ماحولیات کا تحفظ اور اسلامی تعلیمات
محمدجمیل اخترجلیلی ندوی
ہدی چلڈرنس اکیڈمی، بلیاپور، دھنباد(جھارکھنڈ)
رابطہ نمبر: 8292017888
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی تخلیق سے بہت پہلے اس زمین کو ان تمام وسائل اور نعمتوں سے مزین فرمایا، جو انسانی بقا، ترقی اور ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے لیے ناگزیر تھیں، پھر جب انسان کو پیدا کیا تو اسے زمین میں محض آباد نہیں کیا؛ بل کہ اسے اپنی مخلوقات میں ایک خاص مقام عطا کرتے ہوئے زمین کا ’’خلیفہ‘‘ قرار دیا؛ چنانچہ فرشتوں کو اس فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ (البقرۃ:30) ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘۔
خلیفہ کے معنی جانشین اور ذمہ دار نگران کے ہیں،علامہ بیضاویؒ لکھتے ہیں:والخليفة من يخلف غيره وينوب منابه (تفسیر بیضاوی: ۱ /۶۸)’’اور خلیفہ وہ ہے، جو دوسرے کا جانشین بنے اور اس کی نیابت (اس کی جگہ کام) کرے‘‘، اس اعتبار سے انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ زمین میں فساد برپا کرنے کی بجائے اس کی اصلاح، تعمیر اور حفاظت کا فریضہ انجام دے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو نہایت حکمت اور توازن کے ساتھ پیدا فرمایا،جہاں پانی کی ضرورت تھی، وہاں دریا، نہریں اور سمندر جاری کیے، جہاں پہاڑوں کی ضرورت تھی، وہاں پہاڑ قائم فرمائے، زمین کو انسانی رہائش اور کاشت کاری کے لیے موزوں بنایا اور انسان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بے شمار نباتات، حیوانات اور جنگلات پیدا فرمائے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾ (البقرۃ: 29) ’’اسی نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں‘‘ اور ان چیزوں کوصرف پیدا ہی کیا؛ بل کہ انھیں انسانوں کے تابع کردیا، ارشادہے: ﴿وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ﴾ (الجاثیۃ:13) ’’اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو اپنے حکم سے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے‘‘۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کی یہ نعمتیں انسان کے لیے امانت ہیں، ملکیتِ مطلقہ نہیں، لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ ان وسائل سے اعتدال اور ذمہ داری کے ساتھ فائدہ اٹھائے، ان کے توازن کو بگاڑنے سے اجتناب کرے اور جہاں ماحولیاتی خرابی یا فساد پیدا ہو جائے، وہاں اصلاح اور تحفظ کی کوشش کرے، یہی احساسِ ذمہ داری اسلامی تعلیمات میں ’’خلافتِ ارضی‘‘ کا بنیادی تقاضا ہے اور یہی تحفظِ ماحولیات کے اسلامی تصور کی اساس بھی ہے۔
عصرحاضر میں ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبی وسائل کی قلت، فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے خاتمے جیسے مسائل پوری دنیا کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں، ان مسائل کا بنیادی سبب فطری وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال اور زمین میں توازنِ فطرت کو بگاڑنا ہے، اسلام، جو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، محض عبادات اور عقائد ہی کی تعلیم نہیں دیتا؛ بل کہ انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے؛چنانچہ قرآن و سنت میں زمین کی آبادکاری، وسائل کے معتدل استعمال، صفائی و طہارت، درختوں اور جانوروں کے تحفظ اور ہر قسم کے فساد سے اجتناب کی ایسی جامع تعلیمات موجود ہیں، جو ایک صحت مند اور متوازن ماحول کے قیام کی بنیاد فراہم کرتی ہیں، زیرِ نظر مضمون میں انہی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تحفظِ ماحولیات کے تصور، اس کی اہمیت اور اس سلسلے میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اسلام میں تحفظِ ماحولیات کا تصور
تحفظِ ماحولیات کا تصور اسلام میں کوئی جدید یا عارضی مسئلہ نہیں؛ بل کہ قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے ماخوذ ایک مستقل دینی و اخلاقی فریضہ ہے، اسلام انسان کو کائنات کا مالک نہیں؛ بل کہ امین(Steward) اور ذمہ دار نگران قرار دیتا ہے، اسی لیے وہ انسان کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے اور کائناتی توازن کو برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے،قرآن کریم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو ایک خاص توازن اور نظم کے ساتھ پیدا فرمایا ہے:﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ﴾ (الرحمن: 7-8)’’اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور توازن قائم فرمایا؛ تاکہ تم توازن میں خلل نہ ڈالو‘‘۔
اس آیت میں مذکور ’’میزان‘‘ (توازن) کا تصور جدید سائنس کے ایکوسسٹم بیلنس(Ecological Balance) کے عین مطابق ہے،امام فخر الدین رازیؒ لکھتے ہیں کہ: ’’جس طرح عقل اور علم دنیا کی آبادی اور اس کے نظام کے برقرار رہنے کا سبب ہیں، اسی طرح حکمت کی رو سے عدل بھی ایک بنیادی سبب ہے اور اس کے اسباب میں سب سے خاص اور نمایاں سبب میزان (عدل و توازن) ہے، جو ایک کامل نعمت ہے، اس نعمت کے عظیم ہونے کے باوجود لوگ اس کی قدر و منزلت کو عموماً محسوس نہیں کرتے؛ کیوں کہ یہ بہت عام اور آسانی سے میسر ہے، بالکل ہوا اور پانی کی طرح، جن کی اہمیت اور فضیلت کا صحیح اندازہ اُس وقت ہوتا ہے، جب وہ میسر نہ ہوں یا ان کی کمی واقع ہو جائے‘‘۔(تفسیرالرازی: ۲۹ /۹۱)
امام رازیؒ کی یہ تشریح درحقیقت جدید دور کے قدرتی وسائل کے بحران (Natural Resource Crisis) کی ایک علمی پیش بینی ہے، آج کی سائنسی تحقیق ثابت کر چکی ہے کہ جس طرح ہوا اور پانی کا بے دریغ استعمال اور قدرتی نظام میں مداخلت ماحولیاتی انحطاط (Environmental Degradation) کا سبب بنتی ہے، ٹھیک اسی طرح قرآن کا عطا کردہ 'میزان کا اصول، انسانیت کو وسائل کے پائیدار استعمال (Sustainable Development) اور کائناتی توازن کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
زمین میں فساد سے ممانعت
اسلامی تعلیمات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ زمین میں فساد پیدا نہ کیا جائے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾(الأعراف: 56)’’اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ‘‘،امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ زمین میں فساد پھیلانے سے منع فرماتا ہے، خصوصاً اس کی اصلاح و درستی کے بعد فساد برپا کرنے سے؛ کیوں کہ جب معاملات درست طریقے سے چل رہے ہوں اور پھر اس کے بعد فساد پیدا کیا جائے تو وہ بندوں کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر:۶ /۳۲۴)
عصر حاضر میں ماحولیاتی آلودگی، زہریلے فضلات کا اخراج، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، دریاؤں کی آلودگی اور قدرتی وسائل کی تباہی اس فساد کی نمایاں شکلیں ہیں،قرآن کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾(الروم:41)’’خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، ان اعمال کی وجہ سے، جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائے ہیں‘‘۔
یہ آیت انسانی اعمال اور ماحولیاتی بگاڑ کے درمیان سبب اور اثر (Cause and Effect) کا ایک مضبوط سائنسی تعلق قائم کرتی ہے، آج کی سائنس اسے ’’انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ماحولیاتی تغیر‘‘(Anthropogenic Climate Change) کہتی ہے، جس طرح زمین کا ایک قدرتی نظام (Earth's Regulatory System) حیات کے لیے سازگار تھا، انسان کی بے جا مداخلت نے اس کے توازن کو درہم برہم کر دیا ہے، جسے قرآن نے صدیوں پہلے ’’فساد‘‘ قرار دیا تھا، یہ سائنسی تطبیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن نے ماحولیاتی مسائل کو محض اخلاقی مسئلہ نہیں؛ بل کہ انسانی بقا کا ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے، جس کے نتائج (یعنی فساد کا ظہور) آج ہماری آنکھوں کے سامنے عالمی موسمیاتی بحران کی صورت میں موجود ہیں۔
وسائل کے استعمال میں اعتدال
اسلام نے قدرتی وسائل کے استعمال میں میانہ روی کو لازم قرار دیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ (الأعراف:31)’’کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘،امام شاطبیؒ کے نزدیک شریعت کا بنیادی مقصد بندوں کے مصالح کی حفاظت ہے؛ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: إِنَّ الشَّرِيعَةَ وُضِعَتْ لِمَصَالِحِ الْعِبَادِ، نیز لکھتے ہیں:تَكَالِيفُ الشَّرِيعَةِ تَرْجِعُ إِلَى حِفْظِ مَقَاصِدِهَا فِي الْخَلْقِ (الموافقات:3 /387)، اس بنا پر قدرتی وسائل کا تحفظ، ان کے ضیاع سے اجتناب اور انسانی زندگی کے لیے ضروری وسائل کی بقا بھی مقاصدِ شریعت کے دائرے میں داخل ہے ، اس کی تائید ایک حدی سے بھی ہوتی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ حضرت سعدؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا:مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ؟’’اے سعد! یہ اسراف کیسا؟‘‘، حضرت سعدؓ نے عرض کیا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ’’ہاں، اگرچہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو‘‘(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 425)۔
یہ حدیث خاص طورپرپانی کے تحفظ اورعمومی لحاظ سےآج کی جدید سائنسی اصطلاح میں یہ’’وسائل کا تحفظ‘‘ (Resource Conservation) کے سلسلے میں زریں اصول اوراسلامی تعلیمات کا عظیم نمونہ ہے،یہ حدیث سکھاتی ہے کہ وسائل کی فراوانی ان کے ضیاع کی اجازت نہیں دیتی؛بل کہ ان کا دانشمندانہ استعمال ہی بقائے حیات کا واحد راستہ ہے۔
صفائی و طہارت اور ماحولیاتی تحفظ
اسلام نے طہارت اور صفائی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 223)، اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ’’راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے‘‘(صحیح البخاری،حدیث نمبر: 2989)۔
یہ تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام صرف ذاتی صفائی ہی نہیں؛ بل کہ اجتماعی اور ماحولیاتی تحفظ کا بھی داعی ہے، جدید سائنسی تناظر میں راستے سے ’’تکلیف دہ چیز‘‘ ہٹانا محض ایک اخلاقی عمل نہیں؛ بل کہ یہ’’فضلہ کو ٹھکانے لگانے‘‘(Waste Management) کا بنیادی اصول ہے، جس طرح کچرے اور گندگی کے ڈھیر سے جراثیم پھیلتے ہیں اور بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، اسلام نے ہمیں اپنے گرد و پیش کو پاکیزہ رکھ کر ماحولیاتی آلودگی کو روکنے اور ایک صحت مند ماحول (Healthy Environment) کی تعمیر کا درس دیا ہے۔
درختوں اور نباتات کا تحفظ
اسلام میں شجرکاری کو عبادت اور صدقہ قرار دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ(صحیح البخاری، حدیث نمبر:2320) ’’جو مسلمان کوئی درخت لگاتا یا کھیتی بوتا ہے، پھر اس سے انسان، پرندہ یا جانور فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے‘‘، یہ حدیث نبوی ﷺ ماحولیات کے تحفظ میںBiodiversity(حیاتیاتی تنوع) کے کردار کو اجاگر کرتی ہے، ایک درخت کا لگانا صرف زمین کو ہرا بھرا نہیں کرتا؛ بل کہ وہ ماحول میں آکسیجن کے اخراج، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب اور جنگلی حیات کے مسکن کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے،اسی لیے اسلام میں اس عمل کو انسان کی بقا اور اللہ کی رضا سے جوڑا گیا ہے؛یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اس کی اہمیت کا انتہا درجے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:إن قامتِ السَّاعةُ و في يدِ أحدِكم فسيلةٌ، فإن استطاعَ أن لا تقومَ حتَّى يغرِسَها فليغرِسْها(الادب المفرد، حدیث نمبر: 479، ومسند أحمد، حدیث نمبر: 12981)’’ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہواور وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگانے پر قادر ہو تو وہ اسے لگا دے‘‘۔
یہ ہدایت اس بات کا سائنسی اور اخلاقی ثبوت ہے کہ درخت لگانا کسی وقتی ضرورت کا نہیں؛ بل کہ ایک ابدی اصول ہے، آج کی سائنس اسےCarbon Sequestration(کاربن کو جذب کرنا) اورClimate Mitigationکا سب سے مؤثر ذریعہ مانتی ہے، اسلام کا یہ پیغام ہے کہ انسان کو اپنی آخری سانس تک ماحول کی بہتری کے لیے کوشاں رہنا چاہیے، چاہے اس کے فوری نتائج نظر آئیں یا نہ آئیں۔
حیوانات کے حقوق
اسلام نے حیوانات کو محض انسانی ضرورت کی چیزنہیں؛ بل کہ اللہ کی ایک الگ مخلوق قرار دے کر ان کے حقوق کے تحفظ کا پابندکیا ہے،رسول اللہ ﷺ نے ایک بلی کو بھوکا مارنے والی عورت کے عذاب اور ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کی مغفرت کا ذکر فرماکریہ ثابت کیاکہ جانوروں کے ساتھ برتاؤ کا ہماری ابدی زندگی سے گہراتعلق ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 2365، 3318)،امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ:اس میں بلی اور اس جیسے جانوروں کو باندھ کر مارنے اورانہیں کھانے پینے کے بغیر قید رکھنے کی ممانعت ہے، نیزقابلِ احترام جانوروں کو پانی پلانے اور خوراک فراہم کرنے کے وجوب، اور انہیں بھوکا رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔(شرح النووی علی مسلم، کتاب السلام، باب تحریم قتل الہرۃ: 14 /240-241)
جدید سائنسی تناظر میں جانوروں کے یہ حقوق دراصلBiodiversity Conservation(حیاتیاتی تنوع کا تحفظ) کا ہی ایک حصہ ہیں،ہر جاندار ایکوسسٹم میں اپنا ایک مخصوص کردار ادا کرتا ہے، جسے سائنس میںEcological Niche کہا جاتا ہے،جب ہم کسی جاندار کو اس کا حق نہیں دیتے یا اس کے مسکن کو تباہ کرتے ہیں تو قدرتی توازن (Balance of Nature) بگڑ جاتا ہے، قرآن و سنت کی یہ تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ انسانی ترقی کا مطلب دوسری مخلوقات کی حق تلفی نہیں؛بل کہ تمام جانداروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے حقوق کا احترام ہے، جو کہ ایک مستحکم ماحول (Stable Environment) کے لیے ناگزیر ہے۔
فقہی اصول اور ماحولیاتی تحفظ
اسلامی فقہ کے اصول نہ صرف عبادات اور معاملات تک محدود ہیں؛ بل کہ یہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک مستحکم قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتے ہیں، اسلام کے چند بنیادی فقہی قواعد ماحولیاتی بحرانوں کے حل کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل پیش کرتے ہیں:
★ الضرر یزال (نقصان کو دور کیا جائے): یہ اصول ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کا بنیادی ضابطہ ہے،اس کا تقاضا ہے کہ جس عمل سے بھی زمین، پانی یا فضا کو نقصان پہنچ رہا ہو، اسے روکنا قانونی طور پر لازم ہے۔
★ لا ضرر ولا ضرار (نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ): یہ حدیثِ نبوی ﷺ ماحولیاتی انصاف کا عالمگیر اصول ہے، صنعتی آلودگی یا جنگلات کی کٹائی جیسے وہ تمام اعمال ،جو دوسروں کی صحت یا ان کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں، اس اصول کی رو سے حرام ہیں۔
★ المصلحة العامة مقدمة على المصلحة الخاصة (اجتماعی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح حاصل ہے): یہ قاعدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ وقتی ذاتی منافع (جیسے درخت کاٹ کر زمین سے عارضی فائدہ اٹھانا) کے لیے پوری نسل انسانی اور کائنات کے اجتماعی مفاد کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
یہ فقہی قواعد فضائی آلودگی، آبی آلودگی، شور کی آلودگی (Noise Pollution) اور صنعتی نقصانات جیسے پیچیدہ جدید مسائل کے شرعی حل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، ان اصولوں کا نفاذ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام ایک متوازن اور پائیدار معاشرے کے قیام کے لیے فطرت کو کتنا اہم سمجھتا ہے۔
عصر حاضر میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں
مذکورہ بالا قرآنی تعلیمات، نبوی ہدایات اور فقہی اصولوں کی روشنی میں، عصرحاضر میں تحفظِ ماحولیات کے سلسلے میں مسلمانوں پر درج ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جنھیں اپنانا آج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے:
1۔ وسائل کا پائیدار استعمال: پانی، بجلی اور دیگر قدرتی وسائل کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے ان کے استعمال میں اعتدال کو شعار بنائیں۔
2۔ شجرکاری کا فروغ: شجرکاری کو محض ایک کارِ خیر نہیں؛بل کہ ایک اجتماعی فریضہ سمجھیں اور جنگلات کے تحفظ میں عملی کردار ادا کریں۔
3۔ آلودگی سے اجتناب: فضا، پانی اور زمین کو آلودہ کرنے والے تمام عوامل (مثلاً پلاسٹک کا بے جا استعمال، زہریلا دھواں، گندگی کا اخراج) سے حتی الامکان اجتناب کریں۔
4۔ صفائی کا کلچر: صفائی و طہارت کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں؛بل کہ اپنے گرد و پیش اور عوامی مقامات کی صفائی کو اپنی اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھیں۔
5۔ ماحولیاتی شعور کی بیداری: اپنے خاندان، معاشرے اور نئی نسل میں ماحول کے تحفظ کا شعور بیدار کریں اور انہیں اس بات سے آگاہ کریں کہ زمین کی حفاظت دراصل انسانی بقا کی حفاظت ہے۔
6۔ ماحول دوست پالیسیوں کی حمایت: صنعت، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں ان پالیسیوں کی حمایت اور تائید کریں جو قدرت کے نظام میں خلل ڈالے بغیر ترقی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
اختتامیہ
تحفظِ ماحولیات اسلام کی نظر میں کوئی ثانوی یا اختیاری مسئلہ نہیں؛ بل کہ خلافتِ ارضی کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا ہے، قرآن و سنت کی تعلیمات انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ زمین اور اس کے وسائل اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جن کے بارے میں انسان سے باز پرس ہوگی، لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کے تحفظ، قدرتی وسائل کے درست استعمال، صفائی و شجرکاری کے فروغ اور زمین میں فساد کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے؛ تاکہ ایک متوازن، پاکیزہ اور پائیدار ماحول آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔
اسلام نے چودہ صدیوں قبل ماحولیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کے اعتدال کے ساتھ استعمال، شجرکاری، صفائی، حیوانات کے حقوق اور زمین میں فساد سے اجتناب کی جو تعلیمات دی ہیں، وہ آج کے ماحولیاتی بحران کے حل کے لیے نہایت مؤثر رہنمائی فراہم کرتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ ماحولیاتی تحفظ محض ایک سائنسی یا سماجی مسئلہ نہیں؛ بل کہ ایک شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے، جسے ادا کرنا ہر مسلمان کے لیے خلافتِ ارضی کے تقاضوں میں شامل ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں