شوہر کی ازدواجی ذمہ داریاں: ایک شرعی و اخلاقی مطالعہ
محمدجمیل اختر جلیلی ندوی
اسلام نے نکاح کو ایک نہایت مقدس اور ذمہ دارانہ رشتہ قرار دیا ہے، اس رشتہ کے استحکام کے لیے شریعت نے میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض کا ایک مکمل نظام وضع کیا ہے،آج کے مضمون میں صرف شوہر کی ذمہ داریوں پربات کی جائے گی، آئندہ مضمون میں ان شاء اللہ بیوی کی ذمہ داریوں پر بات ہوگی،شوہرپرجوذمہ داریاں بیوی کے تعلق سے عائد ہوتی ہیں، ان کودوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے:(۱)شوہر کی غیر مالی ذمہ داریاں (۲) شوہرمالی ذمہ داریاں، سب سے پہلے ہم شوہر کی غیرمالی ذمہ داریوں کا تذکرہ کریں گے، جودرج ذیل ہیں:
۱- بنیادی دینی تعلیم اور تربیت: بیوی کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کرنا(اگروہ دینی تعلیم سے آراستہ نہ ہوتو) شوہر کی اہم ذمہ داری ہے؛ تاکہ وہ حلال و حرام میں تمیز کر سکے، امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ عاقل بالغ پر تین طرح کے علم فرض ہیں: اعتقادی، عملی اور ترکی (احیاء علوم الدین: ۱/۳۱ )، نبی کریم ﷺ نے ایک وفدسے ارشاد فرمایا: ’’اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، انہیں سکھاؤ اور حکم دو‘‘(بخاری: ۶۳۱، مسلم: ۶۷۴)، شراح حدیث کے مطابق اس سے مراد اسلامی شریعت کے فرائض اور محرمات سے آگاہی ہے (ارشاد الساری: ۱۰/۲۸۷ )،یوں بھی بیوی کا تعلیم یافتہ ہونا شوہر کے لیے دین پر چلنے میں معاونت کا ذریعہ بنتا ہے (عمدۃ القاری: ۲/۱۱۹)، یہ بات بھی یاد رہے کہ مرد اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے ان کی تربیت کے بارے میں بازپرس ہوگی (مسلم: ۱۸۲۹)، لہٰذا سب سے پہلے اس ذمہ داری کونبھاناچاہئے۔
۲- فرائض کی تلقین اور منہیات سے اجتناب کی حکم: شوہرکی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بیوی کو فرائض (نماز، روزہ وغیرہ) کی تلقین کرے اور اسے محرمات سے باز رکھے،اللہ کا حکم ہے: ’’اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر جمے رہو‘‘(طہ: ۱۳۲)، دین کی تعلیم اور رات کی نماز میں بیداری پر آپ ﷺ نے رحم کی دعا فرمائی ہے (ابن ماجہ: ۱۳۳۶)، نیز حکم ہے کہ: ’’اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ‘‘ (التحریم: ۶)، لہٰذا آج کے دین بیزار ماحول میں اس ذمہ داری کو حسن وخوبی کے ساتھ اداکرنے کی ضرورت ہے۔
۳- حقوقِ زوجیت کی ادائیگی: نکاح کا ایک اہم مقصد خواہشات کی جائز تکمیل ہے، فقہائے کرام کے نزدیک بیوی سے تعلق قائم کرنا اس کا شرعی حق ہے (تبیین الحقائق: ۶/۲۱)، نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ کو تنبیہ فرمائی تھی کہ: ’’تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے‘‘ (بخاری: ۵۱۹۹)، فقہاء نے صراحت کی ہے کہ بیوی کو معلقہ بنا کر رکھنا ظلم ہے اور قاضی کا فرض ہے کہ اس کا ازالہ کرے (مجموعہ قوانین اسلامی، ص: ۱۹۲)، ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ شوہر پر ہر طہر میں کم از کم ایک بار مجامعت فرض ہے (عمدۃ القاری: ۲۰/۱۸۹)، لہٰذا آج کے جنس زدہ ماحول میں شوہر کو اس کاخاص خیال رکھنا چاہئے۔
۴ -عدل اور حسن معاشرت: اگر ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے درمیان شب گزاری اور نفقہ میں عدل فرض ہے (بدائع الصنائع: ۲/۳۳۲)، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیویوں کے درمیان عدل نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا (ابن داؤد: ۲۱۳۳)، عدل کے ساتھ ’’حسنِ معاشرت‘‘بھی بنیادی حق ہے، جس کا حکم قرآن میں ہے:’’ ان کے ساتھ معروف طریقہ سے مل جل کر رہو‘‘(النساء: ۱۹)، بیوی کو خوش کرنے کے لیے (اصلاحی مفاد میں) جھوٹ کی گنجائش بھی دی گئی ہے (مسند احمد: ۲۷۶۰۸)، لہٰذا آج کے بے انصاف اورغیرمعتدل ماحول میں شوہر پر پرضروری ہے کہ عدل اورحسن معاشرت کی ذمہ داریوں کو خیر کے ساتھ نباہے۔
۵ -خلع کا حق: اگر ازدواجی زندگی میں سکونِ قلب ختم ہو جائے تو زندگی بھر کی کشمکش کی بجائے علاحدگی بہتر ہے، خلع عورت کا وہ حق ہے، جس کے ذریعہ وہ مالی عوض دے کر نکاح کے بندھن سے آزادی حاصل کر سکتی ہے (دررالحکام: ۱/۹۸۳)،عورت کی طرف سے مطالبۂ خلع کی صورت میں مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے سہولت سے پورا کرے ؛تاکہ شریعت کا مطلوب سکون حاصل ہو سکے۔
شوہر کی ان غیرمالی ذمہ داریوں کے جان لینے کے بعدآیئے اب اس کی مالی ذمہ داریوں کوبھی جانتے ہیں، یہ درج ذیل ہیں:
۱ -مہر: ایک واجب الادا حق: مہر بیوی کا وہ بنیادی حق ہے، جس کی ادائیگی کے بغیر نکاح کا تصور کم از کم فقہِ حنفی میں مکمل نہیں (بدائع الصنائع: ۳/۴۸۰)، قرآنِ کریم نے اسے ’نحلۃ‘‘ (خوشی سے دیا گیا تحفہ) اور ’’فریضۃ‘‘ (لازم فرض) قرار دیا ہے (النساء: ۴، ۲۴)، مہر کی ادائیگی سے پہلے بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کو اپنے اوپر قابو نہ دے (المحیط البرہانی: ۳/۵۱۹)، یہ بات بھی یاد رہے کہ مہر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد نہیں؛ لیکن بے تحاشہ اضافے سے منع کیا گیا ہے (مشکل الآثار: اثر ۵۰۴۹)، آج بہت سارے علاقوں میں مہرکوجلداداکرنے کی بجائے تاخیرسے اداکرنے کا رواج ہے، یہ ایک غلط رواج ہے اسے ختم ہوناچاہئے؛ بل کہ شادی کے بعدسب سے پہلا کام شوہر کم از کم نصف مہرتواداہی کردیناچاہئے، بقیہ نصف کوبھی چندمہینوں کے اندراندر اداکردینے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
۲ -نفقہ( رہائش، خوراک اور لباس): نفقہ کا مطلب وہ اخراجات ہیں، جن پر زندگی کی بقا موقوف ہو، شوہر پر بیوی کی خوراک، پوشاک اور رہائش کا بندوبست کرنا واجب ہے (البقرۃ: ۲۳۳)، اس کے وجوب پر جمہور فقہاء کا اجماع ہے (المغنی: ۸/۱۹۵)، نفقہ کی کوئی متعین مقدار نہیں؛ بل کہ اس کا تعلق معاشرتی عرف اور میاں بیوی کی معاشی حیثیت سے ہے (مجموع الفتاویٰ: ۹/۵۴)، نیز شوہر اپنی حیثیت کے مطابق رہائش فراہم کرنے کا پابند ہے (الطلاق: ۶)، خوراک ایسی ہو، جس سے بیوی کی کفایت ہو سکے، لباس میں ستر کے تقاضے کا خیال رکھنا اور سال میں کم از کم دو جوڑے فراہم کرنا ضروری ہے، نیز صفائی کے سامان (تیل، صابن، کنگھی وغیرہ) کا انتظام بھی نفقہ کا ہی حصہ ہے (ردالمحتار: ۳/۵۷۹)۔
۳ - خادم کا نظم: اگر عورت ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، جہاں خادم رکھنا معمول ہے تو شوہر پر اس کا خرچ اٹھانا بھی واجب ہے (ہدایہ: ۲/۲۸۷)، اسی طرح موجودہ دور میں مشینی سہولیات (واشنگ مشین وغیرہ) کا انتظام بھی اسی کے متبادل کے طور پر ضروری ہے۔
۴- علاج ومعالجہ: جہاں تک علاج کا تعلق ہے تو اگرچہ قدیم کتب میں اسے بنیادی نفقہ میں شمار نہیں کیا گیا تھا؛ مگر عصرِ حاضر کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ آج کے دور میں علاج غذا کی طرح ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے؛ اس لیے اس کا خرچ اٹھانا شوہر پر لازم ہے (الفقہ الاسلامی وادلتہ: ۷/۷۹۴)۔
۵۔ ہبہ اور میراث: شوہر کو اپنی زندگی میں بیوی کو کچھ ہبہ (تحفہ) کرنے کا مکمل اختیار ہے، خاص طور پر اگر اسے اندیشہ ہو کہ اس کی وفات کے بعد بیوی مالی تنگی کا شکار ہو گی، تاہم، یہ ہبہ ورثاء کو محروم کرنے کی نیت سے نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح انتقال کے بعد، بیوی کا شوہر کے ترکے میں حصہ طے شدہ ہے، اگر اولاد ہو تو آٹھواں حصہ (۱/۸)، اور اگر اولاد نہ ہو تو چوتھائی حصہ (۱/۴) ملے گا (النساء: ۱۲)،یہ حق شوہر کے انتقال کے بعد ورثاء پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو دیانت داری سے ادا کریں۔
مذکورہ بالا سطور میں شوہر کی ان ازدواجی ذمہ داریوں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جو شریعتِ مطہرہ نے ہر شوہر پر عائد کی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ شوہر کی ازدواجی زندگی کی کامیابی کا دارومدار انہی ذمہ داریوں کی خوش اسلوبی سے ادائیگی میں ہے، اسلام محض حقوق لینے کا نام نہیں؛ بل کہ ذمہ داریوں کو دیانت داری کے ساتھ ادا کرنے کا بھی نام ہے، اگر ہر شوہر اپنی ان مالی اور غیر مالی ذمہ داریوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے اللہ کی امانت اور اپنی سعادت سمجھے تو معاشرے میں نہ صرف ایک مثالی اسلامی گھرانہ تشکیل پا سکتا ہے؛ بل کہ ازدواجی زندگی کی تلخیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں، یاد رکھیے! دنیاوی خوشحالی کے ساتھ ساتھ آخرت میں سرخروئی کا راستہ بھی انہی فرائض کی ادائیگی سے ہو کر گزرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ان ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں