بچوں کی تعلیم اوروالدین کی ذمہ داری
محمد جمیل اخترجلیلی ندوی
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے، جوحیثیت انسانی جسم کے اندرریڑھ کی ہڈی کی ہے، اگر ریڑھ کی ہڈی کو کچھ ہوجائے توانسان چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتاہے، ٹھیک اسی طرح کسی قوم میں اگرتعلیم کا رواج نہ ہوتووہ قوم دنیاکے اسٹیج میں بے حیثیت بن جاتی ہے۔
سولہویں صدی عیسوی سے قبل اگریوروپ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں توہم اسے غیرترقی یافتہ پاتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ تعلیم سے دوری ہے؛ لیکن پھرانھوں نے تعلیم کی طرف توجہ دی ، جس کے نتیجہ میں وہ آج ترقی کی اس منزل پرقدم رکھ چکاہے، جہاں تک پہنچنے کے لئے اب بھی ہمیں برسوں لگ جائیں گے۔
اسلام نے تعلیم سے روکانہیں؛ بل کہ اس کے حصول کا حکم دیاہے، اس کی نظرمیں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺپر سب سے پہلی وحی جونازل ہوئی، وہ اقرأ(پڑھو)کی تھی، دوسری وحی میںبھی تعلیم کا ذکر موجود ہے، پھرنبی کریمﷺ کی ذات نے تواسے فرض قرار دے دیا، فرمایا:طلب العلم فریضة علی کل مسلم (سنن ابن ماجة،باب فضل العلماء…حدیث نمبر:۲۲۴)’’علم کاحاصل کرناہرمسلمان (خواہ مردہویاعورت)پرفرض ہے‘‘، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی نگاہ میں تعلیم کی بہت زیدہ اہمیت ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں کون سی تعلیم حاصل کرنی چاہئے؟ اس کے جواب کے لئے ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم کی دوقسمیں کی گئی ہیں:(۱) فرض عین۔(۲) فرض کفایہ۔
مشہوراسلامی فلاسفرامام غزالیؒ نے اپنی مشہورکتاب (’’احیاء علوم الدین ‘‘:۱ /۳۱)میں تین طرح کے علوم کوفرض علم میں داخل کیاہے:
(۱)عقائد سے متعلق علم:جس کوہم مختصراً’’ایمانِ مجمل‘‘میں پڑھتے ہیں، یعنی اللہ ، رسول، ملائکہ، کتاب، آخرت کے دن، تقدیرکے اچھے وبُرے اورمرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر(ان کی تمام تفصیلات کے ساتھ، جن کوطوالت کی وجہ سے یہاں بیان نہیں کیاجاسکتا)ایمان لانا۔
(۲) عمل سے متعلق علم:ایمان واعتقاد کے بعد ’’عمل‘‘ کا نمبرآتاہے، یعنی ان چیزوں کی واقفیت، جن کے کرنے کا ہمیں حکم دیاگیاہے اورنہ کرنے کی صورت میں ’’عذابِ ألیم‘‘ (دردناک عذاب)کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے: نماز، روزہ، زکوۃ اورحج وغیرہ سے متعلق جان کاری۔
(۳) تَرْک سے متعلق علم:’’ایمان ‘‘و’’عمل‘‘ سے متعلق علم جان لینے کے بعد اب ہمیں ان ممنوعات کے بارے میں جاننا ضروری ہے ،جن کے کرنے سے ہمیں روکاگیاہے اورکرلینے کی صورت میں سزاکامستحق قراردیاگیاہے۔
جب کہ زراعت، صناعت، حرفت، ڈاکٹری، انجنیئرنگ، ریاضی وغیرہ کی تعلیم کو فرض کفایہ علوم میں شامل کیاہے (إحیاء علوم الدین:۱ /۳۴)، اب ظاہر ہے کہ ہمیں سب سے پہلے وہ علم حاصل کرناچاہئے، جوفرض عین ہو، نہ کہ فرض کفایہ؛ لیکن دین بیزاری کے اس دورلوگ اپنے بچوں کوتعلیم دلانے کی طرف متوجہ توضرورہوئے ہیں؛ لیکن اکثرکارجحان فرض کفایہ کی طرف ہے، جوہمارے لئے اورہمارے بچوں کے لئے یقینا ایسا نقصان دہ ہے، جس کی تلافی شایدہی ہوسکے، بدقسمتی ہماری یہ بھی ہے کہ جن اداروں میں فرض عین کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ فرض کفایہ کی طرف نہیں کے برابرتوجہ دیتے ہیں، جس کانتیجہ آج کے مادی دورمیں یہ ہوتاہے کہ قوم کے اکثرافراد اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ان اداروں کارخ ہی نہیں کرتے، نیز ایسے ادارے آٹے میں نمک کے برابرہیں، جہاں فرض عین کے ساتھ ساتھ فرض کفایہ کی بھی تعلیم ہوتی ہے؛ بل کہ اکثرادارے وہ ہیں، جوغیروں کے ہیں اورجہاں ایسی تعلیم کا نام لینابھی قابل گرفت ہے، جوہمارے لئے فرض عین ہے۔
موجودہ زمانہ میں بچوں کو تعلیم سے بے بہرہ رکھنا تو کسی طورپردرست نہیں؛ لیکن ظاہرہے کہ ان کے ایمان کابھی تو سودا نہیں کیاجاسکتا، لہٰذا اگرایسے اداروں میں تعلیم دلانا پڑے، جہاں فرض عین کی تعلیم نہیں ہوتی توبچوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے والدین پردرج ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
۱-ضروری دینی تعلیم کاانتظام کرنا:اتنی مقدارمیں دینی تعلیم کاحصول ضروری ہے، جس کے ذریعہ سے عقیدہ کے اندردرستگی اورحلال وحرام کے درمیان تمیز کی جاسکے، فرائض کوجاناجاسکے اوراوامر(جن اعمال کے کرنے کاحکم دیا گیا ہے)اورنواہی(جن اعمال سے رکنے کاحکم دیاگیاہے)کی واقفیت ہوسکے، اللہ کے رسولﷺکے مبارک ارشاد {طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم} (سنن ابن ماجۃ،باب فضل العلماء… حدیث نمبر:۲۲۴)’’علم کاحاصل کرناہرمسلمان (خواہ مرد ہو یا عورت) پرفرض ہے‘‘ کامطلب بھی یہی ہے، والدین کوچاہئے کہ اپنے بچہ کے سلسلہ میں اس کی فکرکریں؛ کیوں کہ بنیادی دینی تعلیم کے بغیرتووضوبھی درست نہیں ہوتا؛ چہ جائیکہ نماز! اسی لئے اللہ کے رسول ﷺنے جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک وفدحضوراکرم ﷺ کی صحبتِ بابرکت میں بیس دن تک سعادت مندیوں اورخوش بختیوں کی نعمتوں سے بہرہ مندہونے کے بعد گھرواپسی کاارادہ کیا تواللہ کے رسول ﷺ نے زادِ راہ سے سرفراز فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:ارجعوا إلی أھلیکم، فأقیموافیھم، وعلموھم، ومروھم۔(بخاری،حدیث نمبر:۶۳۱،مسلم،حدیث نمبر:۶۷۴)اپنے گھروالوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھیں کے درمیان قیام کرو، انھیں سکھاؤ اورانھیں حکم دو۔
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں:اسلامی شریعت کی تعلیم دو اورواجبات کی ادائے گی اورمحرمات سے اجتناب کاحکم دو۔(ارشادالساری:۰۱ /۲۸۷)، اور ظاہرہے کہ بنیادی دینی تعلیم میں یہی باتیں شامل ہوتی ہیں،اِس کے لئے والدین درج ذیل صورتیں اختیارکرسکتے ہیں:
(الف)کسی ایسے معلم کاانتظام، جوگھرمیں آکربنیادی دینی تعلیم دے۔
(ب)تقریباً ہرمسجد میں صباحی ومسائی مکاتب کانظام رائج ہے، والدین اپنے بچوں کوان میں بھیجنے کااہتمام کریں۔
(ج)اگربچے بالغ اورباشعور ہیں توانھیں تبلیغی جماعت میں بھی بھیج کربنیادی دینی تعلیم و عملی تربیت دی جاسکتی ہے۔
۲-پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی کرانا: نماز اسلام کا ایسا بنیادی اوراہم رکن ہے، جس کی تربیت دینے کاحکم سات سال ہی سے دیا گیاہے، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشادہے: مروا أولادکم والصلاۃ وھم أبناء سبع سنین، واضربوھم علیھا وھم ابناء عشرسنین۔(ابوداود، متی یؤمرالغلام بالصلاۃ، حدیث نمبر:۴۹۵)اپنی اولادکوسات سال کی عمرمیں نماز کاحکم دو اوردس سال کی عمرمیں اس کے چھوڑنے پرمارو۔
والدین کواپنے آپ سے یہ عہدکرناہوگاکہ بچوں کی کوئی بھی نماز قضاء نہیں ہوگی، خواہ وہ کہیں بھی رہیں، سیروتفریح کے لئے جائیں یاشادی بیاہ میں شرکت کے لئے، کھیل کے میدان میں ہوں یا ہاسپٹل کے وارڈ میں، دوستوں کے جمگھٹوں میں یا بازارکے شورہنگاموں میں، کہیں بھی ہوں بہرصورت ان کی نماز قضا نہیں ہوگی۔
۳-دینی اجتماعات میں شرکت کرانا:علاقہ یااطراف واکناف میں ہونے والے دینی اجتماعات میں بچوں کی شرکت کرانی چاہئے، وہاں تھوڑے وقت میں زیادہ نفع حاصل ہوجایاکرتاہے، اِسی طرح ہفتہ واری مجالس، مثلا: درسِ حدیث اوردرسِ قرآن کی مجالس میں حاضری دلوانی چاہئے کہ یہ بھی کم وقت میں زیادہ نفع بخش ہوتی ہیں۔
۴-دینی کتابوں کے مطالعہ کااہتمام کرانا: فارغ اوقات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انھیں دینی کتابوں کابھی مطالعہ کراناچاہئے، خصوصاً اُس ذات کی سیرت پڑھوانی چاہئے، جس کی امت میں ہمارا شمارہوتاہے، یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ آج اُس قدسی صفت ذات پردشمن کیچڑ لگارہے ہیں، اگر بچے اُن کی سیرت پڑھیں گے تودشمن کومنھ توڑجواب دے سکیں گے، ورنہ دشمن کی طرف سے لگائے گئے الزام کے نتیجہ میں خود اُوبنے ڈوبنے لگیں گے، نیز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، تابعین، بزرگانِ دین اورامت کے مصلحین کی سوانح وسیرت کابھی مطالعہ ضرورکروانا چاہئے، اسی طرح اسلامی اور مسلم فاتحین کی تاریخ سے بھی روشناس کراناضروری ہے۔
۵-گھرکواسلامی ماحول دینا: مذکورہ تمام امورکے ساتھ ساتھ اپنے گھرکے فضاکواسلامی بناناضروری ہے، جب تک گھر کواسلامی ماحول میں تبدیل نہیں کریں گے، اس وقت تک بچوں کا ذہن اسلامی سانچہ میں نہیں ڈھل سکتااورجب تک اسلامی سانچہ میں ذہن نہ ڈھلے، اس وقت تک مذکورہ امورکو سود مند قرارنہیں دیاجاسکتا۔
اگروالدین ان ذمہ داریوں کوادا نہیں کررہے ہیں تو بچوں کے ایمان کی حفاظت کی عملی طورپرگارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے؛ لیکن والدین اگران ذمہ داریوں کے سلسلہ میں سنجیدہ ہوں اور اپنے بچوں کوان پرعمل درآمد کرائیں توان شاء اللہ ان کا ایمان عملی طورپرمحفوظ رہے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے،آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں