اسلام کے بنیادی عقائد: ایک ہمہ جہت مطالعہ

اسلام کے بنیادی عقائد:ایک ہمہ جہت مطالعہ

اسلام کے بنیادی عقائد:ایک ہمہ جہت مطالعہ

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


عقیدہ کی لغوی اور اصطلاحی مفہوم

لفظ’’عقیدہ‘‘ عربی زبان کے لفظ '’’عقد‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی’’ گرہ لگانے، باندھنے اور پختہ کرنے‘‘ کے ہیں، اصطلاح میں ان نظریات اور حقائق کو’’ عقیدہ‘‘ کہا جاتا ہے، جن پر انسان کا دل ایسا پختہ ہو جائے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے،ایمان بھی قریب قریب اسی کا نام ہے، جو لفظ '’’امن‘‘ سے نکلا ہے اور اس کے لغوی معنی ’’تصدیق کرنے‘‘ کے ہیں ۔

عقیدہ کی اہمیت

  عقیدہ انسانی زندگی کی وہ اساس اور بنیاد ہے ، جس پر اس کی پوری فکری، اخلاقی اور عملی عمارت قائم ہوتی ہے، جس طرح ایک مضبوط عمارت اپنے مضبوط اورمستحکم ستونوں کے بغیر کھڑی نہیں رہ سکتی، اسی طرح اسلام کی عمارت بھی ایمان اور صحیح عقیدے کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی، قرآن مجید نے بار بار ایمان کو اصل قرار دیا ہے؛ کیوںکہ یہی وہ سرچشمہ ہے، جس سے اعمالِ صالحہ کی نہریں جاری ہوتی ہیں،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ..(النساء: 136)’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر (پختہ) ایمان لاؤ‘‘، یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایمان محض زبانی اقرار نہیں؛بل کہ ایک راسخ اور مضبوط عقیدہ ہے، جو دل میں یقین کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر پورے وجود پر اثر انداز ہوتا ہے۔

دنیاوی زندگی میں عقیدہ کی اہمیت

صحیح عقیدہ انسان کے اخلاق و کردارکو سنوارتا ہے،جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہر حال میں اسے دیکھ رہا ہے، اس کے اعمال کا حساب ہوگا اور اسے ہر چھوٹے بڑے عمل کا بدلہ ملے گاتو اس کے اندرخود احتسابی، دیانت، امانت اور تقویٰ  پیدا ہوتا ہے، قرآن مجید میں ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ(الحجرات:13) ’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘۔

صحیح عقیدہ انسان کو بخل، تکبر، حسد اور ظلم جیسی برائیوں سے پاک کرتا ہے؛کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اصل عزت و ذلت، نفع و نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس یقین کے نتیجے میں وہ دنیا کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نہیں ہوتا؛بل کہ عدل، احسان اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بناتا ہے۔

عصر حاضر میں جب مادہ پرستی، الحاد  اور اخلاقی بے راہ روی  کا غلبہ بڑھ رہا ہے، صحیح عقیدہ ہی وہ قوت ہے، جو انسان کو فکری انتشار سے بچا کر اسے مقصدِ حیات کا شعور عطا کرتا ہے۔

آخرت میں عقیدہ کی اہمیت

آخرت میں نجات کا دارومدار سب سے پہلے ایمان اور صحیح عقیدہ پر ہے،قرآن مجید نے واضح طور پر بیان فرمایا:وَمَن يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ(المائدۃ: 5)’’اور جو ایمان کا انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا‘‘، اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ...(البقرۃ: 25) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے...‘‘، ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے، اگر عقیدہ درست ہو تو معمولی سا عمل بھی اللہ کے ہاں مقبول ہو سکتا ہے؛لیکن اگر ایمان نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ: عقیدہ محض نظری بحث  یا علمی موضوع نہیں؛ بل کہ پوری انسانی زندگی کا محور ہے، یہی انسان کو دنیا میں باوقار بناتا ہے اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے؛ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھے، اس کی حفاظت کرے اور اسے اپنی زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرے۔

ایمان اور اسلام کاباہمی تعلق اور فرق

ایمان اور اسلام دو ایسی اصطلاحات ہیں، جن کا تعلق انسان کے باطن  اور ظاہر سے ہے ، ان کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے علماء نے درج ذیل اصول بیان کیا ہے:

(۱):اگر قرآن و حدیث میں یہ دونوں الفاظ الگ الگ(یعنی دو مختلف جگہوں پر) آئے ہوں تو دونوں کے معنی ایک ہی ہوں گے ۔

(۲):اگر یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ آئے ہوں تو ان کے معنی میں فرق ہوگا،ایمان سے مراد باطنی اعمال ہوںگے، جن کا تعلق خالص دل سے ہے، جب کہ اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوںگے، جن کا تعلق اعضاء و جوارح سے ہے ۔

ایمان کی حقیقت

ایمان اسلام کی روح اور بندۂ مؤمن کی اصل پہچان  ہے، یہ محض ایک دعویٰ یا رسمی وابستگی کا نام نہیں؛بل کہ ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہے، جو دل، زبان اور اعضاء:تینوں کو اپنے نور سے منور کرتی ہے، اصل ایمان تو دل سے ماننے کا نام ہے؛ تاہم اہلِ سنت کے نزدیک ایمان کے مکمل ہونے کے لیے دل سے تصدیق کے ساتھ ساتھ زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل بھی ضروری ہیں، ان تینوں میں سے کسی ایک کی کمی ایمان کو ناقص بنا دیتی ہے۔

   دل سے تصدیق (تصدیق بالقلب):ایمان کی بنیاد دل کا یقین ہے، جب تک انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ، کتابوں، فرشتوں اور یومِ آخرت پر پختہ یقین پیدا نہ ہو، ایمان کی عمارت قائم نہیں ہوتی،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا...(الحجرات:15)’’مومن تو وہی ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے‘‘، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی روح یقینِ قلبی ہے، جس میں شک و شبہ کی آمیزش نہ ہو۔

   زبان سے اقرار (اقرار باللسان): دل کی تصدیق کے بعد زبان سے کلمۂ توحید کا اقرار ضروری ہے، یہی اقرار انسان کو اسلامی معاشرے میں پہچان عطا کرتا ہے اور اس پر اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں،قرآن مجید میں ہے:قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا...(البقرۃ: 136)’’کہہ دو: ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر، جو ہماری طرف نازل کیا گیا‘‘، یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان کا اظہار اور اعلان بھی مطلوب ہے؛ تاکہ دل کا یقین زبان کے ذریعہ ظاہر ہو۔

   اعضاء سے عمل (عمل بالجوارح):ایمان کا عملی مظاہرہ اعمالِ صالحہ کی صورت میں ہوتا ہے، نماز، روزہ، زکوٰۃ، اخلاقِ حسنہ، دیانت داری اور عدل: یہ سب ایمان کی عملی شکلیں ہیں، اگر دل اور زبان کا دعویٰ ہو؛ مگر عمل نہ ہو تو ایمان کمزور اور مشکوک ہو جاتا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ(البقرۃ:143)’’اور اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں‘‘۔

متعدد مفسرین نے یہاں ’’ایمان‘‘ سے مراد نماز لی ہے (تفسیربیضاوی:۱ /۱۴۳)، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل بھی ایمان کا حصہ ہے،اسی طرح ارشاد ہے:إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ...(متعدد مقامات)’’بے شک وہ لوگ’ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے...‘‘، قرآن کریم میں ایمان اور عملِ صالح کو ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان محض نظری عقیدہ نہیں؛بل کہ عملی زندگی  سے جڑا ہوا ہے۔

آج کے دور میں جب ایمان کو صرف ایک شناخت یا کلچرل وابستگی سمجھ لیا گیا ہے، ضروری ہے کہ ایمان کو اس کی حقیقی جامع صورت میں سمجھا جائے، سوشل میڈیا پر دینی جملے لکھ دینا، یا محض مذہبی نسبت پر فخر کرنا کافی نہیں؛ بل کہ کردار، معاملات، کاروبار اور معاشرت میں دیانت، عدل اور تقویٰ کا مظاہرہ ہی ایمان کی سچائی کی دلیل ہے۔

خلاصہ یہ کہ: ایمان ایک جامع حقیقت ہے، جس میں دل کا یقین اس کی بنیاد،زبان کا اقرار اس کا اعلان،اور اعضاء کا عمل اس کی تکمیل ہے،صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں؛بل کہ عملی مظاہرہ ہی اس کی صداقت کی علامت ہے، جس قدر یقین مضبوط ہوگا اور عمل صالح زیادہ ہوگا، اسی قدر ایمان کامل اور روشن ہوگا۔

ذرائع علم

انسان کو علم مختلف ذرائع سے حاصل ہوتا ہے؛ لیکن ہر ذریعہ کی ایک حد اور دائرہ کار ہے، اسلامی فکر میں بنیادی طور پر حواس، عقل اور وحی  کو ذرائعِ علم قرار دیا گیا ہے،ان تینوں کی صحیح پہچان اور ان کی حدود کا ادراک  نہایت ضروری ہے؛تاکہ انسان نہ افراط میں مبتلا ہو اور نہ تفریط میں۔

حواسِ خمسہ

حواسِ خمسہ یعنی: دیکھنا، سننا، چکھنا، چھونا اور سونگھنا: یہ وہ بنیادی ذرائع ہیں، جن کے ذریعے انسان مادی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ(النحل:78)’’اور اللہ ہی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور اس نے تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے؛ تاکہ تم شکر گزار بنو‘‘، اس آیت میں سماعت، بصارت اور دل (عقل) کو علم کے ذرائع کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛تاہم حواس کی اپنی محدودیت ہے،یہ صرف مادی اور محسوس اشیاء کا ادراک کرتے ہیں،مثال کے طور پر ہم آواز سن سکتے ہیں، رنگ دیکھ سکتے ہیں؛ لیکن جنت، دوزخ یا فرشتوں کو براہِ راست محسوس نہیں کر سکتے، لہٰذا حواس کو غیب کا مکمل ذریعہ سمجھ لینا درست نہیں۔

عقل

عقل وہ قوت ہے، جو حواس سے حاصل شدہ معلومات کو ترتیب دیتی، تجزیہ کرتی اور ان سے نتائج اخذ کرتی ہے، سائنس، فلسفہ اور روزمرہ زندگی کے بیشتر فیصلے عقل ہی کے ذریعے انجام پاتے ہیں،قرآن کریم بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے:أَفَلَا تَعْقِلُونَ(متعدد مقامات)’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘، یہ آیات عقل کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں؛لیکن عقل کی بھی ایک حد ہے، یہ صرف انہی امور میں فیصلہ کن رہنمائی دے سکتی ہے، جو اس کے دائرۂ ادراک میں ہوں، غیب کے حقائق جیسے: جنت و دوزخ کی کیفیت، فرشتوں کی حقیقت، یا تقدیر کی مکمل حکمت ان امور میں عقل رہنمائی تو کر سکتی ہے؛ مگر قطعی اور مکمل علم فراہم نہیں کر سکتی، اگر عقل کو وحی سے بالاتر سمجھ لیا جائے تو انسان شکوک اور گمراہی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

وحی

وحی علم کا سب سے معتبر اور قطعی ذریعہ ہے، یہ وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ رسولوں کو حقائقِ غیب اور ہدایتِ کاملہ عطا کرتا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۝ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ(الجن: 26-27)’’ اللہ غیب کا جاننے والا ہے، اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا؛ مگر جس رسول کو چاہے‘‘،ایمان کے تمام ارکان اللہ پر ایمان،فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان،آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان ان سب کا حقیقی اور مستند علم ہمیں وحی ہی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، عقل ان کی حکمت سمجھنے کی کوشش کر سکتی ہے؛ لیکن اصل خبر وحی ہی دیتی ہے۔

تینوں ذرائع کا باہمی تعلق

اسلام میں نہ تو حواس کا انکار ہے، نہ عقل کی نفی اور نہ ہی وحی سے بے نیازی؛ بل کہ صحیح منہج یہ ہے کہ:

  حواس مشاہدہ فراہم کرتے ہیں۔

  عقل تجزیہ کرتی ہے۔

  اور وحی رہنمائی اور تصحیح کرتی ہے۔

اگر ان میں توازن قائم رہے تو انسان صحیح علم اور ہدایت تک پہنچتا ہے؛ لیکن اگر وحی کو چھوڑ کر صرف عقل یا صرف حواس پر اعتماد کیا جائے تو انسان مادیّت یا الحاد کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ: ذرائعِ علم تین ہیں: حواس، عقل اور وحی، حواس محدود ہیں، عقل رہنمائی کرتی ہے؛ مگر غیب تک مکمل رسائی نہیں رکھتی، جب کہ وحی قطعی اور محفوظ ذریعہ ہے، جو انسان کو حقیقتِ کاملہ تک پہنچاتی ہے،اسی توازن کے ساتھ اسلام ایک جامع عملی نظام پیش کرتا ہے، جو دنیا اور آخرت دونوں کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی