رمضان اور وقت کی قدر
وقت محض شب و روز کے گزرنے کا نام نہیں، یہ وہ خاموش امانت ہے، جو انسان کے ہاتھ میں اس کی ابدی کامیابی یا دائمی خسارے کی صورت میں لوٹائی جاتی ہے، یہ وہ انمول سرمایہ ہے، جس سے آدمی اپنی آخرت کی کھیتی سینچتا ہے، کائنات کا ذرّہ ذرّہ ایک معین وقت کا پابند ہے،سورج کا طلوع و غروب، چاند کی گردش، موسموں کا تغیر: یہ سب ایک الٰہی نظام کے تابع ہیں۔
رمضان المبارک اسی نظمِ ربانی کی عملی تفسیر بن کر آتا ہے؛ تاکہ انسان کو وقت کی حرمت اور اس کے صحیح مصرف کا شعور عطا کرے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَالْعَصْرِ ۙ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ(سورۃ العصر)’’قسم ہے زمانے کی! بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘، یہ خسارہ دراصل وقت کو بے مقصد گنوانے کا دوسرا نام ہے،عام دنوں میں جو لمحات ہمیں معمولی محسوس ہوتے ہیں، رمضان میں وہی لمحے قیمتی موتیوں کی طرح چمکنے لگتے ہیں،جو گھڑیاں سال بھر ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں، اس مہینے میں وہی سعادت کے دروازے بن جاتی ہیں۔
سوچئے! سحری کے وقت کے وہ آخری لمحات،جب سکوتِ شب میں رحمت کے در کھلتے ہیں،افطار سے قبل کی وہ گھڑیاں، جب پیاس کی شدت دعا کو سوز بخشتی ہےاور تہجد کا پرسکون وقت، جس میں بندہ اپنے رب کے حضور راز و نیاز میں ڈوب جاتا ہے،یہ اوقات محض گھڑیاں نہیں؛ بل کہ تجلیاتِ الٰہی کے نزول کے لمحات ہیں، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (بخاری)’’دونعمتیں ایسی ہیں، جن میں اکثر لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں: ایک صحت اور دوسری فراغت‘‘،رمضان دراصل انہی دو نعمتوں کی قدر سکھانے کا مہینہ ہے۔
افسوس ! یہی مہینہ، جو ہماری اصلاح کا سامان بن سکتا ہے، کبھی کبھی ہماری غفلت کا آئینہ بھی بن جاتا ہے،وقت کا زیاں ہمیشہ شور نہیں مچاتا، وہ خاموشی سے انسان کے دامن سے برکت چھین لیتا ہے، اس کی چند صورتیں ہمارے سامنے ہیں:
①خوابِ غفلت: سارا دن نیند کی نذر کر دینا اور سستی کو مجبوری کا نام دے دینا۔
②ڈیجیٹل سراب: اسکرین کی چمک میں آنکھیں کھو دینا اور قرآن کی روشنی سے محروم رہ جانا۔
③بے سود گفتگو: غیبت، لغویات اور لایعنی بحثوں میں قیمتی لمحات برباد کرنا۔
④افطار کی غیر متوازن مصروفیات: دسترخوان کی آرائش میں ایسا انہماک کہ دعا کی ساعت ہاتھ سے نکل جائے، یہ سب وہ نقوش ہیں، جو وقت کی پیشانی پر خسارے کی تحریر بن جاتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا رمضان خسارے کی بجائے ’’تجارتِ رابحہ‘‘ بن جائے، تو ہمیں وقت کو مقصدیت کا جامہ پہنانا ہوگااور اس کے لئے درج ذیل امور کااہتمام کرنا ہوگا:
①منصوبہ بندی (Planning)::دن کے اوقات کو تلاوت، ذکر، دعا اور ضروری معاشی و خانگی ذمہ داریوں میں متوازن انداز میں تقسیم کریں،قرآن کا اصول ہے: فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ’’پس جب آپ فارغ ہوں تو محنت کیجیے‘‘، یعنی:جب ایک کام سے فارغ ہو جائیں تو دوسرے مفید کام میں لگ جائیں۔
② قبولیت کی ساعتوں کا احترام:افطار سے قبل کے لمحات کو محض کھانے کی تیاری میں نہیں؛بل کہ دعا اور استغفار میں صرف کریں، یہ وہ گھڑیاں ہیں، جب بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
③ اعتدال و توازن:نہ ایسی بے جا بیداری کہ فجر کی حاضری چھوٹ جائے اور نہ ایسی بے خبری کہ دن کے فضائل ہاتھ سے نکل جائیں، رمضان توازن کا نام ہے۔
یادرکھئے!زندگی محدود سانسوں کے مجموعہ کی کتاب ہے، ہر دن ایک ورق ہے، جو شام کےوقت غروب آفتاب کے ساتھ پلٹ دیا جاتا ہے، جو لمحہ گزر گیا، وہ قیامت تک واپس نہیں آئے گا، رمضان کا ہر دن ہماری ابدی زندگی کی کتاب کا ایک مستقل باب ہے،جو ایک بار بند ہو جائے تو پھر میدانِ حشر ہی میں کھلے گا،لہٰذاآج ہمیں اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے:کیا ہم رمضان گزار رہےہیں، یا رمضان ہمیں گزار رہا ہے؟کامیابی کا معیار عمر کی طوالت نہیں؛ بل کہ بندگی میں بسر ہونے والے لمحے ہیں، وہ ایک سجدہ جو اخلاص سے ادا ہو، کبھی کبھی برسوں کی بے روح عبادت پر سبقت لے جاتا ہے۔
اے اللہ!ہمارے اوقات میں برکت عطا فرما،ہمارے لمحوں کو اپنی رضا کے لیے قبول فرما،ہمیں غفلت کی نیند سے جگا دےاور وقت کے زیاں کے حسرت ناک انجام سے محفوظ رکھ،آمین یا رب العالمین!

ایک تبصرہ شائع کریں