سحری: روح کی غذابھی، رب کی رضابھی
رات کا آخری پہر…خاموش فضائیں … نیند کی شیرینی …بستر کی مخملیں آغوش…ان سب کو ٹھکرا کر، جب ایک مومن بیدار ہوتا ہے تو وہ محض شکم پروری کے لیے نہیں؛ بل کہ اپنے رب کی دعوت پرحاضری کے لیے اٹھتا ہے،وہ اٹھتا ہے؛ تاکہ اپنے مالک کی رضا کی خاطر دن بھر کی پیاس اور بھوک کو گلے لگا سکے، یہ ساعت محض چند لقمے حلق سے نیچے اتارلینے کا نام نہیں؛بل کہ آسمانِ دنیا سے اترتی رحمتوں کو سمیٹ لینے کا وقت ہے۔
سحری کوئی عام معمول نہیں،یہ عبادت ہے، یہ نسبت ہے، یہ بندگی کا اعلان ہے،اسی لیے صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد منقول ہے: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً’’سحری کھایا کر؛کیوں کہ سحری میں برکت ہے‘‘،یہ برکت صرف خوراک میں نہیں؛بل کہ نیت کی صفائی، بیداری کی سعادت اور اطاعت کے شعور میں پوشیدہ ہے۔
سحری کا لمحہ گویا بندہ اور رب کے درمیان ایک خاموش عہد کی تجدید ہے،احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں، کیا یہ اعزاز کسی اور معمولی عمل کو حاصل ہے؟ یہی وہ ’’وقتِ سحر‘‘ ہے، جس کی عظمت قرآن کریم نے بھی بیان کی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (سورۃ الذاریات:۱۸) ’’وہ رات کے پچھلے پہر استغفار کیا کرتے ہیں‘‘۔
سحر کی یہ گھڑیاں دراصل قبولیت کی گھڑیاں ہیں، یہ وہ گھڑیاں ہیں، جب رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے، دل نرم ہوتے ہیں اور ربِ کریم پکارتا ہے: ’’ہے کوئی مانگنے والا ،جسے میں عطا کروں؟‘‘، دن کے ہنگاموں میں جو دعا لبوں تک نہیں آتی، وہ رات کی تنہائی میں آنسو بن کر بہہ نکلتی ہے۔
سحری سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی پیروی ہے اور سنت کی پیروی میں ہی دارین کی کامیابی مضمر ہے،یہ عمل امتِ محمدیہ کی شناخت بھی ہے اور امتیاز بھی؛ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانا ہے‘‘، ہر لقمہ گویا اعلان کرتا ہے کہ میں اس روزے کو تیری رضا کے لیےرکھنے جا رہا ہوں، یہی نیت روح کو جلا بخشتی ہے اور عمل کو مقبولیت کی رفعتوں تک پہنچاتی ہے۔
سحری کا ایک پہلو اعتدال بھی ہے،یہ وقت کثرتِ طعام کا نہیں، شعورِ بندگی کا ہے،پیٹ کا بوجھ روح کی پرواز کو سست کر دیتا ہے، جب کہ سادگی دل کو بیدار رکھتی ہے،نبی کریم ﷺ کی سحری میں تکلف نہیں تھا، چند لقمے، چند گھونٹ اور ذکرِ الٰہی کی حلاوت،درحقیقت سحری جسم کو اتنی قوت دینے کا نام ہے کہ وہ عبادت کے قابل رہے اور روح کو اتنی صفائی دینے کا کہ وہ دن بھر کے روزے کو اخلاص کے ساتھ نبھا سکے،جہاں جسمانی ضرورت پوری ہو جائے اور روحانی آمادگی پیدا ہو جائے، وہی سحری کا مطلوب توازن ہے۔
لیکن افسوس! ہم نے سحری کو محض دسترخوان کی وسعت اور کھانے پینےتک محدود کر دیا ہے؛ حالاں کہ یہی چند لمحے تقدیر کا دھارا موڑ سکتے ہیں، اگر ان میں چند رکعت تہجد شامل ہو جائے، لبوں پر استغفار کی سرگوشی ہو اور دل سے نکلی ہوئی دعا ہو تو یہی سحری نور کا مینار بن سکتی ہے۔
یہ وقت راز و نیاز کی خلوتوں کاہے، بندہ سر جھکاتا ہے اور ربِ کریم اپنی رحمت کے در وا کرتا ہے، جب آپ سحری کے لیے اٹھیں تو ایک لمحہ ٹھہر کر دل کی گہرائی سے عرض کیجیے:’’یا اللہ! یہ بیداری تیری خاطر ہے، یہ بھوک تیری رضا کے لیے ہے، یہ روزہ تیرے حکم کی تعمیل ہے، اسے قبول فرما اور میری روح کو اپنی معرفت کے نور سے منور کر دے‘‘، سحر کی ٹھنڈی ہواؤں میں جب فرشتے زمین پر رزق اور رحمتیں بانٹ رہے ہوتے ہیں، تو مومن کے لبوں سے نکلی ہوئی استغفارکی صدا عرشِ الٰہی کے دروازوں پر دستک دیتی ہے، یہ وہ لمحہ ہے، جہاں گناہ دھل جاتے ہیں اور روح کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔
یاد رکھیے، سحری صرف جسم کو طاقت دینے کا وسیلہ نہیں، یہ روح کو تازگی بخشنے کا سامان ہے، یہ بندگی کی معراج کا زینہ ہے، یہ قربِ الٰہی کی سمت اٹھایا گیا پہلا قدم ہے،جو اس لمحے کو پہچان لیتا ہے، وہ دراصل اپنی زندگی کے معنی پا لیتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں