متاعِ جاں کا آخری پڑاؤ

متاعِ جاں کا آخری پڑاؤ

متاعِ جاں کا آخری پڑاؤ

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


رمضان المبارک کا قافلہ اپنی منزلِ مقصود کی جانب رواں دواں ہے اور اس کی ساعتیں اب بوجھل قدموں کے ساتھ رخصت ہو رہی ہیں،گزرے ہوئے ایام قصۂ پارینہ بن کر تاریخ کے نہاں خانوں میں روپوش ہو چکے ہیں اور جو باقی ہیں وہ بھی مٹھی سے ریت کی طرح لمحہ بہ لمحہ پھسل رہے ہیں، دل کو لرزا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ کیا معلوم یہ ہماری زندگی کی شامِ غریباں کا آخری رمضان ہو، قرآنِ حکیم کی پکار ہے: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۝ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ’’روئے زمین پر موجود ہرچیز فنا ہونے والی ہے اور صرف تیرے رب کی ذات باقی رہے گی، جو صاحبِ جلال و اکرام ہے‘‘۔

ہم ہمیشہ ’’فردا‘‘ یعنی آنے والے کل کے سراب کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ سانسوں کی ڈور کب ٹوٹ جائے، اس کی کوئی ضمانت نہیں، زندگی کی مہلت بظاہر وسیع دکھائی دیتی ہے؛لیکن درحقیقت یہ ایک نہایت مختصر سفر ہے، جس کا اختتام کسی بھی موڑ پر ہو سکتا ہے،انسانی نفس کا ایک بڑا فریب’’تسویف‘‘ ( ٹال مٹول) بھی ہے، ہم اپنی اصلاح کو کل پر چھوڑ دیتے ہیں اور کل کو اگلے سال یا اگلے رمضان کی امید پر ٹال دیتے ہیں؛ مگر کیا خبر کہ جب اگلا ہلالِ رمضان نمودار ہو تو ہم کسی کچی قبر کی خاموشی کا حصہ بن چکے ہوں، اسی حقیقت کی طرف سرکارِ دو عالم ﷺ نے متوجہ فرمایا:

اغتنِمْ خمسًا قبل خمسٍ: شبابَك قبل هَرَمِك، وصِحَّتَك قبل سَقَمِك، وغناك قبل فقرِك، وفراغَك قبل شُغلِك، وحياتَك قبل موتِك.(صحیح الترغیب، حدیث نمبر: ۳۳۵۵)

’’پانچ چیزوں کو پانچ (دوسری) چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے،اپنی تندرستی کو اپنی بیماری سے پہلے،اپنی مالداری (فراخی) کو اپنی تنگدستی سے پہلے،اپنی فرصت (فراغت) کو اپنی مصروفیت سے پہلےاور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے‘‘۔

افسوس کہ ہم زندگی کی مہلت کو لامتناہی سمجھ بیٹھتے ہیں؛حالاں کہ یہ ایک مختصر سا سفر ہے، جس کی منزل اچانک بھی آ سکتی ہے۔

رمضان کا آخری حصہ دراصل ’’عتق من النار‘‘ یعنی آتشِ دوزخ سے خلاصی کی بشارت لیے ہوئے آتا ہے،یہ وہ لمحات ہیں، جب باری تعالیٰ کی رحمت جوش میں ہوتی ہے اور شکستہ دلوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے،اگر اب تک کی مسافت غفلت کی نذر ہو گئی ہو تو تلافیِ مافات کی گھڑی اب بھی باقی ہے، جس کے تعلق سےارشادِ ربانی ہے:لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ’’شبِ قدر ہزار مہینوں سے کہیں بہتر ہے‘‘، یہ وہ رات ہے، جو تقدیروں کے ستارے بدل دیتی ہے، جس نے اس رات کو پا لیا گویا اس نے پوری زندگی کا حاصل پا لیا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ بندگی کی تجدید کی جائے، سجدوں میں سوز و گداز پیدا کیا جائے اور نمازوں میں ایسی تڑپ لائی جائے، جیسے یہ رب کے حضور ہماری آخری حاضری ہو، جن گناہوں کو چھوڑنے کا ارادہ مدت سے دل میں دبائے ہوئے تھے، آج ہی سچی توبہ کے ساتھ انہیں ترک کر دیا جائے، دل کو کینہ، حسد اور عداوت کے زنگ سے پاک کیا جائے اور مخلوقِ خدا کو معاف کرنا سیکھا جائے؛ تاکہ خالقِ کائنات بھی ہماری لغزشوں سے درگزر فرمائے۔

یہ چند روز دراصل ابدیت کا سودا کرنے کی گھڑیاں ہیں، اگر ان مبارک ساعتوں میں بھی آنکھ سے اشکِ ندامت نہ بہا اور دل نہ پگھلا تو پھر ہدایت کی دستک کب سنائی دے گی؟ خلوتِ شب میں اپنے رب سے یوں عرض کیجیے:اے میرے کریم رب! اگر یہ میری بندگی کا آخری موسمِ بہار ہے تو مجھے تہی دامن نہ لوٹا، میری کوتاہیوں کو اپنی چادرِ رحمت میں ڈھانپ لے‘‘، یاد رکھیے! رمضان تو ہر سال آئے گا، گلستاں میں پھول پھر کھلیں گے؛ مگر ممکن ہے اگلی بہار میں ہماری داستان تک باقی نہ ہو۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی