نیت کا وزن

نیت کا وزن

نیت کا وزن

محمدجمیل اختر جلیلی ندوی

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں جب اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہوتی ہیں تو فضا عبادت کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے، کہیں تلاوتِ قرآن کی روح پرور صدائیں ہیں، کہیں رکوع و سجود کی بہار، کہیں صدقہ و خیرات کی سخاوت جلوہ گر ہے اور کہیں آنسوؤں میں ڈوبی دعاؤں کی سرگوشیاں، بظاہر یہ سب اعمالِ صالحہ ہیں؛ مگر سوال یہ ہے کہ الٰہی میزان میں ان کا وزن کس ترازو میں تولا جاتا ہے؟وہ ترازو ہے’’نیت‘‘۔

نیت محض زبان سے ادا کیے گئے چند الفاظ کا نام نہیں، یہ دل کے اس خاموش ارادے کا عنوان ہے، جو بندہ اور رب کے درمیان ایک باطنی رشتہ استوار کرتا ہے، عمل جسم ہے تو نیت اس کی روح، روح نہ ہو تو جسم بے جان ہے اور نیت نہ ہو تو عمل محض ایک ظاہری حرکت،قرآنِ کریم اس حقیقت کو یوں واضح کرتا ہے:

لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ (الحج: 37)

اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظاہری صورت و مقدار نہیں؛بل کہ دل کا اخلاص اور تقویٰ معتبر ہے، عمل کی قدر اس کے خلوص سے ہے، نہ کہ اس کی نمود سے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو افراد ایک ہی صف میں، ایک ہی امام کے پیچھے، ایک ہی انداز سے رکوع و سجود کرتے ہیں؛ مگر ان کے اجر میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، ایک کا عمل عرش تک رسائی پاتا ہے اور دوسرے کا عمل محض جسمانی مشقت بن کر رہ جاتا ہے، یہ فرق کس چیز کا ہے؟صرف اور صرف ’’نیت‘‘ کا، رسولِ اکرم ﷺ کا یہ جامع فرمان رہتی دنیا تک اس اصول کو واضح کرتا رہے گا:

اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ(بخاری)

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

گویا عمل کی حقیقت اس کی نیت سے متعین ہوتی ہے،نیت بلند ہو تو معمولی عمل بھی بلند ہو جاتا ہے اور نیت کھوکھلی ہو تو عظیم الشان عمل بھی بے وزن، اسی حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ اکسیر ہے، جو ذرّے کو پہاڑ بنا دیتی ہے، ایک مومن اگر خلوصِ دل سے ایک کھجور بھی اللہ کی راہ میں دے تو وہ اس کے ہاں اس قدر بڑھا دی جاتی ہے کہ احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہو جاتی ہے؛ مگر دوسری طرف اگر عمل پہاڑ جیسا ہو اور اس میں ریا کی آمیزش شامل ہو جائے تو وہ رائی کے دانے کے برابر بھی قدر نہیں رکھتا، قرآن تنبیہ کرتا ہے:

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا (الکہف: 110)

پس جو اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔

یہ ’’شریک نہ ٹھہرانا‘‘ صرف بت پرستی سے بچنے کا نام نہیں؛ بل کہ دل میں چھپی ہوئی ریا اور شہرت کی خواہش سے بھی اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔

رمضان دراصل نیت کی تربیت کا مہینہ ہے، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عام عادتوں کو کس طرح عبادت میں بدلا جائے، سحری کے لیے بیدار ہونا بظاہر ایک طبعی ضرورت بھی ہو سکتی ہے؛ مگر جب دل میں یہ شعور جاگ اٹھے کہ ’’میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کر رہا ہوں‘‘ تو یہی عمل عبادت بن جاتا ہے، اسی طرح روزمرہ کے کام، جیسے:اہلِ خانہ کے لیے محبت سے دسترخوان سجانا، کسی پریشان دل کو دیکھ کر خلوص سے مسکرا کر اس کی پریشانی کو ہلکا کرنا، راستے میں کسی کی مدد کر دینا وغیرہ ، اگر ان سب کے پیچھے نیت ’’رضائے الٰہی‘‘ ہو، تو یہی معمولی اعمال بندگی کے دفتر میں عظیم اعمال بن کر درج ہو جاتے ہیں۔

رمضان ہمیں خود احتسابی کا سلیقہ سکھاتا ہے،ہر عمل سے پہلے ایک لمحہ رک کر اپنے دل سے سوال کیجیے:میں یہ کس کے لیے کر رہا ہوں؟لوگوں کی تحسین کے لیے یا اپنے رب کی رضا کے لیے؟یاد رکھیے! قیامت کے دن ظاہری صورتیں نہیں، دلوں کے راز کھولے جائیں گے:

اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ. وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ. (العادیات: 9-10)

کیا وہ نہیں جانتا ،جب قبروں کی چیزیں نکال لی جائیں گی اور سینوں کی باتیں ظاہر کر دی جائیں گی؟

وہ دن نیتوں کا دن ہوگا،جس دن عمل کی نہیں، اخلاص کی قدر ہوگی، اے اللہ! ہمارے اعمال میں اخلاص کی روح پھونک دے، ہمارے ظاہر کو ہمارے باطن سے ہم آہنگ کر دے،ہماری نیتوں کو ہر طرح کی ریا اور آمیزش سے پاک کر کے انہیں خالص اپنی رضا کے لیے وقف فرما دے،آمین یا رب العالمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی