رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کمائی کے نقصانات

رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کمائی کے نقصانات

رزقِ حلال کی اہمیت اور حرام کمائی کے نقصانات

محمد جمیل اخترجلیلی ندوی


اسلام صرف ایک دین ہی نہیں؛ بل کہ مکمل نظام زندگی اورضابطۂ حیات ہے، اس نے صرف عبادات ہی کی تعلیم نہیں دی؛بل کہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فرمائی ہے، انہی اہم شعبوں میں سے ایک’’ رزق‘‘ کا شعبہ ہے۔

اسلام نے صرف کمانے؛ بل کہ زیادہ کمانے کی تعلیم نہیں دی؛بل کہ حلال کمانے کی تعلیم دی ہے؛ اس لیے ایک مسلمان کی کامیابی اس کی آمدنی کی کثرت میں نہیں، اس کی پاکیزگی میں ہے۔

آج ہمارے معاشرہ میں دولت کمانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، صبح پو پھٹتے ہی جس چیز کی پہلی فکرہوتی ہے، وہ ’’فکرمعاش‘‘ ہے، جو لوگ ملازمت پیشہ ہیں، انھیں بھی یہی فکر ہوتی ہے کہ ہمیں وقت پرجائے ملازمت پہنچنا ہے اور جو مزدورطبقہ کے ہوتے ہیں، انھیں بھی یہی فکرستاتی ہے کہ جلد اٹھ کرکام تلاش کرناہے، بسی اسی فکرمیں صبح ہورہی ہے اور اسی فکر میں شام ہورہی ہے۔

لوگ یہ تو پوچھتے ہیں کہ ’’کتنا کمایا؟‘‘؛لیکن بہت کم لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ’’کیسے کمایا؟‘‘؛ حالاں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے یہاں سوال مال کی مقدار کا نہیں، اس کے ذریعہ کا ہوگا، حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:لا تَزولُ قَدَمَا عَبْدٍ يومَ القيامةِ، حتَّى يُسأَلَ عن عُمُرِه؛ فيمَ أفناه؟ وعن عِلْمِه؛ فيم فعَلَ فيه؟ وعن مالِه؛ من أين اكتسَبَه؟ وفيم أنفَقَه؟ وعن جِسمِه؛ فيمَ أبلاه؟’’قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک (اپنی جگہ سے) نہیں ہٹ سکیں گے، جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے:اس کی عمر کے بارے میں؛ کہ اسے کس چیز میں کھپایا؟اس کے علم کے بارے میں؛ کہ اس پر کہاں تک عمل کیا؟اس کے مال کے بارے میں؛ کہ اسے کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا؟اس کے جسم کے بارے میں؛ کہ اسے کس کام میں تھکایا ؟(سنن الترمذی، حدیث نمبر: 2417)۔

اس حدیث میں واضح کردیاگیاہے کہ قیامت کے دن مال کی مقدار کے بارے میں سوال نہیں ہوگا کہ کتنا کمایا؟ بل کہ ذریعہ(Source) کے بارے میں ہوگاکہ کہاں سے کمایا؟ سوچئے اور غور کیجئے کہ کبھی ہم نے اس پہلوسے سوچا ہے؟ہماری توسوچ کی انتہایہ ہوتی ہے کہ ماہانہ کتنا کما لیا؟ راشن پانی کے لئے پورے پیسے جمع ہوئے یانہیں؟ اسکول کی فیس جمع ہوپائی یانہیں؟ بلوں کی جولمبی قطارہے، اس کی بھرپائی کے لئے پیسے اکٹھے ہوئے یانہیں؟ یقیناً یہ فکربہت اہمیت کی حامل ہے اور اس کی فکرنا اوراس تعلق سے سوچنا ہماری مجبوری بھی ہے؛ لیکن مسلمان ہونے کے ناتے اس سے زیادہ فکرکی بات یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ کن ذرائع سے ہم مال کمارہے ہیں؟ اگرہم نے یہ نہیں سوچاتو پھرہم میں اور غیروں میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہ جاتا۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف کھانے پینے کا حکم نہیں دیاہے؛ بل کہ ’’حلال‘‘ کھانے کاحکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا﴾’’اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں، ان میں سے کھاؤ‘‘(البقرۃ: 168)، پھر ایمان والوں کو خاص طور پر حکم دیا:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾’’اے ایمان والو! ہم نے تمھیں جو پاکیزہ رزق عطا کیا ہے، اس میں سے کھاؤ‘‘، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں عبادت کے ساتھ پاکیزہ اور حلال رزق کا اہتمام بھی مطلوب ہے۔

اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:إنَّ الحلالَ بيِّنٌ وإنَّ الحرامَ بيِّنٌ وبينهما أمورٌ مُشتبِهاتٌ لا يعلمهنَّ كثيرٌ من الناس فمنِ اتَّقى الشُّبُهاتِ استبرأ لدِينِه وعِرضِه ، ومن وقع في الشُّبهاتِ وقع في الحرامِ ...’’بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ شُبے والی چیزیں ہیں، جنھیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص شبہات سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ گیا‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر:52، وصحیح مسلم، حدیث نمبر:1599)،لہٰذا مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ صرف حرام سے ہی نہیں؛بل کہ مشتبہ چیزوں سے بھی بچنے کی کوشش کرے۔

حرام کمائی کی بڑی نحوست یہ ہے کہ وہ دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا...(اللہ کی ذات پاک ہے اورپاکیزہ چیزوں کوہی قبول کرتا ہے) پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفرطے کرتا ہے، گرد و غبار میں اٹا ہوا ہے، دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتا ہے؛ لیکن اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے، تو فرمایا:فأنَّى يُستَجابُ لذلك؟(پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی؟) (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1015)، آج ہم اکثریہ تو شکایت کرتے ہیں کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں، گھروں سے برکت ختم ہوگئی، اولاد نافرمان ہوگئی، سکون باقی نہیں رہا؛ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے رزق کا بھی جائزہ لیاہے کہ وہ کن ذرائع سے آرہا ہے؟

حرام کمائی کا نقصان صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا؛ بل کہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں،جب معاشرہ میں رشوت، دھوکہ دہی، سود، ملاوٹ، خیانت اور دیگر ناجائز ذرائع سے مال کمانے کا رجحان بڑھتا ہے تو باہمی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے، کاروبار اور معیشت کمزور ہوتی ہے، بدعنوانی اور کرپشن عام ہوتی ہے اور معاشی ناانصافی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور کمزور طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے، اس طرح حرام کمائی نہ صرف مال کی برکت کو ختم کرتی ہے؛ بل کہ معاشرہ کے اخلاقی، معاشی اور اجتماعی نظام کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔

حرام کمائی صرف رشوت (Bribe) کا نام نہیں؛ بل کہ ہر وہ مال، جو ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے، حرام ہے، اس میں رشوت کے ساتھ ساتھ سودی معاملات، دھوکہ دہی، ملاوٹ، جھوٹ بول کر تجارت کرنا، ناپ تول میں کمی کرنا، سرکاری یا عوامی مال میں خیانت، قانونی اعتبار سے واجب ٹیکس کی چوری، دوسروں کے حقوق غصب کرنا، آن لائن فراڈ، سائبر دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات کے ذریعہ مال حاصل کرنا، نیز سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعہ جھوٹے اشتہارات اور فریب دہ تشہیر کرنا، جعلی فالوورز یا ویوز فروخت کرنا، لوگوں کو سرمایہ کاری یا انعامات کے نام پر دھوکہ دینا، فحش، بے حیائی یا گمراہ کن مواد سے آمدنی حاصل کرنا، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسروں کا مواد اپنے نام سے شائع کرکے مالی منفعت حاصل کرنا، کلک بیٹ (Clickbait) اور جھوٹی خبروں کے ذریعہ آمدنی کمانا، غیر شرعی یا حرام مصنوعات و خدمات کی تشہیر کے بدلے معاوضہ لینا، آن لائن جوا (Online Gambling)، بیٹنگ ایپس (Betting Apps)، بعض اقسام کی فینٹسی گیمنگ (Fantasy Gaming)، دھوکہ دہی پر مبنی کرپٹو اسکیمز (Crypto Scams)، فریب پر مبنی ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM) اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جعلی تصاویر یا ویڈیوز (Deepfake) تیار کرکے لوگوں کو دھوکہ دینا یا ان سے ناجائز مالی منفعت حاصل کرنا بھی شامل ہے،یہ تمام ذرائع اگر جوا، دھوکہ، فریب، باطل طریقے سے مال کھانے، حرام کام میں تعاون یا لوگوں کے حقوق پامال کرنے پر مشتمل ہوں تو اسلامی شریعت کی رو سے ناجائز اور حرام ہیں۔

افسوس کہ ہم میں سے بعض لوگ ایک حرام ذریعہ سے بچتے ہیں؛ لیکن دوسرے حرام ذریعہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں، کوئی رشوت سے بچ کر سود میں مبتلا ہے، کوئی سود سے بچ کر دھوکہ دہی اور ملاوٹ کا شکار ہےاور کوئی تجارت میں جھوٹ کو کامیابی کا لازمی ذریعہ سمجھتا ہے؛حالاں کہ مسلمان کی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ حرام کے ایک ذریعہ سے بچ جائے؛ بل کہ اس میں ہے کہ وہ اپنی پوری کمائی کو حلال ذرائع تک محدود رکھے۔

جس طرح حرام کمائی انسان کی دنیا و آخرت کو نقصان پہنچاتی ہے، اسی طرح رزقِ حلال انسان کی زندگی میں خیر و برکت کا ذریعہ بنتا ہے، حلال کمائی سے دل کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے، عبادت میں لذت پیدا ہوتی ہے، دعا کی قبولیت کی امید بڑھتی ہے اور اولاد کی صالح تربیت میں مدد ملتی ہے، حلال مال اگرچہ بظاہر کم ہو؛ لیکن اس میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے، مزید یہ کہ جب معاشرہ میں لوگ حلال ذرائع سے کمائی کرتے ہیں تو باہمی اعتماد، دیانت داری اور معاشرتی استحکام فروغ پاتا ہے؛ اس لیے مسلمان کے لیے اصل کامیابی زیادہ مال جمع کرنا نہیں؛ بل کہ پاکیزہ اور حلال مال کما کر اسے جائز طریقے سے استعمال کرنا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ’’کسی شخص نے اپنی محنت کی کمائی سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا‘‘(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 2072)، یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی محنت کی، حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے، خود نبی کریم ﷺ نے بھی تجارت کی ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم کمائی ضرور کریں، خالی ہاتھ کبھی بھی نہ بیٹھیں، حلال روزی کمانے میں کبھی بھی شرم کو آڑے نہ آنے دیں؛ لیکن حرام ذرائع کا انتخاب نہ کریں اور ایسے ذرائع سے بھی بچیں، جو شریف لوگوں کے حق میں مناسب نہ ہوں۔

لہٰذا ہمیں اپنے گھروں کا جائزہ لینا چاہیےکہ جو لقمہ ہم اپنے بچوں کو کھلا رہے ہیں، وہ حلال ہے یا نہیں؟ حلال لقمہ ایمان، اخلاق اور صالح تربیت کی بنیاد بنتا ہے، جب کہ حرام لقمہ دلوں کو سخت کر دیتا ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لا يربو لحمٌ نبتَ من سحتٍ إلَّا كانتِ النَّارُ أولى بِهِ’’جو جسم حرام مال سے پروان چڑھے، آگ اس کا زیادہ حق رکھتی ہے‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:614)؛ اس لیے اگر ہماری کمائی میں کوئی حرام ذریعہ شامل ہو تو فوراً توبہ کریں، ناجائز مال سے دست بردار ہوں؛ کیوں کہ حلال کمائی صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں؛ بل کہ ایمان، عبادت، اخلاق، خاندان اور معاشرہ کی پاکیزگی کی بنیاد ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے، حرام سے محفوظ رکھے، ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ہمارے گھروں میں برکتیں نازل فرمائے، آمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی