پلٹ آؤ تو راستے روشن ہیں

پلٹ آؤ تو راستے روشن ہیں

پلٹ آؤ تو راستے روشن ہیں

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


انسانی شعور اکثر ظاہری اسباب کے گورکھ دھندوں میں الجھ جاتا ہے، وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ حوادثِ دہر کے پہاڑ سر کرنے کے لیے آہنی بازو اور مادی بلندی درکار ہے؛حالاں کہ حیات کے تپتے صحراؤں میں ابرِ کرم کو دعوت دینے کا ہنر ایک شکستہ پکار میں پوشیدہ ہے، جب انسان اپنی ہی لغزشوں کے بوجھ تلے دبنے لگتا ہے، جب راستے دھندلا جاتے ہیں اور دل مایوسی کی دھند میں کھو جاتا ہے، تب ایک نرم؛ مگر پراثر صدا اسے پکارتی ہے: ’’پلٹ آؤ تو راستے روشن ہیں‘‘۔

استغفار محض نوکِ زباں سے ادا کیے گئے چند الفاظ کا نام نہیں؛بل کہ یہ روح کی وہ سسکی ہے، جو عرشِ الٰہی کے کنگوروں تک پہنچتی ہے، یہ صرف گناہوں کی دھول جھاڑنے کا عمل نہیں؛بل کہ رحمتِ باری تعالیٰ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا ایک مقدس وسیلہ ہے،قرآنِ حکیم کی سحر بیانی دیکھیے کہ استغفار کو کس طرح کائنات کی وسعتوں اور برکتوں سے جوڑا گیا ہے، ارشادِ ربانی ہے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا(سورہ نوح: )’’پس میں نے کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت معاف کرنے والا ہے؛ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا‘‘۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جب بندگی کی جبین پر ندامت کا پسینہ چمکتا ہے تو قدرت کے کارخانے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، اضطرابِ قلب سکینتِ جاں میں بدل جاتا ہے، تنگیِ رزق وسعت و برکت میں ڈھل جاتی ہے اور سلسلۂ مصائب حصارِ عافیت میں پناہ پا لیتا ہے، استغفار دراصل بھٹکے ہوئے بندے کا اپنے آقا کی چوکھٹ پر لوٹ آنے کا اعتراف ہے اور یہی اعتراف رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔

ہم استغفار میں تساہل کیوں برتتے ہیں؟ اس لیے کہ معصیت کے خاردار راستوں کو ہم نے معمول بنا لیا ہے،چھوٹے گناہ، جنہیں ہم حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، دراصل دل کے آئینے پر جمنے والی وہ سیاہ کائی ہیں، جو بصیرت کو ماند کر دیتی ہیں، نبیِ کریم ﷺ کا فرمان ہے:’’مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ثبت ہو جاتا ہے…‘‘(جامع ترمذی)۔

استغفار وہ آلہ ہے، جو اس کائی کو کھرچ دیتا ہے اور روح کو اس کے اصل جوہر کی طرف لوٹا لاتا ہے، حقیقی استغفار لفظوں کی تکرار نہیں؛بل کہ دل کی گہرائی سے اٹھنے والی سچی ندامت، زبان کی عاجزی اور آئندہ کے لیے پختہ عزم کا حسین امتزاج ہے،جب دل میں پشیمانی کی چبھن پیدا ہو، زبان سے انکسار ٹپکے اور ارادہ مضبوط ہو جائے کہ دوبارہ اس لغزش کی طرف قدم نہ بڑھے گا، تب استغفار اپنی روحانی تاثیر دکھاتا ہے۔

ایک حدیث میں ہے:’’اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تم مجھ سے معافی مانگو، تو میں تمہیں معاف کر دوں گا‘‘، یہ بشارت بندے کو مایوسی کی تاریکی سے نکال کر امید کی روشن فضا میں لے آتی ہے۔

رمضان المبارک توبہ و استغفار کا خاص موسم ہے، جب شیاطین کی سرکشیاں محدود کر دی جاتی ہیں اور رحمتِ الٰہی کی شبنم ہر سو بکھر جاتی ہے توسچے دل سے ایک مرتبہ’’استغفراللہ‘‘کی ادائے گی پورے وجود کو معطر کر دیتا ہے، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اپنی سانسوں کے ریشم میں اس ذکر کو پروتے رہیے: استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ۔

آج کسی گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر رسمی گنتی سے نکل کر، دل کی گہرائی سے اپنے رب کو پکارئیے، اپنی شکستگی کو وسیلہ بنائیے اور عرض کیجیے:’’یا اللہ! میں تیرا عاجز بندہ ہوں، میرے پاس ندامت کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں، میں سراپا تقصیر ہوں؛مگر تو غفارِ ازل ہے، مجھے اپنی رحمت کی آغوش میں ڈھانپ لے‘‘، گناہ وہ دیوار ہے، جو ہمیں اپنے رب سے دور کرتی ہے اور استغفار وہ دستک ہے، جو اس دیوار کو گرا کر ہمیں پھر اپنے اصل سے جوڑ دیتی ہے، اگر ندامت سچی ہو تو وہ کمزوری نہیں رہتی؛ بل کہ روح کی جِلا بن جاتی ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی