تشنہ لبی سے تسکینِ جاں تک

تشنہ لبی سے تسکینِ جاں تک

تشنہ لبی سے تسکینِ جاں تک

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

جب آفتابِ عالم تاب دن بھر کی تمازت سمیٹ کر افق کی اوٹ میں روپوش ہونے لگتا ہے اور کائنات پر شام کی نیلگوں چادر تن جاتی ہے تو مومن کے صبر کی انتہا اور اجر کی ابتدا کا لمحہ آن پہنچتا ہے، یہ وہ ساعتِ سعید ہے، جب روح تشنہ لبی کے صحرا سے نکل کر تسکین کے نخلستان میں قدم رکھتی ہے،دن بھر کی پیاس، جگر کی تپش اور بھوک کی نقاہت کے بعد جب پانی کا پہلا شفاف قطرہ حلق سے اترتا ہے تو یکایک یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ سیم و زر کے انبار بھی اس ایک گھونٹ کے سامنے بے وقعت ہیں،ایسے ہی لمحہ میں مادی غرور کی دیواریں لرزتی ہیں اور عبدیت کا سچا شعور دل میں بیدار ہوتا ہے،قرآنِ حکیم کی نوید ہے:فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ(البقرہ:152)’’تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو‘‘، یہ آیت گویا افطار کے لمحے کی ترجمان ہےکہ ذکر بھی ہے، شکر بھی اور بندگی کا اقرار بھی۔

افطار محض جسمانی ضرورت کی تکمیل نہیں؛ بل کہ خالقِ کائنات کی ربوبیت کا والہانہ اعتراف اور قلب کی ایک گہری واردات ہے، روزہ ہمیں چند ساعتوں کی محرومی کا ذائقہ چکھا کر اُن نعمتوں کی اصل قدر سمجھاتا ہے، جنھیں ہم عادت کے غبار میں کھو چکے ہیں،جب دسترخوان پر سجی نعمتیں ہمیں اپنی طرف بلاتی ہیں تو دل کی تہوں سے یہ اعتراف ابھرتا ہے کہ یہ سب ہماری محنت کا صلہ نہیں؛بل کہ اُس رزّاقِ حقیقی کی عطا ہے، جو بن مانگے نوازتا اور بلا حساب دیتا ہے۔

اس وقت بندہ کا دل عجز و انکساری کی تصویر ہوتا ہے، پیٹ خالی؛ مگر روح بیدار، بدن نحیف؛ مگر دل منور، بھوک اور پیاس کا تجربہ تکبر کی دیواریں گرا دیتا ہے اور انسان اپنے مالک کے سامنے سچی عاجزی کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے، اسی لیے حدیثِ نبوی ﷺ میں افطار کے وقت کی دعا کو قبولیت کے خاص لمحات میں شمار کیا گیا ہے،نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت‘‘، افطار کی یہ خوشی دراصل رزق سے زیادہ رب کی قربت کی خوشی ہے۔

رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ شکر محض زبان پر ’’الحمد للہ‘‘ کے وردکانام نہیں؛بل کہ دل کی گہرائیوں میں اُترنے والی ایک کیفیت ہے، عطا کردہ نعمت کو اپنا حق نہیں؛بل کہ رب کا فضل سمجھنا ہی شکر کی اصل روح ہے،اس لمحے ایک کھجور اور پانی کا سادہ سا گھونٹ سلطنتِ دنیا سے زیادہ قیمتی محسوس ہوتا ہے،قرآن کی صدا گونجتی ہے:لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ(سورہ ابراہیم:7)’’اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘، گویا افطار کا ہر گھونٹ آئندہ نعمتوں کی ضمانت بن سکتا ہے، اگر اس میں شکر کی سچائی شامل ہو۔

افطار کو محض ضیافتِ طعام بنانا اس کی روح کو محدود کر دینا ہے، مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اسے ایک جامع عبادت بنائے،سنتِ مطہرہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دسترخوان شاہانہ نمائش کا نہیں؛بل کہ سادگی اور اعتدال کا مظہر ہو،تعجیلِ افطار اطاعت کا اعلان ہے اور کھجور یا پانی سے روزہ کھولنا اتباعِ رسول ﷺ کی محبت کا اظہار،جب زبان سے یہ دعا نکلے:ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ(پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا)تو یہ الفاظ محض آواز نہ ہوں؛بل کہ دل کی دھڑکنوں کا ترجمہ بن جائیں۔

افطار کی اس روحانی مسافت میں دوسروں کو شریک کرنا عبادت کو کمال تک پہنچا دیتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’جس نے کسی روزے دار کا روزہ افطار کروایا، اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزے دار کو‘‘(ترمذی)، جب ہم اپنے دسترخوانوں پر نعمتوں کی فراوانی دیکھیں تو اُن چہروں کو بھی یاد رکھیں، جن کے لیے افطار اور عام دن کی بھوک میں کوئی فرق نہیں، اگر ہماری پلیٹ میں رزق کی بہتات ہے تو یہ ہمارا کمال نہیں،یہ رب کا امتحان ہے،حقیقی شکر گزار وہی ہے، جو اپنے حصے میں دوسروں کا حصہ بھی تلاش کرے۔

غروب کےوقت جب مؤذن کی صدا فضا میں ارتعاش پیدا کرے تو دل سے یہ التجا ابھرے:’’اے پروردگار! جس طرح تو نے اپنی رحمت سے میرا دسترخوان سجایا، ویسے ہی دنیا بھر کے بھوکوں کو رزقِ حلال عطا فرما اور ہمیں اپنے شاکر بندوں میں شامل کر لے‘‘، یاد رکھیے! رمضان محض ضبطِ نفس کا مدرسہ نہیں،یہ صبر کی وادی سے گزار کر شکر کی رفعتوں تک پہنچانے والا روحانی سفر ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی