بندگی کی روشن رات
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ خیمہ زن ہے اور یہی وہ مبارک عشرہ ہے، جس کی پُرنور ساعتوں میں ایک ایسی شب جلوہ گر ہوتی ہے، جو حریمِ کائنات کا سب سے روشن استعارہ ہے، یہ ہے ’’لیلۃ القدر‘‘، یعنی: وہ شبِ فرخندہ بخت، جس کے ماتھے پر مہرِ الٰہی ثبت ہے اور جس کی ایک ساعتِ سعید عمرِ گریزاں کے ہزار مہینوں پر بھاری ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ(سورۃ القدر:2-3)’’اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔
خالقِ کائنات نے اس رات کو صیغۂ راز میں رکھ کر بندۂ مومن کے شوقِ جستجو کو مہمیز دی ہے، یہ اخفا دراصل طالب اور مطلوب کے درمیان اس تعلق کا امتحان ہے، جہاں پانے کی تڑپ کبھی کبھی پا لینے کے اجر سے بھی زیادہ قیمتی ہو جاتی ہے، یہ محض وقت کی گردش کا ایک پڑاؤ نہیں؛ بل کہ وہ مبارک ساعت ہے جب جبرائیلِ امینؑ کی قیادت میں ملائکہ کے قافلے آسمانِ سدرہ سے رختِ سفر باندھ کر زمین کی وسعتوں میں اتر آتے ہیں، کائنات کا ذرہ ذرہ اس الٰہی سکینت سے معطر ہو جاتا ہے، جس کا تذکرہ قرآن کریم یوں کرتا ہے:تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ( سورۃ القدر: 4-5)’’اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں، یہ رات طلوعِ فجر تک سراپا سلامتی ہے‘‘۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر کی جستجو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں کی جائے؛ مگر سچی طلب کا تقاضا یہ ہے کہ یہ جستجو صرف تاریخوں اور ہندسوں تک محدود نہ رہ جائے؛ بل کہ پورے عشرے کو ہی سراپا عبادت بنا دیا جائے، یہ رات دراصل ان دلوں پر منکشف ہوتی ہے، جن کے دریچے بیدار ہوں اور جن کی آنکھوں میں ندامت کے چراغ روشن ہوں، نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جس نے شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کیا، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں‘‘( صحیح بخاری)۔
یہ رات غفلت کی چادر تان کر سونے کی نہیں؛ بل کہ خوابیدہ نصیبوں کو اشکِ ندامت سے بیدار کرنے کی رات ہے، جب رحمتِ باری تعالیٰ بندوں کو پکارتی ہے کہ ’’ہے کوئی مانگنے والا؟‘‘ تو بندۂ مومن کا شیوۂ بندگی یہی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے حضور سراپا نیاز بن جائے۔
نماز و قیام میں ایسا والہانہ خشوع ہو کہ پیشانی سجدوں سے آشنا ہو جائے، قرآنِ کریم کی ایسی تلاوت ہو کہ دل اس نورانی کلام کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائےاور استغفار کی ایسی کثرت ہو کہ بندہ اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے رب کی بے پایاں رحمت کا در کھٹکھٹاتا رہے، سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو میں کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے وہ مختصر؛ مگر جامع دعا سکھائی، جو دراصل عرضِ نیاز کا نچوڑ ہے، فرمایا:اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ’’اے اللہ! تو معاف فرمانے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے‘‘۔
وقت کی بے رحم موجیں ہمیں اس مقام تک لے آئی ہیں کہ پچھلے سال کے کئی ہم سفر آج مٹی کی اوڑھنی اوڑھے ابدی نیند سو رہے ہیں، یقیناً ان کی یہ حسرت ہوگی کہ کاش زندگی کی ایک ساعت اور مل جاتی؛ تاکہ وہ اس مبارک رات کو پا لیتے، آج ہم سانسوں کی مالا میں زندگی کے موتی پروئے بیٹھے ہیں؛ مگر کیا خبر کہ یہ رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو؟ کیا معلوم کہ آنے والی سحر ہم اس بزمِ عبادت میں شریک ہوں یا نہ ہوں؟
آئیے! اس رات کو غفلت کی نذر کرنے کی بجائے سجدوں کی روشنی سے منور کریں اور اپنی نیند کو اس ابدی سکون کے نام کر دیں، جو صرف بندگی میں میسر آتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ شبِ قدر گزر جائے اور ہم غفلت کے اندھیروں میں حسرت کے ساتھ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں