لفظوں کا احتساب
جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو ہم اپنے دسترخوان سمیٹ لیتے ہیں؛ مگر کیا ہم اپنی زبان بھی سمیٹ کررکھتے ہیں؟ہم پیٹ کو تو حکم دے دیتے ہیں کہ وہ خاموش رہے؛ مگر زبان کو یہ حکم دینا بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی روزے میں داخل ہو جائے؛ حالاں کہ روزہ صرف’’ امساکِ طعام‘‘کا نام نہیں؛ بل کہ ’’امساکِ کلام ‘‘کابھی نام ہے ، قرآن میں روزے کا مقصد یوں بیان فرمایاگیاہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ… لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرۃ:183)’’اے ایمان والو! تم پرروزے فرض کئے گئے ہیں … شاید کہ تم متقی بن جاؤ‘‘، یعنی روزہ اس لیے ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ کی کیفیت پیداہواور تقویٰ یہ نہیں کہ صرف بھوک برداشت کر لیاجائے؛ بل کہ اس کا ایک روشن مظہر یہ بھی ہے کہ انسان بولنے سے پہلے اپنے لفظوں کو پرکھ لے۔
انسان تپتی دھوپ میں حلق کی خشکی سہہ لیتا ہے؛ مگر چند لمحوں کے لیے اپنی زبان کو روکنا دشوار محسوس کرتا ہے، یہ کیسا عجیب تضاد ہے کہ وہ دانہ پانی سے تو رک جاتا ہے؛ مگر غیبت سے نہیں؛ کھانے سے تو پرہیز کرتا ہے؛مگر طنز و تمسخر سے نہیں،قرآن نے غیبت کی جو تصویر کھینچی ہے، وہ اہل ایمان کو جھنجھوڑ دیتی ہے:أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ (الحجرات:12)’’کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے کراہت کرتے ہو (تو غیبت سے بھی کراہت کرو)‘‘،کیا کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟تو پھر یہ کیسا روزہ ہے کہ انسان حلال رزق سے رک جائے؛ مگر اپنے بھائی کی عزت کو چیر دے؟
روزہ دراصل نفس کو لگام دینے کی مشق ہے، اگر نفس زبان کے دروازے سے بے قابو ہو جائے تو روزے کی نورانیت مدھم پڑ جاتی ہے، غیبت، جھوٹ، بہتان، طعن و تشنیع، بدکلامی: یہ سب وہ ہیں، جو روزے کی نورانیت کو چاٹ جاتے ہیں، یادرکھنا چاہئے کہ ہماری زبان سے ادا ہونے والے الفاظ بھی گرفت میں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ(ق:18)’’انسان جو لفظ بھی زبان سے نکالتا ہے، اس پر نگہبان مقرر ہیں‘‘، یعنی روزہ ہمیں صرف بھوکا رہنا نہیں سکھاتا؛ بل کہ بولنے سے پہلے رک کر سوچنا بھی سکھاتا ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جس نے جھوٹ اور برے عمل کو نہ چھوڑا، اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘(صحیح بخاری)،ایک دوسری حدیث میں فرمایا:’’روزہ ڈھال ہے… اگر کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دے: میں روزے سے ہوں‘‘(بخاری و مسلم)، یہ صرف الفاظ نہیں، اخلاق کی ایک مکمل تربیت ہے۔
زبان دراصل دل کا آئینہ اوراس کی سفیر ہے،دل میں جو کچھ پنپتا ہے، زبان اسی کی ترجمانی کرتی ہے، اگر دل ذکرِ الٰہی سے منور ہو تو لفظوں میں نور جھلکے گا اور اگر دل میں کینہ ہو تو زبان سے شرارے برسیں گے،قرآن ہمیں حسنِ کلام کی تعلیم دیتا ہے:وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا(البقرۃ:83)’’لوگوں سے بھلی بات کہو‘‘ اور دوسری جگہ فرمایا:قُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ(الاسراء:53)’’میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں، جو سب سے بہتر ہو‘‘،گویا زبان کا روزہ، دل کی اصلاح کا پہلا زینہ ہے۔
افطار کے وقت جب ہاتھ دعا کے لیے اٹھیں تو ایک سوال خود سے بھی کیجیے:آج میں نے کیا کھایا؟ یہ تو معلوم ہے؛مگر آج میں نے کیا بولا؟ کیا میرے لفظ بھی روزے میں تھے؟بہت سے لوگ ایسے ہیں،جنھیں روزے سے صرف پیاس ملتی ہےاور کچھ ایسے بھی ہیں، جن کے نصیب میں تقویٰ کی روشنی آتی ہے؛ کیوں کہ انھوں نے اپنی زبان کو بھی روزے میں شامل کر لیا ہوتا ہے۔
یا اللہ! ہماری زبانوں کو سچائی کا زیور عطا فرما، ہمارے لہجوں کو نرمی کی خوشبو دے اور ہمارے کلام کو خیر و اصلاح کا وسیلہ بنا دے،ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کا روزہ صرف معدے کا نہیں، دل اور زبان کا بھی ہو اور جو ’’لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ‘‘کی عملی تصویر بن جائے،آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں