میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

ہدی چلڈرنس اکیڈمی، بلیاپور، دھنباد(جھارکھنڈ)

رابطہ نمبر: 8292017888

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا؛بل کہ اس کی فطرت میں محبت، الفت اور سکون کی خواہش رکھی، اسی لیے اسلام نے نکاح کو ایک مقدس عبادت، مضبوط عہد اور پاکیزہ رشتہ قرار دیا ہے،نکاح صرف دو افراد کا نہیں؛ بل کہ دو خاندانوں کا تعلق ہے اور یہی تعلق ایک صالح معاشرہ کی بنیاد بنتا ہے، اگر گھر آباد ہوں گے تو معاشرہ آباد ہوگا اور اگر گھروں میں اختلاف، نفرت اور بے سکونی ہوگی تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

آج ہمارا معاشرہ جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں میاں بیوی کے اختلافات، گھریلو جھگڑے، علیحدگی اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح نہایت تشویش ناک ہے، معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، بچوں کا مستقبل برباد ہو جاتا ہے، والدین پریشان رہتے ہیں اور خاندان تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان اختلافات کے اسباب کو سمجھیں اور ان کا اسلامی حل اختیار کریں۔

اللہ تعالیٰ نے نکاح کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾(الروم:21)’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں‘‘، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے تین بنیادی ستون بیان فرمائے ہیں:(۱)سکون(۲)محبت(۳)رحمت، اگر ان تین چیزوں کو گھر سے نکال دیا جائے تو گھر صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت رہ جاتا ہے، جنت کا نمونہ نہیں رہتا۔

اسی طرح شوہروں کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾(النساء:19)’’اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو، اگر کسی بات کو ناپسند بھی کرو تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اسی میں بہت بھلائی رکھ دے‘‘، کتنی عظیم تعلیم ہے! اسلام یہ نہیں کہتا کہ ہر بات پر علیحدگی اختیار کر لو؛بل کہ صبر، برداشت اور حسنِ معاشرت کا حکم دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو نہایت خوبصورت مثال سے بیان فرمایا:﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾(البقرۃ:187)’’وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو‘‘، لباس انسان کو زینت دیتا ہے، عیب چھپاتا ہے، سردی و گرمی سے بچاتا ہے اور ہر وقت ساتھ رہتا ہے، اسی طرح شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی عزت، پردہ، سہارا اور سکون بننا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کی رسوائی کا سبب۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی ازدواجی زندگی کا بہترین اصول بیان فرمایا:خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي(سنن الترمذي،حدیث نمبر: 3895)’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں‘‘، آج بہت سے لوگ مسجد، بازار اور دفتر میں خوش اخلاق ہوتے ہیں؛ لیکن گھر پہنچتے ہی ان کے اخلاق بدل جاتے ہیں؛حالاںکہ رسول اللہ ﷺ نے انسان کی بھلائی کا معیار ہی یہ قرار دیا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کیسا ہے؟ اسی طرح آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر امت کو وصیت فرمائی:اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا(صحيح البخاري، حدیث نمبر: 5186، صحيح مسلم، حدیث نمبر: 1468)’’عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو‘‘، یہ وہ عظیم تعلیم ہے، جس پر عمل کر لیا جائے تو بے شمار گھریلو جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں۔

میاں بیوی کے اختلافات کے اہم اسباب اور ان کا اسلامی حل

جب قرآن و سنت نے ازدواجی زندگی کے اصول بیان کر دیے تو اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے آج گھروں کا سکون برباد ہو رہا ہے۔

پہلا سبب: دینی کمزوری

جب گھر میں نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور اللہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے تو شیطان کو گھر میں فساد پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾(طہ:124)’’اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی‘‘، دلوں کا سکون صرف مال، مکان یا آسائشوں سے نہیں؛ بل کہ اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾(الرعد:28)’’سن لو! اللہ کے ذکر سے دلوںکو سکون حاصل ہوتا ہے‘‘۔

دوسرا سبب: غصہ اور بدزبانی

آج معمولی اختلاف بھی چیخ  پکار، گالی گلوچ اور ہاتھ اٹھانے تک پہنچ جاتا ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم غصہ کو کنٹرول کرنے کی ہے، آپﷺ نےایک شخص کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا:لَا تَغْضَبْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6116)’’غصہ نہ کرو‘‘، ایک اور حدیث میں فرمایا:لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ(صحیح البخاری،حدیث نمبر: 6114، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2609) ’’طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے‘‘، بہت سے گھر صرف ایک لمحے کے غصے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتے ہیں۔

تیسرا سبب: موبائل اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال

آج گھروں میں ایک دوسرے سے زیادہ موبائل سے تعلق ہے،شوہر یا بیوی ایک دوسرے کو وقت نہیں دیتے، غیر ضروری چیٹنگ، فضول ویڈیوز، بے مقصد سوشل میڈیا اور غیر محرموں سے تعلقات اعتماد کو ختم کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ... وَلَا تَجَسَّسُوا﴾(الحجرات:12) ’’اے ایمان والو! بہت ساری بدگمانی بچواور جاسوسی نہ کرو‘‘؛ کیوں کہ اس سے اعتماد ٹوٹ جاتاہے اور جب اعتمادٹوٹ جائے تو محبت بھی باقی نہیں رہتی ، لہٰذا موبائل اور سوشل میڈیاسے دوری بالخصوص گھرآنے کے بعد ضروری ہے اورصرف موبائل اور سوشل میڈیا سے دوری کافی نہیں؛بل کہ یہ ضروری ہے کہ میاں بیوی دن بھر کی مصروفیات سے وقت نکال کر ایک دوسرے کے ساتھ 'کوالٹی ٹائم گزاریں، گھر میں بات چیت کے مثبت کلچر کو فروغ دیں، دن بھر کے تجربات، خوشیاں اور پریشانیاں ایک دوسرے سے شیئر کریں۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے بہترین دوست بن جاتے ہیں، تو موبائل کی دنیا ان کے لیے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ یاد رکھیں، گفتگو ہی وہ پل ہے جو دو دلوں کو جوڑے رکھتی ہے۔

چوتھا سبب: والدین یا رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت

اسلام والدین کے احترام کا حکم دیتا ہے؛لیکن میاں بیوی کے ہر معمولی اختلاف میں غیر ضروری مداخلت اکثر مسئلہ بڑھا دیتی ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اصلاح کی صورت بھی بیان فرمائی:﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ۚ إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا﴾(النساء:35)’’اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا‘‘، یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات نہیں؛ بل کہ حکمت اور خیرخواہی سے اختلافات حل کیے جائیں، لہٰذا مداخلت کی بجائے ہمیں 'حسنِ تعلق کے اسلامی اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے، شوہر کے لیے اس کی والدہ اور بہنیں اور بیوی کے لیے اس کے والدین اور بھائی اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، اسلام ایک طرف والدین کے حقوق پر زور دیتا ہے تو دوسری طرف بیوی کو اس کا شرعی حق اور سکون دینے کا حکم دیتا ہے،میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ توازن پیدا کریں؛ سسرالی رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، تحائف کا تبادلہ اور وقتاً فوقتاً خیر خواہی کے جذبات، گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں اور میاں بیوی کے درمیان اعتماد کو تقویت دیتے ہیں۔

پانچواں سبب: مالی معاملات

کبھی فضول خرچی، کبھی بخل، کبھی ناجائز مطالبات اور کبھی آمدنی سے زیادہ خواہشات بھی جھگڑوں کا سبب بنتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 2554، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1829) ’’تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا‘‘، لہٰذاشوہر پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق نفقہ ادا کرے اور بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کی مالی حالت کو سمجھے اور اس پر بے جا بوجھ نہ ڈالے، اسی طرح آج کے دور میں معاشی خود مختاری کے تصور نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں میاں بیوی کے درمیان 'انا کے ٹکراؤ اور 'توقعات کے فرق کو بھی جنم دیا ہے، جب دونوں میاں بیوی ملازمت پیشہ ہوں تو گھر کے مالی معاملات پر بات چیت اور ان کے نظم و نسق میں عدم توازن اکثر تناؤ کا باعث بنتا ہے، اسلام نے معاش میں شوہر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تاہم بیوی کی آمدنی کو ایک باہمی تعاون کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری یا کنٹرول جتانے کا ذریعہ سمجھناچاہئے، اس معاملے میں شفافیت اور ایک دوسرے کی مالی قربانی کا اعتراف ہی اس تناؤ کو ختم کر سکتا ہے۔

چھٹا سبب: ایک دوسرے کے حقوق سے ناواقفیت

آج اکثر میاں بیوی اپنے حقوق تو جانتے ہیں؛ لیکن فرائض بھول جاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ(سنن الترمذی، حدیث نمبر: 1162)’’کامل ایمان والا وہ ہے، جس کےاخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں بہترین وہ ہیں، جو اپنی بیویوں کے لیے بہترین ہیں‘‘۔

یہ وہ چند اہم اسباب ہیں جو گھریلو زندگی کے سکون کو متاثر کرتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ اسلام ان مسائل کے حل کے لیے کیا رہنمائی دیتا ہے؟لہٰذا آیئے! اسے بھی ہم جانتے چلیں:

اسلامی حل

اسلام صرف مسئلہ بیان نہیں کرتا ؛بل کہ اس کا حل بھی دیتا ہے، میاںبیوی کے درمیان ان اختلافات کو ختم کرنے اسلامی اعتبارسے کیا حل ہے؟ آیئے جانتے چلیں:

پہلا حل: تقویٰ

ان اختلافات کوختم کرنے کا سب پہلاحل ’’تقوی‘‘ اختیارکرناہے، ہر شوہر اور بیوی یہ سوچے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، اگریہ ہوجائے توکوئی دوسرے پر زیادتی ہی نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ۝ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾(الطلاق:2-3)’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا‘‘، لہٰذا جوتقوی اختیارکرے گا، حل ضرور نکلے گا۔

دوسرا حل: صبر اور درگزر

دوسرا حل صبراوردرگزرکرناہے، میاںبیوی میں سے ہرایک اگرایک دوسرے کے معمولی زیادتی پر صبرکرے اور معاف کردے تومعاملہ آگے بڑھے گا ہی نہیں، قرآن اس تعلق سے ہماری رہنمائی کرتے ہوئے کہتا ہے:﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا﴾(النور: 22)’’انھیں معاف اور درگزرکرنا چاہئے‘‘، لہٰذا معمولی معمولی باتوں بڑھانے کی بجائے معافی سے کام لیناچاہئے؛ کیوں کہ معافی گھر کو جوڑتی ہے، انتقام گھر کو توڑ دیتا ہے۔

تیسرا حل: نرم گفتگو

نرمی انسان کا دل جیت لیتی ہے، اسی لئےاللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے ظالم کے سامنے نرم گفتگو کرنے کا حکم فرمایا:﴿فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا﴾(طہ: 44)’’تم ان کے ساتھ نرم گفتگو کرو‘‘، جب فرعون کے لیے نرم گفتگو کا حکم ہے تو اپنے شریکِ حیات کے لیے اس کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔

چوتھا حل: باہمی مشاورت

گھر کے معاملات ضد سے نہیں ؛بل کہ مشورے سے چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفت بیان فرمائی:﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾(الشوری:38)’’اور ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے‘‘، لہٰذا آپس میں بیٹھ کرمعاملہ کوحل کرنے کی کوشش کریں، اگرکھلے دل اورسنجیدگی کے ساتھ میاں بیوی بیٹھ کر مشورہ کریں گے تو ان شاء اللہ معاملہ حل ہوجائے گا۔

پانچواں حل: طلاق کو آخری چارۂ کار سمجھنا

اسلام نے طلاق کی اجازت ضرور دی ہے؛ لیکن اسے پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا، جب تمام اصلاحی کوششیں ناکام ہو جائیں، ثالثی بھی بے اثر ہو جائے، تب شریعت کے مطابق آخری حل اختیار کیا جائے، جلد بازی، غصے اور انا کی بنیاد پر رشتہ توڑ دینا اسلام کی تعلیم نہیں، پھر طلاق دینے میں ایک طہرمیں ایک ہی طلاق دی جائے؛ تاکہ آگے کے لئے راستہ ہموار رہے۔

اسلام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ میاں بیوی ایک چھت کے نیچے رہیں؛ بل کہ یہ ہے کہ ان کی زندگی محبت، رحمت، عفو و درگزر اور تقویٰ سے معمور ہو، شیطان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دے؛ کیوںکہ جب گھر ٹوٹتا ہے تو اس کے ساتھ اولاد کی تربیت، خاندان کا نظام اور معاشرے کا امن بھی متاثر ہوتا ہے، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً... فَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: مَا زِلْتُ بِهِ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ(صحيح مسلم، حدیث نمبر: 2813)’’ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے، پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مرتبہ اس کا وہ کارندہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرے۔ ان میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں اس وقت تک اس شخص کے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی۔ تب ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: تو نے بہت اچھا کام کیا‘‘، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی میں نفرت پیدا کرنا شیطان کا محبوب ترین کام ہے؛ اس لیے ہر مسلمان کو شیطانی وسوسوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

ازدواجی زندگی کے چند سنہرے اصول

اب آیئے! چندایسے اصول بتادئے جائیں، جن کی روشنی میں زندگی کوخوش گوار بنایاجاسکتا ہے:

پہلا اصول:ایک دوسرے کی خوبیوں پر نظر رکھیں، صرف کمزوریوں پر نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ(صحيح مسلم، حدیث نمبر: 1469)’’کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت ضرور پسند آئے گی‘‘، یہ حدیث ہمیں مثبت سوچ، برداشت اور انصاف کی تعلیم دیتی ہے۔

دوسرا اصول: عفو و درگزر کو اپنائیں: ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے،کامیاب گھر وہ نہیں، جس میں کبھی اختلاف نہ ہو؛بل کہ کامیاب گھر وہ ہے، جہاں اختلاف کے بعد معافی، اصلاح اور محبت لوٹ آئے۔

تیسرا اصول: بچوں کے سامنے جھگڑا نہ کریں: گھر کے جھگڑے صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے؛بل کہ بچوں کی شخصیت، تعلیم، اخلاق اور مستقبل پر بھی گہرے اثرات چھوڑتے ہیں؛س لیے اختلافات کو حکمت، تنہائی اور وقار کے ساتھ حل کیا جائے۔

چوتھا اصول: دعا کو اپنا ہتھیار بنائیں: جو گھر اللہ سے جڑا ہو، وہ جلد ٹوٹتا نہیں، قرآن مجید نے نیک بندوں کی دعا سکھائی ہے:﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾(الفرقان:74)’’اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا‘‘۔

اگر شوہر اپنے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق حسنِ اخلاق، عدل، شفقت اور محبت کو اختیار کرے، اور بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اطاعت، وفاداری، حیا اور حسنِ معاشرت کو اپنائے، تو وہ گھر دنیا میں جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، یاد رکھیے! گھر محبت سے چلتے ہیں، انا سے نہیں؛ معافی سے آباد ہوتے ہیں، انتقام سے نہیں؛ گفتگو سے مسائل حل ہوتے ہیں، خاموش نفرت سے نہیں؛ اور اللہ کے خوف سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں، صرف دنیاوی مفادات سے نہیں۔

میاں بیوی کا رشتہ محبت اور مودت کا ایک ایسا باغ ہے جسے صبر، ایثار اور اسلامی اخلاقیات کے پانی سے ہی سیراب کیا جا سکتا ہے۔ اختلافات زندگی کا حصہ ہیں، لیکن انہیں انا کا مسئلہ بنانا تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں کو جنت کا نمونہ بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھر کے نظام کو قرآن و سنت کے تابع لانا ہوگا۔ یاد رکھیے، ایک پرسکون گھر نہ صرف دو افراد کے لیے نعمت ہے، بلکہ ایک صالح اور پرامن معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے گھروں کو محبت، سکون اور رحمت کا گہوارہ بنائے۔ آمین! 

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی