دل کی صفائی مہم

دل کی صفائی مہم

دل کی صفائی مہم

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی


ہم اپنے گھروں کی صفائی میں کتنے حساس ہوتے ہیں! ذرا سی گرد دکھائی دے تو ہاتھ میں جھاڑو آ جاتا ہے، لباس پر معمولی سا داغ پڑ جائے تو بے چینی گھیر لیتی ہے؛ مگر افسوس! ہمارے وجود کا وہ مرکز، جس پر ربِّ کائنات کی نظرِ رحمت ہوتی ہے، یعنی:دل،وہ اکثر برسوں کی گرد، کینہ و حسد کے زنگ اور غفلت کی دھول سے ڈھکا رہتا ہے، ہم ظاہر کو چمکاتے ہیں اور باطن کو بھلا دیتے ہیں؛حالاں کہ اصل نگاہ تو اسی باطن پر ہونی چاہئے۔

اسلام نے بھی انسان کی قدر و قیمت کا معیار ظاہری شکل و صورت یا مال و نسب کو نہیں بنایا؛ بل کہ اصل معیار دل کی پاکیزگی کو قرار دیا ہے، اسی حقیقت کو قرآن کریم یوں بیان کرتا ہے:

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ۝ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ(الشعراء: 88–89)

جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، مگر وہ جو اللہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر حاضر ہوا۔

قلبِ سلیم،یعنی: ایسا دل جو کینہ، حسد، تکبر اور نفاق سے پاک ہو،رمضان المبارک دراصل اسی دل کی صفائی کی ایک عظیم’’سالانہ مہم‘‘ (Annual Spiritual Campaign) ہے، اگر دل صاف ہو تو معمولی سی نیکی بھی نور بن کر عرش تک پہنچتی ہے اور اگر دل میلا ہو تو بڑی عبادت بھی اثر کھو دیتی ہے۔

وقت کے ساتھ ہمارے دلوں میں کتنی ہی تہیں جم جاتی ہیں:

۝ کسی کا پرانا غصہ، جو انتقام کی چنگاری بن کر سلگتا رہتا ہے۔

۝  دوسروں کی کامیابی پر حسد کی خفیہ چبھن۔

۝  تلخ جملوں کی یاد، جو کینہ بن کر دل میں بیٹھ جاتی ہے۔

۝  اپنی عبادت، علم یا مقام پر فخر کا خفیہ تکبر۔

یہ سب روح کی وہ گرد ہے، جو بندے اور اس کے رب کے درمیان حجاب بن جاتی ہے، نبی کریم ﷺ نے تنبیہ فرمائی ہے:’’خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)،گویا دل درست تو سب درست، دل خراب تو سب خراب۔

روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ یہ دراصل ایک روحانی تربیت(Self-Control Training)ہے، ایک ایسی روحانی مشق، جس میں انسان اپنی خواہشات کو قابو کرنا سیکھتا ہے، جب بندہ اللہ کے حکم پر حلال کھانے پینے سے رک سکتا ہے تو وہ حرام جذبات، جیسے:غصہ، حسد، کینہ وغیرہ سے کیوں نہیں رک سکتا؟رمضان ہمیں صرف گناہوں سے بچنے کا نہیں، بلکہ دل کو دھونے کا موقع دیتا ہے۔

دل کی صفائی کے چند اہم مرحلے یہ ہیں:

1— عفو و درگزر: جس نے آپ کا دل دکھایا، اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیں، قرآن کہتا ہے:وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۗ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ (النور: 22)’’انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟‘‘، جو بندوں کو معاف کرتا ہے، رب اسے معاف فرماتا ہے۔

2— حسد کا علاج: جس کی نعمت دیکھ کر دل میں خلش پیدا ہو، فوراً اس کے لیے برکت کی دعا کریں،نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’حسد سے بچو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے‘‘۔(سنن ابی داؤد)، دعا حسد کو رحمت میں بدل دیتی ہے۔

3— تکبر سے حفاظت: عبادت، علم یا سماجی مقام پر فخر دل کو سیاہ کر دیتا ہے، ہم سب مٹی سے بنے ہیں اور مٹی ہی میں مل جانا ہے، عاجزی وہ صفت ہے، جو دل کو آئینہ بناتی ہے اور اس میں نور اترتا ہے۔

آج رات سونے سے پہلے چند لمحے اپنے دل کے ساتھ تنہائی میں بیٹھیں، خود سے سوال کریں: کون سا نام ہے، جس کے تعلق سے اب بھی دل میں سختی ہے؟ کون سا زخم ہے، جسے برسوں سے سینے سے لگائے بیٹھا ہوں؟ پھر اپنے رب کے حضور عاجزی سے عرض کریں:’’یا اللہ! تیری رضا کے لیے میں نے ہر اس شخص کو معاف کیا، جس نے میرا دل دکھایا، تو اپنی رحمت سے مجھے معاف فرما دے‘‘۔

اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے، رمضان دلوں کی صفائی کا مہینہ ہے، آئیے، ہم اپنے رب کے حضور ایسا دل لے کر حاضر ہوں، جو کینہ سے خالی، حسد سے پاک اور عاجزی سے معمور ہو؛کیوں کہ قیامت کے دن نہ ہمارے لباس کام آئیں گے، نہ ہمارے مکانات، نہ ہماری ظاہری وجاہت، کامیابی کا مدار صرف اس دل پر ہوگا ،جو ’’قلبِ سلیم‘‘بن کر بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوگا۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی