مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ: ایک ہمہ جہت شخصیت کا فکری و علمی سفر

مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ ایک ہمہ جہت شخصیت کا فکری و علمی سفر

مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ
ایک ہمہ جہت شخصیت کا فکری و علمی سفر

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

ہدی چلڈرنس اکیڈمی، بلیاپور، دھنباد(جھارکھنڈ)

رابطہ نمبر: 8292017888


۲۹/ جون۲۰۲۶ء، صبح کی اولین ساعتیں، واٹس ایپ کے کسی گروپ میں مولاناسید سلمان حسینی ندویؒ کی وفات کی خبرصاعقہ اثرنظر نواز ہوئی، دل میں ایک ہوک سی اٹھی، خبرپریقین نہیں آیا، دوسرے گروپ کو کھنگالا، فیس بک کو ٹٹولا، وہاں بھی یہی خبرگردش میں تھی، اب بادل ناخواستہ یقین کرنا ہی پڑاکہ یقین نہ کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں رہ گئی تھی، سومغموم دل کے ساتھ کلمۂ استرجاع زبان سے اداکیا۔

اس خبرکا اثرفطری تھا؛ کیوں کہ جب سے شعورکی آنکھیں کھولی ہیں، ان کا ڈنکا بجتے اوران کی طوطی بولتے دیکھا ہے،اس زمانہ میں ان کی شخصیت کا سحر ایسا تھا کہ محفلیں ان کے دم سے آباد رہتی تھیں، اس دور میں ان کی آواز ہی سب سے بلند تھی اور ہر کوئی ان کے کمال کا معترف تھا، یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے ایک درخشاں ستارہ تھے، جن کی شہرت کا سورج نصف النہار پر تھا، اب بھلا سوچئے! ایسے شخص کی وفات کی خبراچانک آئے تودل پر صرف اثرہی نہیں؛ بل کہ گہرااثرہونا ایک فطری بات ہے۔

مولاناسید سلمان حسینی ندوی میرے ضابطہ کے استاذ صرف ایک ہفتہ رہے، یہ دوہزارپانچ تخصص فی الحدیث کی بات ہے، پھرمیراارداہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا ہوااور میں نے اپنانام قلم زدکروالیا؛ لیکن ہوتا وہی ہے، جومنظورخدا ہو، بقرعید کے بعدعم محترم جناب مولاناآفتاب عالم ندوی(دھنباد) کی رہنمائی سے مظاہرعلوم سہارنپورپہنچ گیا، جہاں امیرالمؤمنین فی الحدیث شیخ محمد یونس جونپوریؒ، شیخ عاقلؒ اور شیخ زین العابدین ؒ جیسی شخصیتوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہوا، دیکھئےبات کسی اوررخ پرچل پڑی ہے، جو ایک الگ داستان ہے، اس لیے فی الحال اسی  پر اکتفا کرتا ہوں۔

۱۹۹۳ءکی بات ہے، میراداخلہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شعبۂ حفظ میں ہوا، اس وقت عمر ہی کیا تھی؟ لیکن سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت تو بہرحال تھی، یہ زمانہ مولاناسیدسلمان حسینی ندویؒ کے عروج کا زمانہ تھا، جمعیۃشباب الاسلام کے پلیٹ فارم سے وہ اپنے شباب کا خوب خوب جوہردکھا رہے تھے،ہرہفتہ جمعرات کے دن ندوہ میں دوتین بسیں آجایاکرتی تھیں، جن میں سوارہوکرندوہ کے اساتذہ وطلبہ تربیتی پروگرام کے لئے ندوہ کی مختلف شاخوں کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی جایاکرتے تھے، ان کے پروگرام کا چرچا ملک کے طول وعرض میں تھا، اسی بنیادپر بہارمیں بھی اس کی ایک شاخ باقاعدہ قائم ہوئی تھی، مولانانے غیرسودی بینکاری کے نظام کوبھی چلانے کی کوشش کی، اس کے لئے لکھنؤ اور اطراف ومضافات میں کئی بینکیں قائم ہوئیں؛ لیکن افسوس! ان بینکوں کا دیوالیہ ان میں کام کرنے والے افراد کی وجہ سےنکل گیا اور اس کی وجہ سے مولاناکوسخت سست سہنا بھی پڑا۔

مولاناایک سیماب صفت انسان تھے، کسی ایک کام پر ٹک کررہناعادت کے خلاف تھا، ورنہ کئی ایسے کام انھوں نے شروع کئے تھے، جواگر پائیداری کے ساتھ چلتے رہتے تو یقیناً کچھ نہ کچھ بدلاؤ کے امکانات ضرور روشن تھے، انھوں نے مردوں کی طرح خواتین کے تربیتی پروگرام کا بھی باقاعدہ نظام بنایا، مردوخواتین کے لئے الگ الگ پرچے (ماہنامے) نکالے، اسپتال قائم کیا، اسکول بنائے، کئی ایک مدرسے بنائے، کئی کئی کامیاب سیمیناراور سمپوزیم کروائے؛ البتہ ان تمام کاموں میں ’’جامعہ سیداحمدشہید کٹولی‘‘ ، ڈاکٹرعبدالعلی طبیہ کالج‘‘، ’’جامعہ حفصہ للبنات کٹولی‘‘وغیرہ نمایاں طورپرزندہ اور کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، مولاناکے کاموں کو دیکھ کر علامہ شبلی نعمانی سے معذرت کے ساتھ ان کے اشعار میں معمولی ترمیم کرکے کہاجاسکتا ہے:

کئے تھے اس نے بھی کچھ کام جوکچھ اس سے بن آیا

یہ قصہ جب کا ہے، باقی تھا جب عہد شباب اس کا

’’جامعہ سیداحمدشہید‘‘ مولاناکی سوچ وفکر کا عملی اظہار ہے، جو ’’دین اور عصری تقاضوں کے توازن‘‘پر مبنی ہے، اس جامعہ کا نام ہی اس کی فکری سمت کا تعین کرتا ہے،مولانا کی فکر میں سید احمد شہیدؒ کی تحریک محض ایک تاریخی واقعہ نہیں؛بل کہ ایک ’’تجدیدی مشن‘‘ہے، اس جامعہ کا مقصد ایسے رجالِ کار پیدا کرنا ہے، جو سید احمد شہیدؒ کے اس ولولے کو زندہ رکھیں ،جس میں ’’اسلامی عقیدے کی پاسداری‘‘ اور ’’استعمار کے خلاف بیداری‘‘کا جذبہ شامل ہو، اس مقصد کے لئے انھوں نےصرف نصاب تعلیم کوہی منظم، مضبوط اور دوسروں سے ممتاز نہیں بنایا؛ بل کہ باقاعدہ فوجی ٹریننگ کےمماثل نظام بھی بنایا، فجرکے بعد باقاعدہ ورزش کونظام تعلیم کا حصہ قراردیا، ورزش کے ڈریس میں ملبوس طلبہ جب پریڈ کرتے ہوئے’’سبیلنا سبیلناالجہادالجہاد‘‘ کا نعرۂ مستانہ بلند کرتےتو کٹولی کا لق ودق صحراء تھرا اٹھتا تھا، بندوق چلانے کی مشق اورگھڑسواری کی باقاعدہ تربیت دی جانے لگی، ہنرکی تعلیم کے لئے داؤد ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں آیا، جس میں طلبہ کوویلڈنگ، پلمبرنگ، سلائی اورالیکٹیشین وغیرہ کی تعلیم کا بھی نظم رکھاگیا، جس کودیکھ کرممتاز عرب علماء: ڈاکٹریوسف القرضاوی اور مسجد اقصی کے سابق امام شیخ صیام نےبہت زیادہ خوشی کااظہارفرمایااور مولاناکے کام کودیکھ کر اطمینان کا اظہارفرمایا، الحمدللہ میں بھی یہیں کا خوشہ چیں ہوں، میری بنیادی تعلیم: اعدادیہ، متوسطہ اولیٰ اور متوسطہ ثانیہ کی تعلیم یہیں ہوئی، پھربعض وجوہات کی بناپر وہاں سے رخت سفرباندھ لیناپڑا۔

آپ کی پیدائش تہذیب و شائستگی کی دل آویز روایتوں، علم و حکمت کی تابندہ جلوہ گاہوں اور دینی و فکری بیداری کے مرکز، شہرِ لکھنؤ کی مردم خیز فضاؤں میں 1954ء میں ہوئی، آپ ایک جلیل القدر علمی، دینی اور دعوتی خانوادے کی پاکیزہ روایات کے امین تھے، آپ کے مقدر میں علم کی خدمت، سنتِ نبوی کی اشاعت اور نسلوں کی فکری تربیت رقم ہوچکی تھی؛ چنانچہ عہدِ طفولیت ہی میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے روح پرور ماحول نے آپ کی شخصیت کی تشکیل کا فریضہ انجام دیا اور حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت نے آپ کے مبارک علمی سفر کی پہلی منزل کی حیثیت اختیار کی۔

قرآنِ مجید کے نور سے دل و دماغ کو منور کرنے کے بعد آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں علومِ اسلامیہ کی تحصیل کا آغاز کیا، یہاں آپ نے نہ صرف فقہ، حدیث، تفسیر اور عربی علوم میں گہری بصیرت حاصل کی؛ بل کہ اس علمی فضا میں اپنے ذوقِ تحقیق، فکری بالیدگی اور علمی انہماک کو بھی جِلا بخشی، مسلسل محنت، غیر معمولی استعداد اور اساتذۂ کرام کی خصوصی توجہ کے نتیجے میں 1974ء میں عالمیت کی سند حاصل کی، جو آپ کی علمی پختگی اور فکری استعداد کا اولین باضابطہ اعتراف تھا؛ لیکن علم کی پیاس ابھی تشنہ تھی اور تحقیق و جستجو کی آرزو مزید وسعت چاہتی تھی،یہی جذبۂ طلب آپ کو علومِ حدیث کی عظیم دنیا کی طرف لے گیا، جہاں آپ نے سنتِ رسول ﷺ کے دقائق، اسرار اور معارف کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنا لیا، 1976ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء سےفضیلت( ماسٹرز) کی تکمیل کے بعد آپ نے علمی افق کو مزید وسعت دینے کے لیے سرزمینِ حجاز کا رخ کیا، ریاض میں واقع امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے کلیۃ اصول الدین، شعبۂ حدیث میں داخلہ لے کر آپ نے اپنی غیر معمولی علمی صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ اساتذہ اور اہلِ علم کی نگاہوں میں ممتاز مقام حاصل کرلیا اور 1980ء میں امتیازی درجہ کے ساتھ ماسٹرز کی سند حاصل کرکے اپنی علمی جدوجہد کو ایک نئی رفعت عطا کی۔

تحصیلِ علم کی تکمیل کے بعد آپ کی علمی خدمات کا آغاز بھی اسی مادرِ علمی، دارالعلوم ندوۃ العلماء سے ہوا، جس نے آپ کی شخصیت کو پروان چڑھایا تھا، شعبۂ حدیث میں منصبِ تدریس پر فائز ہوکر آپ نے علمِ نبوی کے چشمۂ صافی سے تشنگانِ علم کی پیاس بجھانی شروع کی، آپ کا اندازِ تدریس گہرائی علم، وسعتِ مطالعہ، حسنِ استدلال اور سلاستِ بیان کا حسین امتزاج تھا، جس نے ہزاروں طلبہ کے قلوب و اذہان کو متاثر کیا، تدریسی میدان میں آپ کی استقامت، علمی دیانت، تحقیقی ذوق اور غیر معمولی اخلاص نے آپ کو تدریجاً پروفیسر کے بلند مرتبہ منصب تک پہنچایا، جہاں آپ نے علم و تحقیق کے نئے چراغ روشن کیے۔

تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ نے انتظامی میدان میں بھی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، کلیۃ الشریعہ اور کلیۃ اصول الدین میں ڈین آف فیکلٹی کی حیثیت سے آپ نے نظم و نسق، تعلیمی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی ترقی کے مختلف مراحل میں جو بصیرت، اعتدال اور حسنِ انتظام کا ثبوت دیا، وہ آپ کی متوازن، دور اندیش اور ہمہ گیر شخصیت کا روشن مظہر ہے، آپ کی انتظامی حکمت عملی میں جہاں نظم و ضبط کی جھلک نمایاں تھی، وہیں شفقت، خیرخواہی اور تعلیمی ارتقا کا جذبہ بھی نمایاں نظر آتا تھا۔

تاہم آپ کی شخصیت کا سب سے تابناک اور درخشاں پہلو وہ علمی و تربیتی سرمایہ ہے، جو آپ نے اپنی تدریسی زندگی کے ذریعہ امت کے سپرد کیا، آپ کی مجلسِ درس سے فیض یاب ہونے والے ہزاروں طلبہ آج دنیا کے مختلف خطوں میں دین کی خدمت، تدریس، دعوت، افتاء اور تحقیق کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ سب آپ کے علمی فیضان کا زندہ ثبوت ہیں، علومِ حدیث کی تدریس، سنتِ نبوی کے فہم کی ترویج اور تحقیق کے ذوق کو فروغ دینے میں آپ کی خدمات ایک ایسا گراں قدر علمی سرمایہ ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہیں گی۔

بلاشبہ آپ کی حیاتِ علمی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جب اخلاص، علم، تحقیق اور خدمتِ دین ایک وجود میں جمع ہوجائیں تو وہ شخصیت محض ایک فرد نہیں رہتی؛ بل کہ ایک عہد، ایک مکتبِ فکر اور ایک زندہ روایت کی صورت اختیار کر لیتی ہے، آپ کی علمی خدمات، تربیتی نقوش اور تحقیقی آثار تاریخِ علم کے صفحات پر ہمیشہ سنہرے حروف سے ثبت رہیں گے اور اہلِ علم کے لیے چراغِ راہ کا درجہ رکھتے رہیں گے۔

زندگی کے آخری دورمیں مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے بعض افکار اور خطابات اہلِ بیتِ اطہارؓ اور صحابۂ کرامؓ سے متعلق اس نہج پر سامنے آئے، جنھیں اہلِ سنت والجماعت اور جمہور علماء نے اپنے مسلکی و اعتقادی موقف سے متصادم قرار دیا؛چنانچہ ان آراء پر علمی نقد و رد ہوا، متعدد اکابر علماء نے ان سے اختلاف کا اظہار کیا اور بعض حلقوں کی جانب سے ان کا بائیکاٹ بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں برصغیر کے دینی ماحول میں ان کی سابقہ علمی و دعوتی مقبولیت متاثر ہوئی، ان کے بہت سے تلامذہ، متعلقین اور خیر خواہوں نے بھی ان سے نظرِ ثانی کی درخواست کی؛ تاہم مولانا آخر وقت تک اپنے موقف پر قائم رہے، اس اختلاف کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان کی علمی، تدریسی اور دعوتی خدمات تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مولاناکی وفات یقیناً علمی دنیا کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے؛ لیکن مولاناکی وفات کے بعدجس طرح ایک جماعت کی طرف سے ردعمل سامنے آیاکہ ان کی وفات پرخوشی کااظہار، خس کم ، جہاںپاک اوراس طرح کے بے ہودہ جملے ، جوکسی بھی طورپر ایک مسلمان کے لئے مناسب نہیں؛ چہ جائے کہ وہ تو ایک بلند پایہ عالم دین تھے، حضوراکرمﷺ نے عبداللہ بن ابی بن سلول جیسے شخص کے لئے بھی اس طرح کے جملے نہیں کہے؛ بل کہ ان کے بیٹے کی دل جوئی میں اپناکرتا تکفین کے لئے دیا؛ حالاں کہ تمام سیرت نگاراس بات پر متفق ہیں کہ یہ منافقین کے سردارتھے، منافقین کے لئے توقرآن نے صراحتاً ’’درک اسفل‘‘ ٹھکانہ بتایاہے؛ لیکن حضورﷺ ایسے شخص کے لئے بھی نرمی برت رہے ہیں اور ہم ہیں کہ جنت کے ٹھیکہ دار بن گئے، جسے چاہتے ہیں اعلی علیین میں پہنچادیتے ہیں اورجسے چاہتے ہیں، درک اسفل میں گھسادیتے ہیں، حضرت امام ابوحنیفہؒ کا قول معروف ہے کہ اگرایک صفت ایمان کی ہو اورنناوےاوصاف کفروالے ہوں توبھی تاویل کی جائے اور اسے کافرنہ کہا جائے اورہم موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کب کسے کافرکہہ سکیں؟ یہ رویہ کسی طور پر درست نہیں، اگرکوئی کسی کوگالی دے تواس کاحساب فیمابینہ وبین اللہ ہے، ہم اس کی فہمائش کرسکتےہیں، اسے سمجھاسکتے ہیں، نہ یہ کہ ہم بھی اسے گالی دینا شروع کردیں، یہ عقل وخرد کی بات نہیں ہے۔

بہرحال! مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کا وجود علم و فکر اور دعوت و عزیمت کا ایک ایسا حسین سنگم تھا، جس میں ندوۃ العلماء کی علمی و تہذیبی روایت، خاندانی جاہ و جلال اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک بیدار مغز فکر بدرجہ اتم موجود تھی، آپ بیک وقت خطابت کے سحر انگیز جادوگر، فکرِ اسلامی کے پاسبان اور امت مسلمہ کے درد مند ترجمان تھے، آپ کی شخصیت میں علمیت کا وقار، استقامت کا جوہر اور جراتِ اظہار کی وہ تابناکی تھی، جو انہیں اپنے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے؛ وہ محض ایک عالمِ دین نہیں تھے؛ بل کہ ایک ایسی متحرک اور ہمہ جہت شخصیت تھے، جو اپنی فکرِ رسا اور بصیرتِ افروز گفتگو کے ذریعہ دلوں کی دنیا بدلنے اور نئی نسل کو اپنی تہذیبی میراث سے جوڑنے کا ہنر خوب جانتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے اور اپنی وسیع رحمت سے نوازے، آمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی