تنازعات کے دوران جنسی تشدداوراسلام کی رہنمائی
آج ۱۹/جون ہے، اقوام متحدہ کی طرف سے ایک خاص عالمی دن منایاجاتا ہے، جسے’’ تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کا عالمی دن‘‘ (International Day for the Elimination of Sexual Violence in Conflict) کہا جاتا ہے، اقوام متحدہ کے نزدیک اس سے مراد : زیادتی، جنسی غلامی، جبری جسم فروشی، جبری حمل، جبری اسقاطِ حمل، جبری نس بندی، جبری شادی اور کسی بھی دیگر قسم کا جنسی تشدد ہے، جو کسی تنازع سے براہِ راست یا بالواسطہ جڑا ہو، جو خواتین، مردوں، لڑکیوں یا لڑکوں کے خلاف کیا گیا ہو‘‘۔
آج کی دنیا میں ’’تنازعات کے دوران جنسی تشدد‘‘ کو ایک ’’جنگی حربے‘‘ (Weapon of War) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؛ تاکہ دشمن کو ذلیل کیا جا سکے، خوف پھیلایا جائے اور نسلوں کو تباہ کیا جائے، آیئے اس تعلق سے ہم اسلام کی رہنمائی کوجاننے کی کوشش کرتے ہیں:
انسانی تکریم کا اسلامی معیار
اسلام میں انسان کی تکریم کا دارومدار اس کے رنگ، نسل یا صنف پر نہیں؛ بل کہ اس کی انسانیت پر ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا(الاسراء:۷۰)’’اور یقیناً ہم نے بنی آدم (انسانوں) کو عزت و تکریم بخشی، اور ہم نے انہیں خشکی اور تری (سمندر) میں سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا فرمایا، اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی، جس طرح فضیلت دینے کا حق ہے‘‘۔
اسلام میں انسانی عزت کا تحفظ مقاصدِ شریعت میں شامل ہے، فقہائے اسلام نے جن پانچ بنیادی مقاصد کا ذکر کیا ہے، ان میں حفظِ دین، حفظِ نفس، حفظِ عقل، حفظِ نسل و عرض اورحفظِ مال شامل ہیں، یہی وہ بنیادی مصالح ہیں، جن کے تحفظ کے لیے شریعت نازل کی گئی ہے، علامہ شاطبی رقم طراز ہیں:فقداتفقت الأمة -بل سائرالملل- علی أن الشریعة وضعت للمحافظة علی الضروریات الخمس، وهی: الدین، والنفس، والنسل، والمال، والعقل، وعلمهاعندالأمة کالضروری (الموافقات:۱ /۳۱) ’’امت- بل کہ تمام امتیں- اس بات پرمتفق ہے کہ ضروریات خمسہ کی حفاظت کے لئے ہی شریعت بنائی گئی ہے اوروہ دین، نفس، نسل، مال اورعقل ہے،امت کے حق میں ان کی واقفیت ضروریات دین سے واقفیت کی طرح ہے‘‘۔
نیز نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمایا تھا: فإنَّ دماءَكم وأموالَكم وأعراضَكم بينَكم حرامٌ كحُرمةِ يومِكم هذا في بلدِكم هذا(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۲۱۵۹)’’تمہارا خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح آج کے دن، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت ہے‘‘، اس حدیث میں خون، مال اور عزت تینوں کو یکساں حرمت دی گئی ہے، جو اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اسلام میں انسانی وقار ہر حال میں قابلِ احترام ہے۔
جنگ میں اسلامی اخلاقیات
اگرچہ بین الاقوامی انسانی قانون(International Humanitarian Law) عام شہریوں کے تحفظ کے لیے متعدد اصول فراہم کرتا ہے؛ لیکن عملی سطح پر مختلف تنازعات میں ان اصولوں کی خلاف ورزیاں مسلسل دیکھی جاتی ہیں، جب کہ اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال قبل جنگ کو ’’ظلم و بربریت‘‘سے پاک کرنے کے لیے جنگی اخلاقیات کے ایسے جامع اصول پیش کیے ہیں، جن کی مثال قدیم مذاہب اور قانونی روایتوں میں نہایت کم ملتی ہے، رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ، خاص طور پر میدانِ جنگ میں آپ کا طرزِ عمل، پوری انسانیت کے لیے ایک مکمل اور روشن نمونہ ہے،آپؐ کی جنگیں کسی ذاتی مفاد، عصبیت، یا ملک گیری کے لیے نہیں؛ بل کہ محض اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے تھیں، جن میں آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ بھی انسانیت، حسنِ سلوک اور عدل و انصاف کی ایسی اعلیٰ مثالیں قائم کیں، جن کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی، آپؐ نے دورانِ جنگ خواتین، بچوں اور مذہبی پیشواؤں کو قتل کرنے، نیز لاشوں کی بے حرمتی (مثلہ) کرنے اور آگ میں جلانے کی سخت ممانعت فرمائی،قیدیوں کے ساتھ نہایت ہمدردی و بھلائی کا برتاؤ کیا؛ یہاں تک کہ فتح مکہ کے موقع پر اپنے سخت ترین تمام دشمنوں کو بھی معاف کر دیا اور ان کے حق میں دعائیں کیں، درخت نہ کاٹنے اورکھیت نہ جلانے کا حکم فرمایا، یہ تعلیمات ثابت کرتی ہیں کہ اسلام جنگ کو بھی ظلم و بربریت کا نام نہیں بننے دیتا(بخاری،حدیث نمبر: ۳۰۱۵، و ۳۰۱۴،، مسلم، حدیث نمبر: ۵۵۴۷،قصص من التاریخ الاسلامی، ص:۵۷،مسنداحمد،حدیث نمبر: ۲۰۰۹۷، المعجم الکبیرللطبرانی، حدیث نمبر: ۹۷۷، مصنف ابن ابی شیبہ، من نہی عن التحریق بالنار، حدیث نمبر: ۳۳۸۱۴)۔
جنسی تشدد اور اسلامی تعلیمات
اسلام میں کسی بھی عورت یا مرد کی عصمت پر حملہ عظیم ترین جرائم میں شمار ہوتا ہے، قرآن کریم نےاس تعلق سے کئی احکام دئے ہیں:
(۱) زنا اور اس کے قریب جانے کی ممانعت:قرآن کریم نے صرف زنا ہی نہیں؛بل کہ ان تمام راستوں کی بھی سختی سے ممانعت کی ہے، جو بے حیائی اور جنسی استحصال کی طرف لے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا(الاسراء:32) ’’اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی کا کام اور بہت ہی برا راستہ ہے‘‘،اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ’’زنا نہ کرو‘‘ نہیں فرمایا؛بل کہ ’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ‘‘ فرمایا، یعنی اسلام جرم سے پہلے اس کے تمام اسباب کا سدباب کرتا ہے، اسی لیے قرآن نے صرف جرم کو ممنوع قرار نہیں دیا؛ بل کہ نگاہ، خلوت، بے حیائی اور شہوانی اسباب پر بھی قدغن لگائی۔
(۲) زبردستی اور جبر کی سخت تردید:اسلام میں کسی بھی خاتون پر جبر کرنا سخت گناہ ہے، قرآن مجید میں ان لونڈیوں (جو اس دور کا سماجی مسئلہ تھیں) کے بارے میں بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں تو ان پر زبردستی نہ کی جائے:وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا...(النور:۳۳)’’اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبورنہ کرو، اگروہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں‘‘۔
(۳) نگاہوں کی حفاظت اور حیا کا تصور:قرآن کریم(النور:۳۰ - ۳۱) نےمردوں کو نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ(مومن مردوں سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں) ،جب کہ عورتوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ(اورمومن عورتوں سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں)، نیزنبی ﷺ نے حیاء کوایمان کا ایک شعبہ قراردیاہے، ارشاد فرمایا: وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۳۵)’’اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔
(۴) معاشرتی ذمہ داری اور سزائیں:فقہائے اسلام نے حالات کی نوعیت کے اعتبار سے عصمت دری کو محض زنا نہیں؛بل کہ جبر، ظلم، فساد فی الارض اور بعض صورتوں میں حرابہ کے حکم میں بھی شمار کیا ہے؛اس لیے اس کی سزا عام زنا سے زیادہ سخت ہوسکتی ہے،اسی طرح اگر کوئی فرد کسی کی عزت پر حملہ کرتا ہے تو اسلامی قانون اس کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر کرتا ہے؛ تاکہ معاشرے میں خوف اور امن قائم رہے اور کوئی دوبارہ ایسی جرات نہ کر سکے،ارشادباری تعالیٰ ہے:وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ(النور:۴)’’جوپاک دامن عورتوں پر(بدکاری کا) الزام لگاتے ہیں اور چارگواہ پیش نہیں کرسکتےتوانھیں اسی کوڑے لگاؤاوران کی گواہی ہرگز قبول نہ کرو، یہی لوگ فاسق ہیں‘‘، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف جسمانی حملے کو جرم قرار نہیں دیتا؛بل کہ عزت پر جھوٹا حملہ بھی سنگین جرم ہے۔
اسلام صرف مجرم کو سزا دینے تک محدود نہیں؛بل کہ متاثرہ افراد کی نفسیاتی اور سماجی بحالی پر بھی زور دیتا ہے، جنگی تنازعات میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد شدید صدمے (Trauma) اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اسلامی معاشرتی نظام میں متاثرین کو ہمدردی، عافیت اور تحفظ فراہم کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے، انہیں سماجی تعصب سے نکال کر ان کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرنا، نبوی ﷺ سنت اور اسلامی اخلاقیات کا اہم تقاضا ہے۔
متاثرین کی تسلی اور ہماری ذمہ داری
عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق تنازعات کے دوران ہونے والے جنسی تشدد کے بے شمار واقعات خوف، سماجی دباؤ اور بدنامی کے اندیشے کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے، اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مظلوم کی خاموشی، ظالم کے لیے حوصلہ افزائی ہے،اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: انصُرْ أخاكَ ظالِمًا أو مَظلومًا، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، هذا نَنصُرُه مَظلومًا، فكيفَ نَنصُرُه ظالِمًا؟ قال: تَأخُذُ فوقَ يَدَيه.(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۴۴۴)’’اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم،" صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول!مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسےمددکی جائے؟ فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم سے روک لو‘‘، لہٰذا، آج کے دور میں کسی بھی قسم کے جنسی تشدد یا استحصال کو دیکھ کر خاموش رہنا، ایمان کا تقاضا نہیں ہے،معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنا، ہماری دینی اور ملی ذمہ داری ہے۔
اس ضمن میں، خاص طور پر دینی مدارس اور علمائے کرام کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے،مدارس کو چاہیے کہ وہ اپنے نصابِ تعلیم اور خطباتِ جمعہ میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو اجاگر کریں، علماء کا کام یہ ہے کہ وہ معاشرے میں اس شرم اور عار کے تصور کو ختم کریں، جو اکثر متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے اور یہ واضح کریں کہ مظلوم کی حمایت کرنا ہی عین اسلام ہے۔
اسلام اور بین الاقوامی قوانین
آج بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) اور مختلف عالمی معاہدے جنگی تنازعات میں جنسی تشدد کو جنگی جرم (War Crime)، انسانیت کے خلاف جرم (Crime against Humanity) اور بعض حالات میں نسل کشی (Genocide) کا حصہ قرار دیتے ہیں، اسلام نے چودہ صدیوں قبل ہی انسانی جان، عزت اور عصمت کے تحفظ کو بنیادی دینی فریضہ قرار دے کر ایسے جرائم کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی تھی، اس اعتبار سے اسلامی تعلیمات اور انسانی ضمیر کا مشترک پیغام یہی ہے کہ جنگ کسی بھی حال میں ظلم اور بے حیائی کا جواز نہیں بن سکتی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
آج کے دن ہمیں درج ذیل چار نکات پر کاربند رہنے کا عہد کرنا چاہیے:
(۱)بیداری: جنسی تشدد کو ایک سنگین جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف بدترین ظلم تسلیم کرناچاہئے۔
(۲)تحفظ: معاشرے میں ایسے حالات پیدا کرناچاہئے، جہاں کسی کی عزت، جان اور مال پر حملہ کرنا ناممکن ہو۔
(۳)مدد: مظلوموں کی آواز بنناچاہئے اور ان کی نفسیاتی و سماجی بحالی کے لیے عملی کردار ادا کرناچاہئے۔
(۴)انسداد: علم اور شعور کے ذریعے ان تمام اسباب کا سدِباب کرناچاہئے، جو بے حیائی اور جنسی استحصال کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
اگر ہم ان تجاویز پر عمل کرنے اور ان عہدوں کو پورا کرنے کا عزم کرلیں تو ان شاء اللہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا، جہاں ہر انسان کی جان، مال اور عزت محفوظ ہوگی۔

ایک تبصرہ شائع کریں