی شراب نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم نازل ہوتا کہ 'زنا مت کرو، تو لوگ کہتے: 'ہم کبھی بھی زنا نہیں چھوڑیں گے‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۴۹۹۳)، حضرت عائشہؓ صرف تدریجی طورپراحکام کے نزول کے تعلق سے ہی نہیں بتلارہی ہیں؛ بل کہ یہ بھی واضح کررہی ہیں کہ ایسا کرنےکافائدہ کیا ہے؟ اگریکبارگی تمام احکام نازل کردیاجاتا تولوگوں کا ردعمل کیاہوتا؟
ہمیں بھی تعلیم میں تدریج کا خیال رکھنا چاہئے، نصاب میں اس کا توخیال کیاجاتاہے؛ لیکن تدریس میں بھی اس کے خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کتاب کے کس سبق کو پہلے پڑھانے سے طلبہ کی توجہ زیادہ حاصل ہوگی اورانھیں فائدہ ہوگا؟ خصوصیت کے ساتھ لٹریچر اور ادب کی کتابوں میں اس طریقہ کو اختیار کیاجاسکتا ہے۔
یسرو سہولت
نبی کریم ﷺ سہولت اور آسانی کوپسند فرماتے تھے اور یہی رویہ تعلیم میں بھی اختیار فرماتے رہے،خود نبی کریم ﷺ کو جب دوباتوں میں اختیار دیا جاتا توآسان کومنتخب فرماتے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ما خُيِّرَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بينَ أمرَينِ قَطُّ إلَّا أخَذَ أيسَرَهما، ما لم يَكُنْ إثمًا، فإن كان إثمًا كان أبعَدَ النَّاسِ منه’’رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی دو کاموں کے درمیان اختیار نہیں دیا گیا؛ مگر آپ نے ہمیشہ ان میں سے زیادہ آسان کو ہی اپنایا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے‘‘(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۱۲۶، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۳۲۷)، آپب ﷺ نے اسی آسانی کی تعلیم بھی دی ہے؛ چنانچہ حضرت جابربن عبداللہؓ فرماتے ہیں: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ (عشاء کی) نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، ایک رات نبی کریم ﷺ نے (عشاء کی) نماز میں تاخیر فرمائی تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھانے لگے اور (طویل قراءت کرتے ہوئے) سورۃ البقرہ شروع کر دی،ایک شخص (تھکن یا مجبوری کی وجہ سے) جماعت سے الگ ہو گیا اور اکیلے نماز پڑھ کر چلا گیا، کسی نے اس سے کہا: تو نے تو منافق جیسی حرکت کی ہے! اس نے کہا: ہرگز نہیں، میں نے منافقین والی کوئی بات نہیں کی،پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور پھر واپس آکر ہمیں امامت کرواتے ہیں،ہم لوگ اونٹوں پر پانی لادنے والے (محنت کش) ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، (اس رات) انھوں نے ہمارے پاس آ کر امامت کی اور سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی (جس سے ہمیں بہت مشقت ہوئی)،یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے (حضرت معاذ سے) فرمایا: يا مُعاذُ، أفتَّانٌ أنت؟! أفتَّانٌ أنت؟! اقرأ ْبكذا اقرَأْ بكذا’’اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ (اس کی بجائے) تم فلاں فلاں سورت پڑھا کرو‘‘ (راوی ابو الزبیر نے مثال کے طور پر سورۃ الاعلی اور سورۃ اللیل کا ذکر کیا)(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۷۰۱، صحیح مسلم، حدیث نمبر:۴۶۵)۔
مذکورہ سطورسے یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی کریم ﷺ امت کے حق میں نہ صرف آسانی چاہتے تھے؛ بل کہ صحابہ کوبھی آسانی پیداکرنے کی تعلیم دیتے تھے، آج ہم میں سے بہت سے تعلیم دینے والے ایسے ہیں، جوسہولت اور آسانی کاخیال نہیں رکھتے، وہ سمجھتے ہیں کہ بس سامنے والےکے روبرو انڈیل دو، خواہ اس سے کچھ حاصل ہو یا نہیں، ظاہرہے کہ ایسی تعلیم اور تربیت سے چنداں فائدہ ہونے والا نہیں۔
ذہنی ونفسیاتی سطح کا خیال
تعلیم کا ایک نمایاں پہلویہ ہےکہ مخاطب کے ذہنی اور نفسیاتی سطح کا خیال رکھاجائے، آج کی نصابی کتابیں اس کی نمایاں مثال ہیں، نبی کریم ﷺ کے تربیت یافتہ شاگرد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے: ما أنت بمحَدِّثٍ قَومًا حديثًا لا تبلُغُه عُقولُهم إلَّا كان لبَعضِهم فِتنةً’’تم جب لوگوں سے ایسی بات بیان کرو گے، جو ان کی عقلوں کی رسائی سے باہر ہو تو یہ بات ان میں سے بعض کے لیے فتنہ بن جائے گی‘‘(مقدمہ مسلم، حدیث نمبر: ۵)، اسی لئے نبی کریم ﷺ مخاطب کی سطح پر اترکرسمجھانے کی کوشش کرتے تھے؛ چنانچہ روایت میں ہے کہ: ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجیے،(یہ سن کر) لوگ اس کی طرف جھپٹے اور اسے ڈانٹا اور کہا:رک جاؤ، رک جاؤ!آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قریب لے آؤ، وہ آپ کے قریب ہوا اور بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم اسے اپنی ماں کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: اور لوگ بھی اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے،پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟اس نے عرض کیا:نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے،آپ ﷺ نے فرمایا: اور لوگ بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے،پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: اور لوگ بھی اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے،پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: اور لوگ بھی اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے،پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اسے اپنی خالہ کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے،آپ ﷺ نے فرمایا: اور لوگ بھی اسے اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے،اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ اس کے سینے پر رکھا اور دعا دی: اے اللہ! اس کا گناہ معاف فرما، اس کا دل پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما‘‘، اس (دعا) کے بعد وہ نوجوان کسی بری چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا (مسند احمد، حدث نمبر: ۲۲۲۱۱)۔
دیکھئے! کس طرح مخاطب کے ذہنی ونفسیاتی سطح کے مطابق اترکرنبی کریم ﷺ نے انھیں سمجھایااورپھر ساتھ میں دعاؤوں سے بھی نوازا، کیا ہم بھی اس کاخیال رکھتے ہیں؟ ہم یہ توجانتے ہیں کہ کسی بھی درجہ میں طلبہ تین قسم کے ہوتے ہیں: اعلی، متوسط اور ادنی؛ لیکن ہماری کوشش کیا ہوتی ہے؟ ہم میں سے بہت ساروں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اعلی درجہ کے طلبہ سمجھ گئے تو بس ہے، نیچے والے تو ہیں ہی نہ سمجھنے کے لئے!(جاری۔۔۔۔)

ایک تبصرہ شائع کریں