جنگ آزادی میں حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا کردار

جنگ آزادی میں حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا کردار

جنگ آزادی میں حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا کردار

محمد جمیل اخترجلیلی ندوی

تمہید

ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کسی ایک واقعہ، ایک شخصیت یا ایک مختصر مدت کا نام نہیں؛بل کہ یہ ایک طویل تاریخی عمل تھا، جس کا آغاز ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے قیام کے ساتھ ہی مختلف صورتوں میں ہونے لگا تھا، ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کے ذریعہ ہندوستان میں قدم رکھا؛ لیکن رفتہ رفتہ اس نے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات پر قبضہ حاصل کرنا شروع کردیا، 1757ء کی جنگِ پلاسی کے بعد انگریزی اقتدار کو نمایاں وسعت حاصل ہوئی اور بالآخر 1803ء میں دہلی بھی انگریزوں کے زیرِ اقتدار آگیا، اس طرح مغلیہ سلطنت کا ظاہری وجود باقی رہتے ہوئے بھی حقیقی سیاسی اقتدار بڑی حد تک انگریزوں کے ہاتھ منتقل ہوگیا۔

اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں ہندوستان کے علماء نے بھی اپنی ذمہ داری محسوس کی، بعض نے علمی و دینی اصلاح کے ذریعہ مسلمانوں کی فکری تربیت کی، بعض نے سیاسی حالات کی شرعی تعبیر پیش کی اور بعض نے عملی مزاحمت کی قیادت کی، اس سلسلے میں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (1746ء –1824ء) کا مقام نہایت اہم ہے، وہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے فرزند، اپنے عہد کے ممتاز محدث، مفسر اور فقیہ تھے، ان کی سب سے نمایاں سیاسی و فقہی خدمت یہ تھی کہ انھوں نے انگریزی اقتدار کے استحکام کے بعد ہندوستان کی شرعی و سیاسی حیثیت کا جائزہ لیا اور اسے’’دارالحرب‘‘قرار دینے کا مشہور فتویٰ صادر کیا،یہ فتویٰ بعد کی مسلم مزاحمتی فکر کے لیے ایک اہم شرعی و فکری مرجع ثابت ہوا۔

شاہ ولی اللہؒ کی اصلاحی تحریک اور شاہ عبدالعزیزؒ

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کے سیاسی و فکری کردار کو سمجھنے کے لیے ان کے والد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی اصلاحی جدوجہد کو سامنے رکھنا ضروری ہے،  اورنگ زیب عالمگیرؒ کے بعد مغلیہ سلطنت مسلسل کمزوری اور انتشار کا شکار ہونے لگی، مرکزی اقتدار کمزور ہوا، علاقائی طاقتیں مضبوط ہوئیں اور مسلمانوں کی اجتماعی و سیاسی حالت زوال پذیر ہونے لگی۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس صورتِ حال کو گہری بصیرت کے ساتھ محسوس کیا، ان کی دعوت صرف انفرادی عبادات و اخلاق کی اصلاح تک محدود نہیں تھی؛ بل کہ وہ امت کے اجتماعی، معاشرتی اور سیاسی مسائل سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے، انھوں نے حکام، امراء اور بااثر طبقات کو خطوط لکھے اور مسلمانوں کے اتحاد و اجتماعی قوت کی ضرورت پر زور دیا، سید سلیمان ندویؒ شاہ ولی اللہؒ کی اصلاحی تحریک کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہندوستان پر اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہوئی کہ عین تنزل اور سقوط کے آغاز میں شاہ ولی اللہؒ کے وجود نے مسلمانوں کی اصلاح کی دعوت کا ایک نیا نظام مرتب کر دیا تھا‘‘۔( مولانا سندھیؒ کے افکار و خیالات پر ایک نظر، ص: 20)

شاہ ولی اللہؒ کے بعد ان کے فرزند حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے اس علمی و اصلاحی روایت کو آگے بڑھایا، سید سلیمان ندویؒ نے شاہ ولی اللہی خانوادے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:

’’دلی میں اسلامی حکومت کا آفتاب جب ڈوب رہا تھا تو اسی کے مطلع سے ایک اور آفتاب طلوع ہو رہا تھا، یہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خاندان تھا،سچ یہ ہے کہ حضرت شاہ وصاحب کی پیشین گوئی کے مطابق اس کے بعد جس کو ملااورجوکچھ ملا، اسی دروازہ سے ملا، ہندوستان میں ردِ بدعات کا ولولہ، ترجمۂ قرآن پاک کا ذوق، صحاحِ ستہ کا درس، شاہ اسماعیلؒ اور مولانا سید احمد بریلویؒ کا جذبۂ جہاد، فرقِ باطلہ کی تردید کا شوق، دیوبند کی تحریک، ان میں سے کون سی چیز ہے، جس کا سررشتہ اس مرکز سے وابستہ نہیں!‘‘( حیاتِ شبلی، ص 298)۔  شاہ ولی اللہی خانوادے کی یہی علمی روایت بعد میں دینی اصلاح، حدیث کی اشاعت اور بعض مزاحمتی تحریکوں کے فکری پس منظر میں نمایاں ہوئی۔

ہندوستان میں انگریزی اقتدار کا استحکام

اٹھارہویں صدی کے وسط سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے سیاسی اثرات بڑھانے شروع کیے، 1757ء کی جنگِ پلاسی کے بعد بنگال میں اس کا اقتدار مضبوط ہوا اور اس کے بعد مختلف عسکری و سیاسی کامیابیوں کے ذریعہ اس کا دائرۂ اقتدار وسیع ہوتا گیا، بالآخر 1803ء میں انگریز دہلی پر قابض ہوگئے، مغل بادشاہ کا منصب اور نام باقی رہا؛ لیکن حقیقی سیاسی اقتدار انگریزوں کے ہاتھ میں منتقل ہوگیا، شاہ عبدالعزیزؒ کے زمانے میں یہ صورتِ حال مزید واضح ہوتی چلی گئی اور مغلیہ اقتدار کی کمزوری کے مقابلے میں انگریزی اقتدار مضبوط ہوتا گیا،یہی وہ تاریخی پس منظر تھا ،جس میں حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے ہندوستان کی سیاسی اور شرعی حیثیت پر غور کیا۔

فتویٰ دارالحرب: ایک تاریخی سنگِ میل

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی سیاسی و فقہی خدمات میں سب سے زیادہ اہمیت ان کے’’فتویٰ دارالحرب‘‘کو حاصل ہے، انگریزوں کے سیاسی غلبے کے بعد انھوں نے ہندوستان کی نئی صورتِ حال کا شرعی جائزہ لیا اور ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا، اس مسئلے کا بنیادی ماخذ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ہے، فتویٰ کے فارسی متن میں انھوں نے ہندوستان کی سیاسی صورتِ حال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک داری، انتظامِ رعایا، مالیات، مقدمات کے فیصلے، جرائم کی سزائیں اور دیگر اہم حکومتی امور میں نصاریٰ کا اقتدار قائم ہوچکا ہے اور ہندوستانی باشندوں کو ان معاملات میں حقیقی اختیار حاصل نہیں رہا، فتویٰ میں حضرت شاہ عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں: ’’یہاں رؤسا نصاریٰ کا حکم بلا دغدغہ اور بے دھڑک جاری ہے‘‘، اس کے بعد وہ ملک داری، انتظامِ رعایا، خراج، مالیات، مقدمات اور جرائم کی سزاؤں سمیت مختلف حکومتی امور میں انگریز اقتدار کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔(فتاویٰ عزیزی، فارسی، ص 17؛ نیز علماء ہند کا شاندار ماضی، ج 2، ص 80)،ایک دوسرے فتویٰ میں بھی انھوں نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے سے متعلق اعتراضات کا جواب دیا اور اس مسئلے کی مزید وضاحت فرمائی۔(فتاویٰ عزیزی، فارسی، ص 105، نیز علماء ہند کا شاندار ماضی، ج 2، ص 80)۔

فتویٰ کی فقہی بنیاد

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کے فتویٰ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کسی ملک کی سیاسی و شرعی حیثیت کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس میں کچھ اسلامی شعائر باقی ہیں یا نہیں؛بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ :حقیقی اقتدار، غلبہ اور نظامِ احکام کس کے ہاتھ میں ہے؟ فتویٰ میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ اگرچہ جمعہ، عیدین، اذان اور بعض دوسرے اسلامی شعائر جاری تھے؛ لیکن ملک کے بنیادی سیاسی و انتظامی اختیارات غیر مسلم حکمرانوں کے ہاتھ میں جاچکے تھے، یہی وہ بنیادی حقیقت تھی، جس کی بنیاد پر حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے ہندوستان کی شرعی حیثیت متعین کی۔

بعد کے فقہاء نے بھی اس اصول کی وضاحت کی ہے، مفتی نسیم احمد قاسمی مظفرپوری نے لکھا ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے ہندوستان کی شرعی حیثیت متعین کرنے کے ساتھ اس شبہے کا بھی ازالہ کیا کہ بعض اسلامی شعائر کے باقی رہنے سے ہندوستان دارالاسلام قرار پائے گا، ان کے مطابق اصل اعتبار اقتدار اور احکام کے نفاذ کا ہے(مجلہ فقہ اسلامی، سیمینار نمبر 2، ص 451)، مولانا حبیب الرحمن خیرآبادیؒ نے بھی دارالاسلام اور دارالحرب کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے غلبہ، اقتدار اور نظامِ احکام کو بنیادی معیار قرار دیا ہے(مجلہ فقہ اسلامی، سیمینار نمبر 2، ص 247)، اسی طرح مفتی نظام الدین صاحب نے ’’نظام الفتاویٰ‘‘ میں لکھا ہے کہ محض امن و اطمینان، شہری حقوق یا مسلمانوں کی سیاسی شرکت کسی ملک کو دارالاسلام نہیں بناتی، جب تک مسلمانوں کو اقتدارِ اعلیٰ اور اسلامی احکام کے نفاذ کا اختیار حاصل نہ ہو۔(نظام الفتاویٰ، ج 2، ص 199) 

فتویٰ اور انگریز مخالف مزاحمت

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا فتویٰ محض ایک نظری فقہی بحث نہ تھا، اس نے ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے بارے میں مسلمانوں کی سیاسی و شرعی سوچ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اس فتویٰ کے ذریعہ یہ واضح ہوگیا کہ ہندوستان کے سیاسی اقتدار میں ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوچکی ہے اور انگریز اب صرف تاجر نہیں؛ بل کہ حاکم اور صاحبِ اقتدار بن چکے ہیں، اس فتویٰ کی اہمیت کو پروفیسر خلیق احمد نظامی نے نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا ہے:  

’’شاہ عبد العزیزؒ نے ہندوستان کو ’’دارالحرب‘‘ قرار دے کر غیر ملکی اقتدار کے خلاف سب سے پہلا اور سب سے زیادہ مؤثر قدم اٹھایا، اس فتوے کی اہمیت کو وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں، جو ’’دارالحرب‘‘ کے صحیح مفہوم کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی سیاست پر خاندانِ ولی اللہؒ کے اثرات کا بھی صحیح علم رکھتے ہوں،سید احمد شہیدؒ، مولانا اسماعیل شہیدؒ نے اپنے سیاسی فکر میں انگریزی اقتدار کو جو درجہ دیا تھا، اس کی بنیاد یہی فتوی تھا‘‘(1857ء کا تاریخی روزنامچہ، ص 11)

یہ اس بات کی اہم شہادت ہے کہ شاہ عبدالعزیزؒ کے فتویٰ نے بعد کے مجاہدین کی سیاسی فکر کو متاثر کیا، خصوصاً سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک کو شاہ ولی اللہی خانوادے کی علمی روایت کے تسلسل میں دیکھا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ بعد کی تمام انگریز مخالف تحریکوں کو صرف ایک فتویٰ کا براہِ راست نتیجہ قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہوگا، مختلف علاقوں میں مزاحمت کے اپنے سیاسی، معاشی، مذہبی اور مقامی اسباب بھی تھے؛ تاہم شاہ عبدالعزیزؒ کا فتویٰ انگریزی اقتدار کے خلاف مسلم مزاحمتی فکر کا ’’ایک نہایت اہم شرعی و فکری مرجع‘‘ ضرور تھا۔

سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک

شاہ عبدالعزیزؒ کی وفات 1824ء میں ہوئی؛ لیکن ان کی علمی و فکری میراث ان کے بعد بھی جاری رہی، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک اسی وسیع تر ولی اللہی علمی روایت کے اہم مظاہر میں شمار ہوتی ہے، خاص طور پر شاہ عبدالعزیزؒ کے فتویٰ نے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے غیر ملکی اقتدار کے بارے میں ایک واضح فقہی تصور پیش کیا تھا، بعد کی مزاحمتی تحریکوں نے اپنے اپنے حالات میں اس فکری ورثے سے استفادہ کیا، اسی لیے حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی خدمات کو صرف ایک فتویٰ کے اجراء تک محدود کرنا بھی مناسب نہیں، ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے علم، فقہ اور سیاسی بصیرت کو اپنے عہد کے عملی مسائل سے مربوط کیا۔

1857ء کی جنگِ آزادی اور حضرت شاہ عبدالعزیزؒ

1857ء کی جنگِ آزادی ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے؛ لیکن حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کے کردار کے سلسلے میں تاریخی ترتیب کی رعایت ضروری ہے، ان کا انتقال 1824ء میں ہوچکا تھا، جب کہ 1857ء کی جنگ تقریباً تینتیس برس بعد ہوئی؛اس لیے حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کو 1857ء کے مجاہد یا سپہ سالار کہنا تاریخی طور پر درست نہیں، ان کی اہمیت اس سے پہلے کی اس فکری و فقہی مزاحمت میں ہے، جس نے بعد کی نسلوں کو انگریزی اقتدار کے بارے میں ایک مخصوص سیاسی و شرعی شعور فراہم کیا۔

اس اعتبار سے 1857ء کی جنگ کے پس منظر میں حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا ذکر’’فکری پیش رو‘‘کے طور پر زیادہ موزوں ہے، انھوں نے میدانِ جنگ میں قیادت نہیں کی؛ لیکن انھوں نے انگریزی اقتدار کی شرعی حیثیت پر وہ سوال اٹھایا ،جس نے بعد کے مسلم سیاسی اور مزاحمتی فکر کو متاثر کیا۔

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا تاریخی مقام

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی عظمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کے سیاسی تغیرات کو صرف دنیاوی واقعات سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا؛ بل کہ انہیں دینی و فقہی زاویے سے بھی دیکھا، انھوں نے محسوس کیا کہ انگریزی اقتدار صرف تجارتی قوت نہیں رہا؛بل کہ ہندوستان کے سیاسی و انتظامی اختیارات پر قابض ہوچکا ہے؛ چنانچہ انھوں نے ہندوستان کی سیاسی حیثیت کے بارے میں واضح شرعی موقف اختیار کیا، یہ موقف ایک ایسے دور میں سامنے آیا ،جب انگریزوں کی قوت بڑھ رہی تھی اور مغلیہ اقتدار مسلسل کمزور ہوتا جارہا تھا۔

ان کی یہ خدمت اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو سیاسی غلامی کی حقیقت کا احساس دلایا اور اس مسئلے کو فقہی زبان میں بیان کیا، ان کا فتویٰ بعد کے دور میں انگریز مخالف مسلم مزاحمت کے لیے ایک اہم فکری سرمایہ بن گیا۔

خلاصہ یہ کہ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ برصغیر کی تاریخ میں ایک عظیم محدث و فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی اقتدار کے خلاف ابتدائی علمی و فقہی مزاحمت کے اہم ترین علم برداروں میں شمار ہوتے ہیں، انھوں نے اپنے والد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی علمی و اصلاحی روایت کو اپنے عہد کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے جوڑا اور ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے استحکام کے بعد اس کی شرعی و سیاسی حیثیت کا جائزہ لیا۔

ان کا’’فتویٰ دارالحرب‘‘ اسی تاریخی شعور کا سب سے نمایاں اظہار تھا، اس فتویٰ میں انھوں نے واضح کیا کہ ملک کے حقیقی اقتدار، انتظامی اختیارات، مالیات اور عدالتی نظام پر جب غیر ملکی اقتدار قائم ہوجائے تو صرف بعض اسلامی شعائر کے باقی رہنے سے اس بنیادی سیاسی حقیقت میں تبدیلی نہیں آتی۔

یہ فتویٰ بعد کے مسلم مزاحمتی فکر کے لیے ایک اہم فکری و فقہی مرجع ثابت ہوا اور بالخصوص سید احمد شہیدؒ و شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک کے سیاسی فکر پر اس کے اثرات کی صراحت پروفیسر خلیق احمد نظامی جیسے مؤرخ نے بھی کی ہے؛ اس لیے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا مقام 1857ء کے براہِ راست مجاہد یا سپہ سالار کا نہیں؛ بل کہ انگریزی اقتدار کے خلاف علمی، فقہی اور فکری مزاحمت کے اولین اور مؤثر علم بردارکا ہے، ان کا فتویٰ دارالحرب اسی جدوجہد کی سب سے نمایاں علامت ہے اور برصغیر کی تحریکِ مزاحمت کی فکری تاریخ میں اسے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی