ہنرِ اعتراف اور ظرفِ انسانی کی وسعت
انسان کا خمیر ہی خطا اور نسیان سے تیارہوا ہے؛ مگر انسانیت کا کمال خطا پر اصرار نہیں؛ بل کہ’’اعتراف‘‘ کی دہلیز پر سرِ نیاز خم کر دینا ہے، ہم سب جادہِ حیات کے وہ مسافر ہیں، جن کے دامن پر لغزشوں کی گرد جمی ہے؛ مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم اس گرد کو دھونے کے ہنر یعنی ’’معافی‘‘کے سلیقے سے یکسر ناآشنا ہیں، ہم’’معذرت‘‘کا لفظ تو نوکِ زباں پر سجا لیتے ہیں؛ مگر اس کے پسِ پردہ انا کے بت، مصلحتوں کی ڈھال اور جواز کے تراشیدہ پیکر ساتھ رکھتے ہیں۔
رمضان المبارک محض تشنگیِ لب کا نام نہیں؛بل کہ یہ وہ موسمِ گل ہے، جو خاکساری کی آبیاری کرتا اور بندوں کے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو ’رشتۂ اخوت‘ میں پرونے کا ہنر سکھاتا ہے، معافی کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہماری اپنی ’انا‘ کی فصیل ہے، نفسِ امارہ کے لیے اپنی کجی تسلیم کرنا، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے؛ لیکن تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ وہی سر بلند ہوئے جو خاکسار ہوئے، ارشادِ ربِ قدیر ہے:الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ(آل عمران:134)’’جو لوگ خوش حالی اور تنگ دستی (دونوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پینے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔
ادب کی دنیا میں معافی محض ایک لفظ نہیں، ایک مکمل وارداتِ قلبی ہے، ’’اگر آپ کو ناگوار گزرا ہو...‘‘جیسے جملے، معذرت نہیں؛ بل کہ گناہ کی تاویل ہیں، سچی معافی تو وہ ہے، جو اپنی خطا کا برہنہ اعتراف کرے اور ندامت کے آنسوؤں سے ملامت کو دھو ڈالے، زبان کی لکنت سے زیادہ دل کی کسک اہم ہے، نبیِ رحمت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ(سنن ابن ماجہ:4250)’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے، جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو‘‘، معافی مانگ کر اسی ڈگر پر چلنا توبہ کے تقدس کی توہین ہے، سچی توبہ تو وہ ہے، جو انسان کے باطن کی کایا پلٹ دے۔
ہم شب و روز معصیت کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ہیں؛ مگر خالق کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ سجدہِ سہو پر بھی بخشش کے پروانے بانٹتا ہے؛ تاہم یاد رہے! خالق کی خوشنودی، مخلوق کی دلجوئی سے مشروط ہے، جب تک کسی مظلوم کا دل آپ کی شکایت سے لبریز ہے، عرشِ معلیٰ پر آپ کی توبہ پزیرائی سے قاصر رہے گی، یہ ماہِ صیام انا کے بتوں کو توڑنے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کا پیغام لایا ہے۔
بسا اوقات گناہوں کی کثرت انسان کے اعصاب پر اس قدر سوار ہو جاتی ہے کہ وہ رحمتِ الٰہی سے مایوس ہو کر تاریکیوں کا اسیر بن جاتا ہے، یہ مایوسی دراصل ابلیس کا وہ دامِ ہم رنگِ زمیں ہے، جس میں وہ گنہگار کو جکڑ لیتا ہے؛ حالاں کہ حق تعالیٰ کا فرمانِ ذیشان ہے:وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ(الاعراف: 156)’’اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے‘‘۔
ہماری محدود نظر ماضی کے داغوں پر ٹھہری ہوتی ہے، جب کہ پروردگارِ عالم کی نگاہِ کرم مستقبل کی تڑپ اور حال کی ندامت پر ہوتی ہے، ہم اعمال کی گنتی کرتے ہیں، وہ خلوص کی تپش دیکھتا ہے،ہم گناہوں کا انبار دیکھتے ہیں، وہ اشکِ ندامت کا وقار دیکھتا ہے،حدیثِ قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اگر تم زمین کی وسعتوں کے برابر بھی گناہ لے کر آؤ اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں اتنی ہی وسعت کے ساتھ تمہاری طرف مغفرت لے کر آؤں گا‘‘۔
رمضان المبارک کے ایام اورخصوصیت کے ساتھ آخرِ شب کی ساعتیں ایسی گھڑیاں ہیں، جن میں زمین و آسمان کے درمیان رحمت کا نزول اس طرح ہوتا ہے، جیسے پیاسی زمین پر ساون کی پہلی پھوار، اللہ کریم اپنے بندوں کو بخشنے کے لیے حیلے تلاش کرتا ہے، وہ پکارتا ہے: ’’ہے کوئی مغفرت کا طلبگار‘‘؟
گناہ کی سیاہی سورج کو نہیں گہنا سکتی اور بندے کی خطا اللہ کی عطا کو کم نہیں کر سکتی، آج تنہائی کے گوشے میں، اپنی انا کی ردائے کہن اتار کر، اپنے رب سےایسا مکالمہ کریں، جواس کے عرش کو ہلا دے:’’مالکِ کائنات! میں گناہوں کی مسافت طے کرتے کرتے تھک چکا ہوں، میری جبیں نازپر شرمندگی کا پسینہ ہے اور دل میں واپسی کی آرزو، مجھے اپنی آغوشِ رحمت میں پناہ عطا فرما، آمین!‘‘۔
یاد رکھیے!جھک جانے والا ؛ بل کہ زمین میں رل مل جانے والا دانہ ہی سرسبز کھیتی بنتا ہے، معافی مانگنے سے قد چھوٹا نہیں ہوتا؛ بل کہ روح کی عظمت کو دوام ملتا ہے، آج اپنے حافظے کی گرد جھاڑیں اور دیکھیں کہ کس کا دل آپ کے لفظوں کے نشتر سے زخمی ہے؟ ایک محبت بھرا پیغام(سوشل میڈیا کے توسط سے ہی سہی)، ایک دھیما سا لہجہ اور ایک سچی معذرت اوربس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا دل آئینے کی طرح شفاف ہو جائے گا۔

لا جواب ۔ ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔۔۔۔۔۔🤗😊🤩
جواب دیںحذف کریںایک تبصرہ شائع کریں