سجدوں سے آگے کا جہاں
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
سجدہ بندگی کی علامت ہے؛ مگر بندگی کی ساری کہانی نہیں، سجدوں سے آگے بھی ایک جہاں آباد ہے، ایساجہاں، جہاں انسان کا کردار، اس کا طرزعمل اور اس کا سلوک اس کے ایمان کا پتہ دیتا ہے، انسانی زندگی کا توازن دو ستونوں پر قائم ہے: ایک حقُ اللہ اور دوسرا حقوقُ العباد، ہم مصلّوں پر آنسو بہاتے ہیں، روزے کی تمازت سہتے ہیں، تلاوتِ قرآن سے روح کو منور کرتے ہیں؛ لیکن کیا کبھی لمحہ بھر کو رک کر اپنے گریبان میں جھانکا ہے کہ کہیں ہماری جبینِ نیاز کا نور کسی مظلوم کی آہ سے دھندلا تو نہیں رہا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری عبادتوں کی روشنی کسی دل آزاری کے دھوئیں میں مدھم پڑ گئی ہو؟
عبادت محض خالق اور مخلوق کے درمیان کا نجی معاملہ نہیں؛ بل کہ سچی بندگی وہ ہے، جو اللہ کے بندوں کے لیے سراپا رحمت بن جائے، جو سجدے میں جھکے تو تکبر ٹوٹ جائے اور جب سر اٹھائے تو اس کے ہاتھ سے کسی کو اذیت نہ پہنچے اور اس کی زبان سے کسی کا دل مجروح نہ ہو۔
قرآنِ کریم نے جہاں اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے، وہیں اس کے ساتھ بندوں کے حقوق کو اس طرح جوڑا ہے کہ گویا بندگی کی تکمیل ہی اسی سے ہوتی ہے، ارشاد باری ہے:
وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْـًٔا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسٰكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا(النساء: 36)
اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، قرابت دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی، ہم نشین، مسافر اور ماتحتوں کے ساتھ (بھی حسنِ سلوک کرو)، بے شک اللہ اترانے اورفخرکرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عبادت کا دائرہ مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں؛ بل کہ گھر کی دہلیز، بازار کی گہماگہمی، ہمسائے کے دروازے اور مسافر کی تھکن تک پھیلا ہوا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے حقوق العباد کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لیے کرتا ہے‘‘(صحیح بخاری)، ایک دوسری حدیث میں پڑوسی کے حق کی رعایت کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:’’خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، جس کا ہمسایہ اس کی ایذا رسانیوں (شر) سے محفوظ نہ ہو‘‘۔(صحیح بخاری)
ان تعلیمات کی روشنی میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ایمان کی اصل کسوٹی انسان کا طرزِ عمل ہے، حقوق العباد محض سماجی آداب نہیں؛ بل کہ وہ الٰہی امانتیں ہیں، جن کا حساب روزِ محشر ہوگا، کسی کا دل نہ دکھانا، امانت و دیانت کا پاس رکھنا، کسی کا مالِ ناحق نہ دبانا، وعدے کی پاسداری کرنا، والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ہمسایوں کے حقوق ادا کرنا:یہ سب عبادت ہی کی صورتیں ہیں، مومن کا دل بیت اللہ سے کم حرمت نہیں رکھتا، اسے توڑنا گویا اپنی نیکیوں کی بنیاد میں دراڑ ڈالنا ہے۔
ایک لرزہ خیز حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیےکہ اللہ غفور و رحیم ہے، وہ اپنے حقوق میں کوتاہی کو اپنی رحمت سے معاف فرما سکتا ہے؛ لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے، جب تک صاحبِ حق خود معاف نہ کر دے، قیامت کے دن’’مفلس‘‘ وہ نہیں ہوگا، جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں؛ بل کہ وہ ہوگا ،جو نیکیوں کے انبار لے کر آئے گا؛ مگر کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان باندھا ہوگا، کسی کا حق مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں حق داروں میں بانٹ دی جائیں گی اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اِس کے کھاتے میں ڈال دئیے جائیں گے۔
روزہ بھی اسی احساسِ مروّت کی تربیت دیتا ہے، یہ محض فاقہ کشی کا نام نہیں؛ بل کہ انسانی ہمدردی کا مدرسہ ہے، بھوک کی نقاہت ہمیں غریب کے چولہے کی خاموشی سناتی ہے، پیاس کی شدت محروموں کے دکھ کا ادراک بخشتی ہے، اگر روزہ رکھ کر بھی ہمارا رویہ اپنے ماتحتوں، ملازموں اور کمزوروں کے ساتھ سخت ہے تو ہم نے روزے کی روح کو نہیں پایا، ہم نے جسم کو بھوکا رکھا ہے، نفس کو نہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم تسبیح کے دانے تو گھماتے ہیں؛ مگر معاملات میں انصاف نہیں کرتے، گھریلو ملازموں سے فرعونیت کا لہجہ اپناتے ہیں، کاروبار میں ناپ تول کی کمی اور ملاوٹ کو ہنر سمجھتے ہیں، میراث میں بہن بھائیوں کا حق ہڑپ کر جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی عزت اچھال کر تفریح محسوس کرتے ہیں، ایسے میں ہماری عبادتیں محض رسم بن کر رہ جاتی ہیں اور روحانیت کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
آئیے!آج اپنا محاسبہ کریں، اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ مہلت چھین لے، اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگ لیں، اگر کسی کا مال دبایا ہے تو لوٹا دیں، اگر کسی سے ناانصافی کی ہے تو تلافی کر لیں، ٹوٹے ہوئے دل جوڑ دینا ہزار نفلوں سے بڑھ کر ہے؛ کیوں کہ اللہ کے نزدیک بندے کا دل بڑی حرمت رکھتا ہے۔
یا اللہ! ہمیں اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ تیرے بندوں کے حقوق پہچاننے، انہیں خلوصِ دل سے ادا کرنے اور کسی کا حق باقی نہ رکھنے کی توفیق عطا فرما، آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں