اخلاص کا ایک ذرّہ
محمد جمیل ا ختر جلیلی ندوی
کائناتِ ہست و بود میں انسانی نگاہ اکثر مظاہر کی ضخامت اور کثرت سے مرعوب ہو جاتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ہم نیکیوں کو مادی ترازوؤں میں تولنے کے عادی ہو چکے ہیں، ہماری محدود عقل کے نزدیک بڑی نیکی وہ ہے، جس کا چرچا زیادہ اور بلند ہو اور جس کا دائرہ وسیع ہو، جب کہ چھوٹی نیکی وہ سمجھی جاتی ہے، جسے زمانہ حقارت سے دیکھتا ہے؛ مگر بارگاہِ کبریا کے ضابطے اس دنیا کے پیمانوں سے یکسر مختلف ہیں،وہاں کمیت(Quantity) کی کثرت نہیں؛ بل کہ کیفیت (Quality) کی پاکیزگی کو وزن کیا جاتا ہے، اللہ کے حضور عمل کی ظاہری جسامت نہیں؛ بل کہ نیت کا نور اور دل کی سچائی معتبر ہوتی ہے۔
انسان بسا اوقات کسی عمل کو ایک معمولی جنبش سمجھ کر بھلا دیتا ہے؛ لیکن وہی عمل قدرتِ الٰہی کے ہاں نجات کا استعارہ بن جاتا ہے، اسلام نے نیکی کے تصور کو چند رسمی عبادات تک محدود نہیں رکھا؛ بل کہ اسے زندگی کے ہر گوشے میں پھیلا دیا ہے، اسی لئےکسی رنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دینا بظاہر ایک لمحے کی بات ہے؛ لیکن اسی ایک لمحہ کے عوض میں جنت مل سکتی ہے، اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمایا:تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ(سنن الترمذی، حدیث نمبر:۱۹۵۶)’’تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے‘‘۔
اسی طرح زندگی کی شاہراہ سے ایک کانٹا ہٹا دینا بھی بظاہر ایک معمولی سا کام ہے؛ لیکن یہی عمل ایمان کی ان شاخوں میں سے ہے، جو انسان کو جنت تک پہنچا دیتی ہیں، ایک پیاسے انسان یا جانور کو پانی کا ایک گھونٹ پلانا بھی ایسا عمل ہے، جسے اللہ تعالیٰ اس قدر پسند فرماتا ہے کہ اس کے سبب بندے کے گناہ تک معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
خاص طور پر رمضان المبارک میں نیکیوں کی یہی چھوٹی چھوٹی صورتیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں؛ کیوں کہ رمضان دراصل نیکیوں کی بہار کا موسم ہے، اس مقدس مہینے میں اجر و ثواب کے پیمانے بدل جاتے ہیں، ایک نفل فرض کے برابر اور ایک فرض ستر گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، افطار کے وقت کسی روزہ دار کو ایک کھجور یا پانی کا ایک گھونٹ پیش کرنا بظاہر ایک معمولی خدمت ہے؛ مگر حقیقت میں یہ پورے روزے کے اجر کا باعث بن جاتا ہے، قرآنِ حکیم اسی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے:فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ(الزلزال:7)’’پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا‘‘، اس آیت میں اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اللہ کے ہاں کوئی ذرہ بھی ضائع نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ اخلاص کی روشنی سے منور ہو۔
انسانی نفس اور شیطان کی ایک بڑی چال یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوٹی نیکیوں کو حقیر سمجھنے پر آمادہ کر دیتے ہیں، انسان سوچنے لگتا ہے کہ اتنے سے قطرے سے کیا ہوگا؟ یا میری یہ معمولی کوشش اس وسیع دنیا میں کیا اثر دکھائے گی؟یہی سوچ دراصل مایوسی کا وہ پردہ ہے، جو انسان کو خیر کے بہت سے مواقع سے محروم کر دیتا ہے؛حالاں کہ وہی رب ،جس نے ایک دانۂ رائی سے تناور درخت پیدا کیے، وہ ایک چھوٹے سے عمل کو بھی عظیم بنا دینے پر قادر ہے۔
قیامت کے دن جب اعمال کے وزن پر نجات کا دارومدار ہوگاتو ممکن ہے وہی ایک پوشیدہ نیکی یا ندامت کا ایک آنسو—جو پلک کی نوک سے ٹپک کر مٹی میں جذب ہو گیا تھا—میزانِ عدل کو جھکا دے، درحقیقت نیکی کی اصل عظمت اس کے اعلان میں نہیں؛ بل کہ اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی قبولیت کا معیار ظاہری نمود نہیں؛بل کہ دل کا تقویٰ ہے؛ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ(سورۃ الحج: 37) ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘، اسی طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر:1)’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو بڑےسے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے اور اگر نیت خالص ہو تو ایک ذرہ بھی آفتاب بن جاتا ہے،لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان نیکی کے کسی بھی موقع کو معمولی سمجھ کر ضائع نہ کرے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی اخلاص کو پیشِ نظر رکھے، ایک ایسی نیکی کی جائے، جسے دنیا نہ دیکھے؛ مگر اللہ کے ہاں وہ مقبول ہو، وہی خاموش عمل بندے اور اس کے رب کے درمیان ایسا مضبوط رشتہ قائم کر دیتا ہے، جسے زمانے کی کوئی آندھی کمزور نہیں کر سکتی، یاد رکھیے، دنیا ظاہری مظاہر کی پرستار ہے، مگر اللہ دلوں کے بھیدوں کا نگہبان ہے۔
الٰہی! ہمیں نیکیوں کو حقیر سمجھنے کی اندھی نگاہ سے محفوظ فرما اور ہمارے ان ٹوٹے پھوٹے اعمال کو بھی اپنی رحمت کے سائے میں قبول فرما، جو ہم نے محض تیری رضا کی خاطر انجام دئیے، آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں