غیظ وغضب: روزہ کا حریفِ جاں

غیظ وغضب: روزہ کا حریفِ جاں

غیظ وغضب: روزہ کا حریفِ جاں

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


رمضان المبارک کا مقدس مہینہ محض امساکِ ظاہری کا نام نہیں؛ بل کہ یہ باطن کی تطہیر اور نفس کی سرکشی کو لگام دینے کا ایک ربانی دبستان ہے، روزہ انسان کو صبر کی آغوشِ تربیت میں جگہ دیتا ہے اور اسے ضبط و وقار کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے؛ مگر اس نورانی بزم میں قدم رکھتے ہی جس اولین اور قوی حریف سے سامنا ہوتا ہے، وہ ہے’’غیظ و غضب‘‘، یہ وہ جذبہ ہے، جو لمحوں میں سالہا سال کی کمائی کو خس و خاشاک بنا دیتا ہے۔

جب بھوک کی حدّت اور پیاس کی شدت بدن کو نڈھال کرتی ہے تو طبیعت میں اشتعال کی ایک پوشیدہ لہر انگڑائی لینے لگتی ہے، معمولی سی ناگواری بھی شعلۂ جوالہ بن کر مزاج کے گلستاں کو جھلسانے لگتی ہے، ایسے میں انسان اگر ہوش کے دامن کو مضبوطی سے نہ تھامے تو غصہ اس کے روزے کی روح کو مجروح کر دیتا ہے، یاد رکھیے! روزہ صرف معدے کا نہیں، نگاہ کا بھی ہے، صرف زبان کا نہیں، دل کا بھی ہے۔

غصہ عقل کا حجاب اور بصیرت کا دشمن ہے، یہ وہ نادیدہ آگ ہے، جو اخلاقِ حسنہ کے چمن کو راکھ میں بدل دیتی ہے، قرآنِ حکیم نے ان اہلِ ایمان کی مدح فرمائی ہے، جو غصہ پی جانے اور درگزر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ارشاد ربانی ہے:الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْن(آل عمران:134)’’جو خوش حالی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں(وہ متقی ہیں)اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔

غضب کے مہلک اثرات بے شمار ہیں، غصہ جب غالب آتا ہے تو زبان: ذکر و خیر کی بجائے طعن و تشنیع کا ہتھیار بن جاتی ہے، ایک لمحۂ طیش برسوں کی محبت کو خسارے میں بدل دیتا ہے، نیکیوں کا انبار غصے کی چنگاری سے یوں جلتا ہے، جیسے خشک لکڑی خوش رنگ شعلوں میں، کثرتِ غضب دل کو آئینۂ صفا کی بجائے سنگِ خارا بنا دیتی ہے۔

اگر انسان ربِّ کائنات کے حکم پر حلال رزق سے کنارہ کش ہو سکتا ہے تو کیا وہ اپنے جذبات کی باگیں نہیں تھام سکتا؟ روزہ دراصل نفس کے سرکش گھوڑے کو تقویٰ کی لگام دینے کی عملی مشق ہے، سرورِ کائنات ﷺ نے اس حقیقت کو نہایت حکیمانہ انداز میں یوں واضح فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ بے ہودہ گوئی کرے اور نہ جہالت کا مظاہرہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑنے پر آمادہ ہو تو کہہ دے: میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں‘‘۔(بخاری و مسلم)، یہ الفاظ محض اعلان نہیں، ایک حصار ہیں،ایک ایسا روحانی قلعہ، جو روزے کے وقار کو مجروح ہونے سے بچاتا ہے۔

غصہ چوں کہ آتشِ نفس ہے؛ اس لیے اس کا علاج بھی ٹھنڈک میں ہے، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے؛ لہٰذا جب کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے‘‘۔(ابو داؤد)؛ چنانچہ جب دل میں اشتعال کی گرمی بڑھنے لگے تو فوری خاموشی اختیار کیجیے کہ اکثر فتنے لفظ سے ہی جنم لیتے ہیں، پانی کی خنکی سے دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچائیے، کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں اور بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں؛ تاکہ جسمانی تبدیلی سے نفسیاتی حدّت کم ہو، أعوذ بالله من الشيطان الرجيم کا ورد دل کے گرد حفاظتی حصار قائم کر دیتا ہے۔

دنیا جسے زورِ بازو کی بہادری سمجھتی ہے، شریعت میں اس کا معیار مختلف ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’قوی وہ نہیں، جو کشتی میں غالب آ جائے؛ بل کہ اصل قوی وہ ہے، جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے‘‘۔(متفق علیہ)، یہی وہ مقام ہے، جہاں روزہ انسان کو ظاہری بھوک سے باطنی قوت تک پہنچاتا ہے، جہاں وہ دوسروں پر نہیں، خود اپنے نفس پر فتح حاصل کرتا ہے۔

آئیے! اس بابرکت مہینے میں عزم کریں کہ :

⚫    ہم اپنے روزوں کی نورانیت کو غصے کی تیرگی سے آلودہ نہیں ہونے دیں گے۔ 

⚫    ہم ردِ عمل میں جلد بازی کی بجائے حلم و بردباری کو شعار بنائیں گے۔

⚫     اور ہر تلخی کا جواب نرمی اور درگزر سے دیں گے۔

اے ربِّ کریم! ہمارے روزوں کو تقویٰ کی خوشبو عطا فرما، ہمارے دلوں کو کینہ و غضب کی آتش سے پاک کر دے اور ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا سچا پیروکار بنا دے، ہمارے اخلاق کو صبر، حلم اور عفو کا پیکر بنا دے، آمین یا رب العالمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی