عقیدہ اور زندگی

عقیدہ اور زندگی

عقیدہ اور زندگی

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


اسلامی عقائد محض چند بے جان تصورات یا زبان کے رسمی دعوے نہیں؛ بل کہ وہ زندہ اور تابندہ حقیقتیں ہیں، جو انسان کے باطن کو جِلا بخشتی اور اس کی پوری زندگی کو ایک بامقصد سمت عطا کرتی ہیں، توحید، رسالت، کتبِ سماویہ، ملائکہ، آخرت اور تقدیر:یہ سب وہ روشن ستون ہیں ،جن پر ایک مومن کی فکری و عملی عمارت استوار ہوتی ہے،جب یہ عقائد دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جاگزیں ہو جاتے ہیں تو ایک ایسی شخصیت ابھرتی ہے، جو اندر سے سکون و اطمینان کا پیکر اور باہر سے وقار و کردار کی روشن تصویر بن جاتی ہے۔

عقیدۂ توحید: انسان کو وہ عظیم آزادی عطا کرتا ہے، جس کا تصور بھی مادی دنیا نہیں کر سکتی،جب بندہ یہ مان لیتا ہے کہ کائنات کا مالک و مختار صرف اللہ ہے تو اس کے دل سے ہر جھوٹے سہارے، ہر باطل قوت اور ہر فانی اقتدار کا خوف مٹ جاتا ہے، وہ صرف ایک رب کے سامنے جھکتا ہے اور اسی سے امید وابستہ کرتا ہے، قرآن اسی حقیقت کو بڑے جلال کے ساتھ بیان کرتا ہے:اللّٰہُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ(البقرۃ:255)’’اللہ وہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘ اور تنبیہ کرتا ہے:فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ(المائدۃ:44)’’بس تم لوگ لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو‘‘، اس طرح توحید انسان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر کے عزت و حریت کی فضا میں سانس لینا سکھاتی ہے۔

پھر جب ایمان کی یہ شمع: رسالت اور کتبِ سماویہ کے یقین سے روشن ہوتی ہے تو زندگی کی راہیں مزید واضح ہو جاتی ہیں، انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ اس دنیا میں بھٹکنے کے لیے نہیں؛ بل کہ ایک عظیم مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے،قرآن کریم اسی حقیقت کو یوں اجاگر کرتا ہے:كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ(ابراہیم:1)’’یہ ایک کتاب ہے، جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے؛ تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں‘‘ اور نبی کریم ﷺ نےاس رہنمائی کو یوں مکمل فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت‘‘، یہی وہ چراغ ہے، جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتا اور انسان کو گمراہی کی وادیوں سے بچاتا ہے۔

ایمان بالملائکہ اور عقیدۂ آخرت جب دل میں جاگزیں ہوتا ہے تو انسان کے اندر ایک بیدار نگہبان جاگ اٹھتا ہے، اسے ہر لمحہ یہ احساس رہتا ہے کہ اس کا ہر قول و عمل محفوظ ہو رہا ہے اور ایک دن اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے، قرآن کہتا ہے:مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ(ق:18)’’انسان جو بھی بات زبان سے نکالتا ہے، اس کے پاس ایک نگہبان (فرشتہ) حاضر رہتا ہے، جو اسے لکھ لیتا ہے‘‘ اور خبردار کرتا ہے:فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ...(الزلزال: 7-8)’’پس جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا‘‘، یہی احساسِ جوابدہی انسان کو تنہائی میں بھی برائی سے روکتا اور اسے عدل، دیانت اور امانت کا پیکر بنا دیتا ہے، یہی وہ کیفیت ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے اس طرح تعبیر فرمایا:الإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘۔

اور جب تقدیر پر ایمان کی نرم؛ مگر مضبوط چادر انسان کے دل پر پڑتی ہے تو وہ زمانے کے تھپیڑوں سے ٹوٹتا نہیں؛بل کہ سنبھل جاتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ جو کچھ ہوا، اللہ کے اذن سے ہوا، اور جو نہ ملا، اس میں بھی کوئی حکمت پوشیدہ ہے، قرآن اس یقین کو یوں بیان کرتا ہے:قُل لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا(التوبۃ:51)’’کہہ دیجئے: ہمیں ہرگز کوئی چیز نہیں پہنچے گی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے‘‘اور یہ اعلان بھی کرتا ہے:مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ(التغابن:11)’’کوئی بھی مصیبت نہیں آتی؛ مگر اللہ کے حکم (اجازت) سے آتی ہے‘‘، نبی اکرم ﷺ نے مومن کی اسی کیفیت کو سراہتے ہوئے فرمایا:عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے! اس کا ہر حال اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور یہ بات صرف مومن کے لیے ہے۔ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، اور وہ اس کے لیے بہتر ہو جاتی ہے؛ اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور وہ بھی اس کے لیے بہتر ہو جاتی ہے‘‘، یہی ایمان اسے صبر و شکر کے ایسے مقام پر فائز کرتا ہے، جہاں نہ خوشی اسے بے قابو کرتی ہے اور نہ غم اسے پست ہمت بناتا ہے۔

ایمان کی یہ روشنی، جب دل میں اترتی ہے تو انسان کا دائرۂ فکر اپنی ذات سے نکل کر پوری انسانیت تک پھیل جاتا ہے، وہ ہر انسان میں اللہ کی مخلوق کو دیکھتا ہے اور اس کی خدمت کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے،اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ’’سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو‘‘۔

الغرض: ایمان ایک ایسا بیج ہے، جو دل کی زمین میں بویا جائے تو عملِ صالح کی سرسبز شاخیں خود بخود پھوٹنے لگتی ہیں، اگر یہ جڑ مضبوط ہو تو زندگی کے کانٹے بھی پھول بن جاتے ہیں اور دشوار راستے بھی آسان دکھائی دینے لگتے ہیں، آج کی مادی چکاچوند میں، جہاں انسان ظاہری ترقی کے باوجود باطنی سکون سے محروم ہے، اسلامی عقائد ہی وہ آبِ حیات ہیں، جو اسے روحانی بالیدگی، اخلاقی رفعت اور ابدی کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی