بیوی کی ازدواجی ذمہ داریاں: ایک شرعی اور اخلاقی مطالعہ
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
اسلام نے نکاح کوصرف ایک سماجی معاہدہ نہیں؛ بل کہ محبت، رحمت، سکون اور باہمی تعاون پر قائم ایک مقدس رشتہ قرار دیا ہے، اس رشتے کے استحکام کے لیے شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی دونوں کے حقوق و فرائض کو نہایت متوازن انداز میں بیان کیا ہے؛ تاکہ خاندان محبت، اعتماد اور حسنِ معاشرت کی بنیاد پر پروان چڑھے، عموماً ازدواجی زندگی میں حقوق کا تذکرہ تو زیادہ ہوتا ہے؛ لیکن ذمہ داریوں کی طرف کم توجہ دی جاتی ہے، حالاں کہ اسلام میں حق اور ذمہ داری ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
گزشتہ مضمون میں شوہر کی ازدواجی ذمہ داریوں کا جائزہ پیش کیا گیا تھا، اس مضمون میں بیوی کی ان ذمہ داریوں کو بیان کیا جا رہا ہے، جو شریعت نے اس پر عائد کی ہیں، ان ذمہ داریوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱) شرعی ذمہ داریاں، (۲) اخلاقی اور خاندانی ذمہ داریاں، سب سے پہلے ان ذمہ داریوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن کی ادائیگی شریعت نے بیوی پر لازم قرار دی ہے۔
۱- شوہر کی اطاعت
ازدواجی زندگی میں خاندانی نظم و استحکام کے لیے اسلام نے شوہر کو قوام اور ذمہ دار بنایا ہے، اسی لیے بیوی پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ جائز امور میں شوہر کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی سے بچے، نبی کریم ﷺ نے اس حق کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:’’اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘(ترمذی: 1159)، محدثین نے اس حدیث سے شوہر کے حق کی عظمت کو بیان کیا ہے؛کیوںکہ سجدہ توصرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی جائز ہے (مرقاۃ المفاتیح: 6/369)؛ البتہ شوہر کی اطاعت سے مراد ہرگز اندھی اطاعت نہیں؛ بل کہ صرف ان امور میں اس کی بات ماننا ضروری ہے، جو شریعت کے مطابق ہوں، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’مخلوق کی اطاعت خالق کی نافرمانی میں نہیں‘‘ (مسند احمد: 1095)؛ چنانچہ اگر شوہر کسی گناہ یا شریعت کے خلاف کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہوگی،نیز فقہاء نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ کن چیزوں میں شوہرکی اطاعت کی جائے؟ جس کاخلاصہ یہ ہے کہ: بیوی حقوقِ زوجیت کی ادائیگی، گھر سے باہر جانے میں اجازت، نفلی عبادات میں شوہر کے حق کا لحاظ، شوہر کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہ کرنا، فرائض کی ادائیگی اور حرام امور سے اجتناب جیسے امور میں اطاعت کرے۔
موجودہ دور میں ازدواجی اختلافات کا ایک بڑا سبب حقوق و فرائض کے توازن کو نظر انداز کرنا ہے؛ اس لیے میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ شریعت کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔
۲- عفت و عصمت کی حفاظت
عورت کی عزت و عصمت اسلام کی نظر میں نہایت قیمتی امانت ہے، نکاح کے بعد اس کی حفاظت صرف اس کی ذاتی ذمہ داری نہیں رہتی؛ بل کہ اس سے شوہر، خاندان اور معاشرہ کی عزت بھی وابستہ ہو جاتی ہے، اسی لیے شریعت نے ہر اس راستے سے بچنے کا حکم دیا ہے، جو بے حیائی یا بدکرداری کا ذریعہ بن سکتا ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا اپنی بیویوں پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے گھروں میں ایسے شخص کو داخل نہ ہونے دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو‘‘ (مسلم: 1218)، محدثین نے اس سے مراد غیر محرم افراد کو بلا ضرورت گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا بیان کیا ہے (معالم السنن: 2/200)، اسی طرح بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنی عزت، پردے اور پاکدامنی کی حفاظت کرے، غیر محرم مردوں سے غیر ضروری اختلاط سے بچے اور اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق رکھے،قرآن کریم نے خواتین کو پردے، حیا اور زینت کی نمائش سے اجتناب کا حکم دیا ہے (الأحزاب: 33)، آج کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں یہ ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے؛ کیوںکہ معمولی بے احتیاطی بھی پورے خاندان کے سکون کو متاثر کر سکتی ہے۔
۳- آپسی راز کی حفاظت
مال کی حفاظت کے ساتھ شوہر کے رازوں کی حفاظت بھی نہایت ضروری ہے، اس سے ازدواجی زندگی اعتماد پر قائم ہوتی ہے؛ اس لیے میاں بیوی کے درمیان ہونے والی نجی باتوں کو دوسروں تک پہنچانا شریعت میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین لوگوں میں وہ شخص ہوگا، جو اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے، پھر اس کے راز لوگوں میں بیان کرے‘‘ (مسلم: 1437)، یہی حکم بیوی کے لیے بھی ہے، آج سوشل میڈیا کے دور میں گھریلو معاملات، نجی گفتگو اور خاندانی اختلافات کو عوام کے سامنے لانا ایک سنگین اخلاقی خرابی بن چکا ہے؛ اس سے اعتماد مجروح ہوتا اور رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں،لہٰذا بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کے مال، عزت اور رازوں کی امین بن کر رہے اور ازدواجی زندگی کے اعتماد کو ہر حال میں برقرار رکھے۔
۴- بچے کو دودھ پلانا(رضاعت )
بچے کی صحت، نشوونما اور جسمانی قوت کے لیے ماں کا دودھ بہترین غذا ہے، اسی لیے شریعت نے رضاعت کو خصوصی اہمیت دی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں‘‘(البقرۃ: 233)؛البتہ فقہائے کرام نے وضاحت کی ہے کہ ہر حال میں بچے کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں؛ بل کہ بعض مخصوص صورتوں میں یہ ذمہ داری لازم ہو جاتی ہے، مثلاً جب ماں کے علاوہ دودھ پلانے والی کوئی دوسری عورت موجود نہ ہو، یا بچہ ماں کے علاوہ کسی اور کا دودھ قبول نہ کرتا ہو (مفاتح الغیب: 6/469)، اسی طرح اگر باپ اتنا تنگ دست ہو کہ دودھ پلانے والی کی اجرت ادا نہ کر سکتا ہو تو بھی ماں پر بچے کو دودھ پلانا واجب ہوگا (رد المحتار: 5/347)، آج کے دور میں اگرچہ متبادل غذائیں اور طبی سہولیات موجود ہیں؛ لیکن ماہرینِ طب بھی اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کے لیے ماں کا دودھ سب سے زیادہ مفید اور محفوظ غذا ہے؛اس لیے جہاں کوئی شرعی یا طبی عذر نہ ہو، وہاں ماں کو اس اہم ذمہ داری کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
۵- شوہرکی وفات کے بعدسوگ
ازدواجی زندگی محبت، وفاداری اور باہمی رفاقت کا رشتہ ہے؛ اس لیے جب شوہر کا انتقال ہو جائے تو شریعت نے بیوی کو اس صدمہ کے اظہار، شوہر کے احترام اور رحم کی فراغت کے لیے ایک متعین مدت تک سوگ منانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ بیویاں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں رکھیں‘‘(البقرۃ: 234)، اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’کسی ایسی عورت کے لیے، جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے؛ البتہ شوہر پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی‘‘(بخاری: 1280)،فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا بیوی پر شرعاً واجب ہےاور اس کی اصل قرآنِ کریم سے ثابت ہے (شرح صحیح البخاری لابن بطال: 3/269)،لہٰذا ہر مسلمان عورت کو چاہیے کہ شوہر کی وفات پر سوگ کے شرعی احکام کی پابندی کرے؛ کیوں کہ یہی شوہر کے حق کی رعایت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے۔
۶- عدت کی پابندی
اسلام نے نکاح کے اختتام کے بعد بعض حالات میں عورت پر عدت لازم قرار دی ہے، جو صرف ایک شرعی حکم ہی نہیں؛ بل کہ نسب کے تحفظ، رحم کی فراغت، نکاح کی حرمت کے احترام اور خاندانی نظام کے استحکام کا اہم ذریعہ بھی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں‘‘(البقرۃ: 228)، نیز شوہر کی وفات کی صورت میں فرمایا:’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ بیویاں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں رکھیں‘‘(البقرۃ: 234)، فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ عدت کی پابندی ان عورتوں پر شرعاً واجب ہے، جن پر شریعت نے عدت لازم کی ہے؛ اس لیے عدت کی مدت میں بلا ضرورت نکاح یا اس کے تقاضوں کی طرف پیش قدمی کرنا جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع:3/192، رد المحتار: 3/503)
آج کے دور میں بعض اوقات عدت کے احکام سے غفلت یا لا علمی کی بنا پر شرعی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں؛ اس لیے ہر مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ عدت سے متعلق احکام کو اچھی طرح سمجھے اور ان کی مکمل پابندی کرے؛ کیوں کہ یہی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اسلامی خاندانی نظام کے تحفظ کا تقاضا ہے۔
اخلاقی وخاندانی ذمہ داریاں
قانونی اور شرعی ذمہ داریوں کے علاوہ بعض ایسے اخلاقی فرائض بھی ہیں، جن کی ادائیگی سے ازدواجی زندگی میں محبت، اعتماد اور باہمی تعاون فروغ پاتا ہے، اگرچہ ان امور پر بیوی کو قانونی طور پر مجبور نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن حسنِ معاشرت اور خاندانی استحکام کے لیے ان کی بڑی اہمیت ہے، ان اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے نہ صرف میاں بیوی کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں؛ بل کہ سسرال والوں کے ساتھ بھی محبت، احترام اور خوش گوار تعلقات قائم رہتے ہیں، ان میں چند اہم ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
۱- شوہر کی خدمت
شریعت نے بیوی کو شوہر کی خادمہ یا ملازمہ قرارنہیں دیا؛ اس لیے اگر وہ خدمت نہ کرے تو شوہر قانونی طور پر اسے اس پر مجبور نہیں کر سکتا؛ تاہم حسنِ معاشرت اور باہمی محبت کے تقاضے کے تحت شوہر کی خدمت کرنا ایک اہم اخلاقی ذمہ داری ہے،یہی خدمت میاں بیوی کے درمیان محبت، الفت اور اعتماد کو مضبوط بناتی ہے، خود ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتی تھیں، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف کے دوران اپنا سر میرے قریب کر دیتے تھے؛ تاکہ میں آپ کے بال سنوار دوں (مسند احمد: 25484)، نیز وہ آپ ﷺ کو خوشبو بھی لگایا کرتی تھیں (بخاری: 5923)، فقہائے کرام نے بھی حسنِ معاشرت کے پیشِ نظر شوہر کی خدمت کو اخلاقی اعتبار سے بیوی کی ذمہ داری قرار دیا ہے؛چنانچہ امام ابو حنیفہؒ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو شوہر کی خدمت کے لیے اجرت پر رکھے تو یہ درست نہیں؛ کیوںکہ حسنِ معاشرت کے اعتبار سے شوہر کی خدمت بیوی پر دیانۃً لازم ہے (المحیط البرہانی: 7/451)، لہٰذا اگرچہ شوہر کی خدمت قانونی فریضہ نہیں؛ لیکن خوش گوار ازدواجی زندگی، مضبوط باہمی تعلقات اور حسنِ معاشرت کے لیے یہ ایک نہایت اہم اخلاقی ذمہ داری ہے۔
۲- ساس، سسر اورسسرالی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک
جس طرح شوہر کی خدمت قانونی ذمہ داری نہیں، اسی طرح ساس، سسر یا دیگر سسرالی رشتہ داروں کی خدمت بھی شرعاً بیوی پر لازم نہیں ہے؛ اس لیے شوہر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بیوی کو اس پر مجبور کرے یا خدمت نہ کرنے پر اس کے ساتھ سختی کرے؛ البتہ اگر ساس سسر خدمت کے محتاج ہوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی دوسرا موجود نہ ہو تو اخلاقی اعتبار سے ان کی خدمت کرنا باعثِ اجر اور حسنِ معاشرت کا تقاضا ہے،اگر خدمت کرنے والا کوئی اور بھی موجود ہو، تب بھی بیوی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اسے اپنے شوہر کے ساتھ تعاون اور خاندانی محبت کا ذریعہ سمجھے۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ لکھتے ہیں کہ شوہر کے والدین کی خدمت اصل میں شوہر کی ذمہ داری ہے؛ لیکن جب وہ اپنی بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں مشغول ہو تو اخلاق و دیانت کا تقاضا ہے کہ بیوی اس ذمہ داری میں اس کا تعاون کرے۔ البتہ شوہر کے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت بیوی پر لازم نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ اعتدال بھی ضروری ہے؛ نہ تو گھر کی تمام ذمہ داریاں صرف بہو پر ڈال دینا درست ہے اور نہ ہی بیوی کا اپنے شوہر اور ضرورت مند ساس سسر کی خدمت سے بالکل کنارہ کش ہو جانا مناسب ہے (کتاب الفتاویٰ: 4/409-410)، یہی متوازن طرزِ عمل اسلامی خاندانی نظام کو مضبوط اور خوش گوار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
۳- گھریلو کام کاج میں تعاون
گھر کی صفائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور دیگر گھریلو امور اگرچہ عام طور پر بیوی ہی انجام دیتی ہے؛ لیکن فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ یہ کام قانونی طور پر اس پر لازم نہیں ہیں، اسی لیے اگر وہ کھانا پکانے سے انکار کرے تو شوہر اسے اس پر مجبور نہیں کر سکتا (بدائع الصنائع: 4/24)؛ البتہ بعض فقہاء نے یہ وضاحت کی ہے کہ اگر بیوی کسی ایسے خاندان سے تعلق نہ رکھتی ہو، جہاں خادم رکھنے کا معمول ہو، یا اس کے لیے کوئی شرعی عذر نہ ہو، تو عرف اور معاشرت کے اعتبار سے اس سے گھریلو کام کی توقع کی جا سکتی ہے (بدائع الصنائع: 4/24)، بہرحال! فقہائے کرام کی تصریحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گھریلو کام قانونی ذمہ داری نہیں؛ بل کہ حسنِ معاشرت اور خاندانی تعاون کے لحاظ سے یہ بیوی کی ایک اہم اخلاقی ذمہ داری ہے،اسی بنا پر فقہائے کرام نے اسے دیانۃً مطلوب قرار دیا ہے (المحیط البرہانی: 3/564)، اسی کے ساتھ گھر کے دیگر افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں اعتدال اختیار کریں، تمام گھریلو کام صرف بہو کے سپرد کر دینا درست نہیں؛ بل کہ گھر کے دوسرے افراد کو بھی حسبِ استطاعت تعاون کرنا چاہیے، اسی طرح اگر بہو اخلاص کے ساتھ گھر کے کام انجام دیتی ہے تو اس کی قدر دانی بھی ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے شکر گزاری کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:’’اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘ (ابراہیم: 7)اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا‘‘(ترمذی: 1955)، لہٰذا گھر کے افراد کو چاہیے کہ وہ بہو کی خدمت اور محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں، زبان سے اس کا شکریہ ادا کریں اور وقتاً فوقتاً تحائف یا حوصلہ افزائی کے ذریعہ اس کی دل جوئی کریں، اس طرزِ عمل سے گھریلو فضا خوش گوار رہتی ہے، محبت بڑھتی ہے اور خاندانی نظام زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
۴- بچوں کی تربیت
اولاد کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اگرچہ نسب اور کفالت کے اعتبار سے اس کی اصل ذمہ داری باپ پر عائد ہوتی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی باپ نے اپنی اولاد کو حسنِ ادب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا‘‘ (مسند احمد: 15403)؛ تاہم بچے کی شخصیت سازی میں ماں کا کردار نہایت بنیادی اور مؤثر ہوتا ہے؛ کیوں کہ بچہ اپنی ابتدائی زندگی کا زیادہ حصہ ماں کی نگرانی اور تربیت میں گزارتا ہے، اسی بنا پر شریعت نے ماں کو بھی اخلاقی طور پر اس ذمہ داری کا مکلف قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے، اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘ (بخاری: 7138)، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں پر بچوں کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کا خصوصی اہتمام کرنا ایک اہم اخلاقی ذمہ داری ہے، اگر والد اور والدہ دونوں اپنی اس ذمہ داری کو حسن و خوبی کے ساتھ ادا کریں تو گھر کا ماحول صالح بنتا ہے، اولاد نیک کردار کی حامل ہوتی ہے اور ایک مضبوط اسلامی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
مذکورہ بالا سطور میں بیوی کی ان اہم ازدواجی ذمہ داریوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جنہیں شریعتِ مطہرہ نے ایک خوش گوار، پائیدار اور باوقار خاندانی زندگی کے لیے ضروری قرار دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جس طرح شوہر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مکلف ہے، اسی طرح بیوی بھی اپنے فرائض کی پابند ہے، اسلام کا خاندانی نظام یک طرفہ حقوق پر نہیں؛ بل کہ باہمی تعاون، محبت، ایثار اور ذمہ داری کے اصول پر قائم ہے، اگر میاں بیوی دونوں اپنے اپنے فرائض کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر ادا کریں، تو گھر سکون و محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے، اولاد کی بہترین تربیت ممکن ہو سکتی ہے اور معاشرہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ خوش حال ازدواجی زندگی صرف حقوق کا مطالبہ کرنے سے نہیں؛ بل کہ اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خوش دلی کے ساتھ ادا کرنے سے وجود میں آتی ہے، اللہ تعالیٰ تمام مسلمان خاندانوں کو شریعت کے ان حسین اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے گھروں کو محبت، رحمت، سکون اور خیر و برکت کا گہوارہ بنائے، آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں