نگاہ کا روزہ

نگاہ کا روزہ
نگاہ کا روزہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


عام طور پر روزہ صرف شکم کی بھوک اور پیاس کی پکار کو خاموش کرنے کا نام سمجھا جاتا ہے؛ مگرروزہ کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ لطیف اور گہری ہے، رمضان المبارک ہمیں پورے وجود کی تربیت کا درس دیتا ہے اور اس ضبطِ نفس کا ایک نہایت اہم باب ’’نگاہ کا روزہ‘‘ہے،آنکھ محض دیکھنے کا آلہ نہیں؛ بل کہ یہ دل کا وہ دروازہ ہے، جس سے خیالات کی آمد و رفت ہوتی ہے،جو کچھ آنکھ دیکھتی ہے، وہی تصور بن کر دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔

جدید علمِ اعصاب بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ انسانی آنکھ محض ایک کیمرہ نہیں؛بل کہ دماغ اور جذبات سے براہِ راست مربوط ایک فعال نظام ہے، جب نگاہ کسی ہیجان انگیز منظر پر ٹھہرتی ہے تو دماغ میں لذت سے متعلق کیمیائی مادّے خارج ہوتے ہیں، جو وقتی سرور تو دیتے ہیں؛مگر بتدریج انسان کو ان کے اعادے کا عادی بنا دیتے ہیں اور روحانی یکسوئی متاثر ہونے لگتی ہے۔

گناہ کی داستان اکثر ایک بے احتیاط نظر سے شروع ہوتی ہے،پہلے سرسری نگاہ، پھر دل میں خیال، پھر رغبت اور بالآخر قدموں کا انحراف، اسی لیے قرآنِ حکیم نے تزکیۂ نگاہ کو عفت و عصمت کی بنیاد قرار دیا:قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ(سورۃ النور:30)’’آپ مومن مردوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں‘‘، یہ محض ایک اخلاقی ہدایت نہیں؛بل کہ ایمان کی سلامتی کا محافظ حکم ہے، شریعت نے نگاہ کی حفاظت کو دل کی طہارت اور ایمان کی حلاوت سے جوڑ دیا ہے،رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے اور جو شخص اللہ کے خوف سے اسے ترک کر دے، اللہ تعالیٰ اسے ایسا ایمان عطا فرماتے ہیں، جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔(طبرانی)،یہ محض وعید نہیں؛بل کہ بشارت بھی ہے۔

نظر کا روزہ آنکھیں بند کر لینے کا نام نہیں؛بل کہ بصارت کو بصیرت کے تابع کر دینے کا نام ہے،اس کی چند جہات ہیں:

حرام سے اجتناب: ان مناظر سے بچنا ،جنھیں شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے۔

زاویۂ نظر کی تطہیر : کسی کو تحقیر، حسد یا نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھنا۔

فضول نظری سے احتراز: آنکھوں کو لایعنی اور لغو مناظر کی آوارگی سے محفوظ رکھنا؛کیوں کہ نگاہ کا ہر تیر پہلے دل پر لگتا ہے، پھر کردار کو زخمی کرتا ہے۔

آج کا سب سے بڑا فتنہ بازاروں میں نہیں؛بل کہ ہماری جیبوں میں موجود ’’موبائل اسکرین‘‘ ہے،یہ وہ دروازہ ہے، جو تنہائی میں تقویٰ کو للکارتا ہے، چند لمحوں کی بے احتیاطی اور ایک غلط ’’کلک‘‘ دل پر ایسے نقوش چھوڑ سکتی ہے، جو عبادت کی لذت کو متاثر کر دیتے ہیں، ماہرینِ نفسیات کے مطابق ڈیجیٹل مناظر کا مسلسل اور بے قابو استعمال انسانی اعصاب کو تھکا دیتا ہے، فیصلہ سازی کی قوت کو کمزور کرتا ہے اور ذہنی یکسوئی کو منتشر کر دیتا ہے،بار بار بدلتے مناظر ذہن میں ایسے راستے بنا لیتے ہیں کہ سوچ سطحی اور حافظہ کمزور ہونے لگتا ہے، اس اعتبار سے رمضان کا روزہ ایک طرح کا روحانی اور ذہنی تطہیر کا موقع ہے،ایک ایسا وقفہ، جو بکھرے ہوئے خیالات کو سمیٹنے اور ارادے کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔

رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم حلال پانی کے ایک گھونٹ سے رک سکتے ہیں تو حرام منظر سے رک جانا کیوں دشوار ہو؟ جو شخص پیاس کی شدت میں بھی ضبط اختیار کر لیتا ہے، وہ نگاہ کی بے راہ روی کو کیوں نہ روک سکے؟ ارادے کی یہی قوت انسان کے شعور کو مضبوط کرتی ہے اور اسے اپنے جذبات پر قابو پانا سکھاتی ہے، اصل روزہ یہ ہے کہ انسان خلوت میں بھی ویسا ہی رہے، جیسا جلوت میں نظر آتا ہے

نگاہ کو صرف برائی سے روک لینا کافی نہیں، اسے خیر کے راستے پر لگانا بھی ضروری ہے، آنکھ جب نیکی میں مصروف ہو جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہے،نگاہ کو عبادت بنانے کے چند طریقے یہ ہیں:

 تلاوتِ قرآن: مصحف کو دیکھ کر پڑھنا آنکھوں کے لیے نور اور دل کے لیے سرور ہے۔

محبتِ والدین: شفقت و احترام کی نگاہ سے والدین کو دیکھنا باعثِ اجر ہے۔

ہمدردی کی نظر: کسی محتاج کو ترحم کی نگاہ سے دیکھنا دل کو نرم اور روح کو بیدار کرتا ہے۔

مطالعۂ کائنات: آفاق کے مناظر میں خالق کی قدرت کو تلاش کرنا ایمان کو تازگی بخشتا ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ(آل عمران:190)’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں‘‘، جب نگاہ کائنات میں نشاناتِ الٰہی کو تلاش کرتی ہے تو بصارت، بصیرت میں ڈھل جاتی ہے۔

آج اس بات کا مصمم ارادہ کریں کہ جب بھی یہ آنکھ کسی لغزش کی طرف مائل ہو تو فوراً دل میں یہ صدا گونجے: یا اللہ! میں تجھ سے شرماتا ہوں، یاد رکھیں! جو آنکھیں آج اللہ کے خوف سے جھک جاتی ہیں اور دنیا کی رنگینیوں میں گناہ سے بچتی ہیں، وہی آنکھیں قیامت کے ہولناک دن عرشِ الٰہی کا سایہ پائیں گی اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہوں گی۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی