قرآن سےتجدیدِ عہد
رمضان اور قرآن کا باہمی رشتہ محض تقویمی مناسبت نہیں، یہ نور اور بصیرت کی ہم آہنگی ہے، جیسے آفتاب اور اس کی کرنیں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں اور جیسے پھول اپنی خوشبو کے بغیر بے شناخت، اسی طرح رمضان قرآن کے بغیرایک خاموش مہینہ ہے، جس میں حرارت تو ہو سکتی ہے؛ مگر ہدایت کی روشنی نہیں، رمضان وہ ساعتِ مبارکہ ہے، جس کی آغوش میں کلامِ الٰہی نے زمین پر قدم رکھا اور انسانی تاریخ نے ہدایت کی ایک نئی صبح دیکھی، ربِّ کریم کا ارشاد ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ.. (سورۃ البقرہ: 185)
رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا،لوگوں کے لیے سراپا ہدایت بن کر۔
مگر ایک سوال ہے، جو دل کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتا ہےاور ہمیں بے چین کیے دیتا ہےکہ: کیا قرآن صرف آسمان سے زمین تک اترا، یا ہماری زندگیوں کی بند دریچوں پر بھی دستک دے کر اندر آیا؟ کیا اس کا نور صرف مصحف کے اوراق تک محدود رہا، یا ہمارے دلوں کی ویران بستیوں، ہماری سوچ، ہمارے فیصلوں اور ہماری تنہائیوں میں بھی اتر سکا؟
ہم رمضان میں تلاوت کی کثرت کرتے ہیں، حروف کی گنتی بڑھاتے ہیں، ختمِ قرآن کی مسرت سمیٹتے ہیں؛ مگر اکثر یہ رشتہ زبان کی نوک اور ہونٹوں کی جنبش سے آگے نہیں بڑھ پاتا، الفاظ گونجتے ہیں؛مگر دل کی زمین بنجر رہتی ہے،آنکھیں مصحف پر جھکی رہتی ہیں؛مگر نگاہِ بصیرت بیدار نہیں ہوتی، یہی وہ لمحہ ہے، جب رمضان ہمیں پکارتا ہے اورکہتا ہے کہ : آؤ، قرآن سے ایک نیا عہد کرو،ایسا عہد، جو صرف تلاوت کا نہیں، تعلق کا ہو، صرف قرأت کا نہیں، کیفیت کا ہو۔
پہلا وعدہ یہ ہو کہ ہمارا تعلق قرآن سے وقتی نہیں، دوامی ہوگی، چاہے ہم ایک رکوع کی تلاوت کریں یا چند آیات کی؛ مگر یہ رشتہ ٹوٹنے نہ پائے،مقدار نہیں، تسلسل اصل سرمایہ ہے،نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:’’اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو‘‘(صحیح بخاری)، پس قرآن سے روزانہ کی مختصر؛ مگر سچی ملاقات، ہزاروں بے جان ملاقاتوں سے بہتر ہے۔
دوسرا وعدہ یہ ہو کہ ہم قرآن کو صرف ثواب کی کتاب نہیں، فہم و بصیرت کا سرچشمہ سمجھیں گے، یہ محض تکرار کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ زندگی کا نقشۂ راہ (Manual of Life) ہے، ایک آیت پر ٹھہر جانا، اس کے مفہوم کو دل میں اتار لینا، اس کی روشنی میں اپنی کمزوریوں کو دیکھ لینا:یہ بے سمجھے ختم کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے،خود قرآن سوال کرتا ہے:أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ.. (سورۃ النساء:82)’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘، یہ استفہام دراصل دعوت ہے:تدبر کی، توقف کی، اور دل کی آنکھ کھولنے کی۔
تیسرا وعدہ ارادۂ عمل کا ہو، تلاوت جب تک کردار میں نہ ڈھلے، لفظوں کی بازگشت رہتی ہے، انقلاب نہیں بنتی، آج اگر ہم سچ بولنے کا عزم کر لیں، غصہ پی جانے کا ہنر سیکھ لیں، کسی مجبور کا ہاتھ تھام لیں تو یہی قرآن کا عملی ظہور ہے، تب قرآن الماریوں سے نکل کر ہمارے اخلاق میں چمکے گا، ہمارے معاملات میں جھلکے گا اور ہماری تنہائیوں میں ہمیں تھام لے گا۔
ہم قرآن سے دور کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اسے برکت کی کتاب تو مانا؛ مگر ہدایت کی کتاب (Book of Guidance) بنانے سے ہچکچائے، ہم نے اسے غلافوں میں لپیٹ کر بلند جگہوں پرتو رکھا؛ مگر اپنے فیصلوں کی میز پر جگہ نہ دی، ہم نے اسے ایصالِ ثواب کا وسیلہ توسمجھا؛ مگر اصلاحِ حیات کا معیار نہ بنایا؛ حالاں کہ رمضان کا اصل جوہر یہی ہے کہ کلامِ الٰہی کاغذ سے نکل کر رگ و پے میں دوڑنے لگے، فکر سے گزر کر فطرت بن جائے۔
آج، اسی لمحے، اپنے رب کے حضور جھک کر ایک سادہ؛ مگر سچا وعدہ کریں:یا اللہ! میں اس رمضان میں تیرے کلام کو صرف پڑھوں گا نہیں، اسے سمجھنے کی کوشش کروں گا، صرف سمجھوں گا نہیں، اسے برتنےکی سعی کروں گااور صرف برتنےکی کوشش نہیں کروں گا؛بل کہ اسے اپنے وجود کا چراغ بنا لوں گا، یاد رکھیے! قیامت کے کڑے لمحوں میں یہی قرآن یا تو ہمارا سفارشی بنے گا یا پھر ہمارا شاکی، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:’’قرآن تمہارے حق میں حجت ہے یا تمہارے خلاف‘‘(صحیح مسلم)۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:ہم قرآن کو اپنی زندگی کا رفیق بنائیں یا اپنی غفلت کا گواہ؟رمضان دستک دے رہا ہےتوکیا ہم تجدیدِ عہد کے لیے تیار ہیں؟

ایک تبصرہ شائع کریں