دلِ مجروح کا سفرِ وصال

دلِ مجروح کا سفرِ وصال

دلِ مجروح کا سفرِ وصال

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


کائنات کی بساط پر انسانی زندگی ایک ایسے مسافر کی مانند ہے، جس کے پاؤں آبلہ پا اور روح زخموں سے چور ہے،کبھی حوادثِ زمانہ کے تھپیڑے، کبھی اپنوں کی بے رُخی کا زہراور کبھی تمناؤں کے محل کا انہدام:یہ سب انسان کو اندر سے کرچی کرچی کر دیتے ہیں، یہ وہ شکستگی ہے، جس کی صدا کانوں سے نہیں سنائی دیتی؛مگر اس کی گونج عرشِ بریں تک پہنچتی ہے۔

ماہِ صیام اسی شکستہ دلی کے لیے قصرِ الٰہی سے نازل ہونے والا وہ مژدہ ہے، جو بکھرے ہوئے وجود کو’’صبغۃ اللہ‘‘(اللہ کے رنگ) میں رنگ کر دوبارہ معتبر بنا دیتا ہے۔

ہم اکثر شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ دل کیوں ٹوٹا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے دل کا مسکن ان فانی سہاروں کو بنا لیا تھا، جن کی بنیادیں خود ریت پر تھیں،ہم نے تکیہ ان پر کیا ،جو خود کسی اور سہارے کے محتاج تھے،جب وہ ناتواں سہارے ہٹے، تو دل کا آبگینہ چکنا چور ہو گیا؛ مگر یاد رکھیے! جب تک صدف نہیں ٹوٹتا، گوہرِ نایاب برآمد نہیں ہوتا،جب تک دل مخلوق کی محبت سے خالی نہیں ہوتا، اس میں خالق کی تجلی پوری طرح سما نہیں سکتی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ(الاحزاب:4)’’اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے‘‘، یعنی ایک دل میں یا تو دنیا کی طلب غالب ہوگی، یا مولا کی محبت، دونوں کی کامل حاکمیت ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔

دنیا کا دستور یہ ہے کہ ٹوٹی ہوئی چیز کو کوڑے دان کی نذر کر دیا جاتا ہے؛ مگر بارگاہِ ایزدی کا اصول نرالا ہے، وہاں جتنا ٹوٹا ہوا دل لایا جائے، اتنی ہی قدر پاتا ہے،ایک مقطوع حدیث ہے:أَنَا عِنْدَ الْمُنْكَسِرَةِ قُلُوبُهُمْ’’میں ان کے پاس ہوتا ہوں، جن کے دل میری خاطر ٹوٹ چکے ہوں‘‘، ٹوٹے ہوئے دل میں انا کی فرعونیت نہیں رہتی، وہاں ندامت کی خوشبو اور عجز کا نور ہوتا ہے، جب انسان کی خودی پاش پاش ہوتی ہے، تبھی اس کی زبان سے سچی پکار نکلتی ہے: یا رب!اور یہی پکار عرش کے کنگرے ہلا دیتی ہے۔

آج کا انسان مادی ترقی کے عروج اور مشینی زندگی کے آہنی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، وہ ایک ایسے پُرشور عہد میں سانس لے رہا ہے، جہاں اسکرینوں کی مصنوعی روشنی نے دلوں کے نور کو ماند کر دیا ہے اور تیز رفتاری کی دوڑ نے اعصاب کو ’ذہنی تناؤ‘ (Mental Stress) کی بھٹی میں جھونک دیا ہے، مادیت پرستی کے اس غبار میں روح گھٹ کر رہ گئی ہے اور انسان ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، نفسیاتی الجھنیں اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ روح اپنے اصل مرکز سے دور ہو چکی ہے، اس مشینی تھکن کا علاج کسی مادی دوا میں نہیں؛بل کہ اسی ’سجدۂ حضوری‘ میں ہے، جہاں پہنچ کر دنیا کی دوڑ تھم جاتی ہے اور مضطرب خلیوں کو وہ سکون میسر آتا ہے، جسے قرآن ’اطمینانِ قلب‘ سے تعبیر کرتا ہے، جب انسان ڈیجیٹل شور سے کٹ کر اپنے خالق سے مکالمہ کرتا ہے، تو ڈپریشن کے سیاہ بادل امیدِ الٰہی کی کرنوں سے چھٹنے لگتے ہیں۔

غم محض ایک کیفیت نہیں؛بل کہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک بیداری کا پیغام ہے،وہ آنسو ،جو سحر کے دھندلکے میں مصلے پر گرتے ہیں، وہ صرف پانی کے قطرے نہیں؛ بل کہ روح کا غسلِ صحت ہیں، قرآن کریم میں ہے:أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ(الزمر:36)’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے‘‘؟، جب دنیا کی ہر چوکھٹ بند ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ بے نیاز رب آپ کو اپنی خلوت میں بلانا چاہتا ہے،وہ چاہتا ہے کہ آپ اس سے وہ گفتگو کریں، جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

اگر آپ کا دل مجروح ہے تو اپنی پیشانی کے ساتھ اپنا سارا بوجھ بھی سجدے میں زمین پر رکھ دیجیے، کلامِ الٰہی کی تلاوت دل کے زنگ کو صاف کرتی ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد:28) ’’سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے‘‘، ندامت کا ایک سچا آنسو گزشتہ خطاؤں اور دکھوں کو دھو دیتا ہے،حضرت یعقوب علیہ السلام کی سنت کو زندہ کیجیے، جنھوں نے فرمایا: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ ( یوسف:86)’’میں اپنے رنج و غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں‘‘۔

اے شکستہ دل مسافر! یاد رکھو، مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے اور امید ایمان کو جلا بخشتی ہے، تمہارا ٹوٹنا دراصل تمہارا سنورنا ہے، یہ اداسی، یہ تنہائی، یہ بوجھل پن:یہ سب اللہ کی طرف سے ایک بلاوا ہے: ’’اے میرے بندے! پلٹ آ، میں تیرے ٹوٹے ہوئے وجود کو اپنے کرم سے جوڑنا چاہتا ہوں‘‘۔

آج سجدے کی سسکیوں میں یوں عرض کیجیے:’’الٰہی! میں اپنی کرچیاں تیرے حضور لایا ہوں، انہیں اپنی محبت کے بندھن میں پرو دے‘‘، یقین رکھیے!دنیا والے دل توڑنے کا ہنر جانتے ہیں؛ مگر اللہ وہ جبار ہے، جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے والا اور زخموں کو شفا دینے والا ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی