رمضان: روح کی دستک یا محض رسمِ فاقہ؟
رمضان المبارک کی آمد محض ایک قمری مہینے کی تبدیلی یا تقویمِ عالم کے ایک ورق کا الٹ جانا نہیں ہے؛بل کہ یہ انسانی باطن کے مقفل دروازوں پر ایک ایسی دستک ہے، جو خوابیدہ روحوں کو بیدار کرنے کا پیغام لاتی ہے، افق پر ہلالِ رمضان کا نمودار ہونا اگرچہ ایک ظاہری اعلان ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ’’دل کے کانوں‘‘نے بھی اس ملکوتی صدا کو سنا اور کیا ہمارا وجود اس الہیٰ پکار پر لبیک کہنے کے لیے آمادہ ہوا؟ باری تعالیٰ نے روزے کی غایت اور اس کے فلسفۂ وجود کو’’لعلکم تتقون‘‘کے بصیرت افروز پیرائے میں بیان فرما کر یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ تیس دن کی مشقت محض ایک ضابطہ نہیں؛ بل کہ وہ جوہرِ تقویٰ کشید کرنے کا عمل ہے، جس کے بغیر روزہ محض ایک بے جان قالب اور روح سے خالی ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔
تقویٰ دراصل اس باطنی کیفیت کا نام ہے، جہاں انسان خلوت کی تاریکیوں میں بھی بندگی کے اسی حصار میں رہتاہے، جو اسے جلوت کی روشنیوں میں میسر ہوتا ہے اور جہاں خدا کی نگرانی کا استحضار، نفس کی سرکش خواہشات کی طغیانی پر بند باندھ دیتاہے، آج جب رمضان کا چاند طلوع ہوتا ہے تو مسجدیں مصلّیوں سے آباد، فضا تراویح کی جاں فزا صداؤں سے معطر اور دسترخوان نعمتوں کی فراوانی سے وسیع ہو جاتے ہیں؛ مگر اس پُرکشش منظر کے پیچھے ایک کسک باقی رہتی ہے کہ کیا ان ظاہری وسعتوں کے ساتھ ہمارے ظرف، اخلاق اور برتاؤ میں بھی کوئی کشادگی پیدا ہوتی ہے؟ صادق و مصدوق ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی کہ ’’جو شخص جھوٹ اور برے عمل کو نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے کھانا پینا چھڑوانے کی کوئی حاجت نہیں‘‘ درحقیقت ہماری سطحی دینداری کے منہ پر ایک زوردار طماچہ ہے۔
اگر زبان جھوٹ کی آلودگی سے پاک نہ ہوئی اور معاملات دیانت کی خوشبو سے محروم رہے تو یہ روزہ ایک جسمانی مشقت اور روح کو تھکا دینے والی پیاس تو ہو سکتا ہے؛ لیکن وہ کیمیائے سعادت ہرگز نہیں، جو انسان کو کندن بنا دیتی ہے، اسی طرح رمضان اور قرآن کا باہمی ربط بھی محض تلاوت کی کثرت کا نام نہیں؛ بل کہ یہ تو اس ’’میثاقِ ہدایت‘‘ کی تجدید کا موسم ہے، جو انسانیت کی تقدیر بدلنے کے لیے نازل ہوا تھا، افسوس کہ ہمارا تعلق قرآن سے محض ’’صوت‘‘ اور نغمگی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؛حالاں کہ یہ کتابِ مبین تو وہ دستورِ حیات ہے، جسے ہمارے فیصلوں، ہماری ترجیحات اور ہمارے باہمی تعلقات کے رخ متعین کرنے تھے، یہ وہ ’’جُنّہ‘‘ اور ڈھال ہے، جو ہمیں نارِ جہنم سے بھی بچاتی ہے اور خود ہمارے اپنے ’’نفسِ امارہ‘‘کی یلغار سے بھی۔
رمضان دراصل نفس کے خلاف ایک مقدس معرکہ آرائی کا نام ہے، جہاں پیٹ کی بھوک کے ذریعے خواہش کی بھوک کو لگام دی جاتی ہے اور زبان کی خاموشی کے پہرے میں غصے اور تکبر کے بتوں کو پاش پاش کیا جاتا ہے،یقین جانیے! رمضان کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں ہے کہ ہم نے کتنے ختمِ قرآن کیے یا افطار کی محفلوں میں کیا اہتمام تھا؛ بل کہ کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ اس ماہِ مقدس نے ہمارے کردار میں کتنی تبدیلی پیدا کی اور ہم نے برسوں پرانی کن گناہوں کی عادتوں کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا؟
اگر عید کی صبح بھی ہماری نمازیں وہی ڈھیلی، نگاہیں وہی بے پروا اور معاملات وہی بے اصول رہے تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم خود احتسابی کے بجائے خود فریبی کی دھند میں بھٹک رہے ہیں، یہ مبارک ساعتیں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہم اللہ کے جلال و جمال سے قریب ہوں، خلقِ خدا کے لیے سراپا نرمی بنیں اور اپنے دامن کو گناہوں کی غلاظت سے پاک کریں، باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ’’رمضان گزارنے‘‘ کی بجائے ’’رمضان سے گزرنے‘‘ کی توفیق عطا فرمائے؛ تاکہ جب یہ مہینہ رخصت ہو تو ہمارے وجود کی کائنات بدل چکی ہو اور ہم وہ نہ رہیں، جو اس کے آغاز میں تھے۔

ایک تبصرہ شائع کریں