انجمؔ مانپوریایک صحافی، ایک شاعر، ایک طنزومزاح نگار
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ(سن قیام:۱۳۱۶ھ / ۱۸۹۸ء) نے اپنے قیام ہی کے زمانہ سے علوم شرعیہ کے ساتھ ساتھ ’’زبان و ادب‘‘ کی طرف خصوصی توجہ دی ہے؛ چنانچہ درجہ بندی کے ساتھ نظام تعلیم وتدریس اورنصاب تعلیم کا جوخاکہ اس کے ابتدائی مرحلہ میں پیش کیاگیا، اس میں یہ بات لکھی گئی کہ: ’’ادنیٰ درجہ میں خاص دینیات اورادب کالحاظ ہوگا‘‘ اور’’ فن ادب پرنہایت توجہ ہوگی، شعرائے جاہلی کے متعدد دیوان درس میں داخل ہوں گے؛ تاکہ قرآن مجیدکے طرزِبیان پرعمدہ واقفیت ہو‘‘(تاریخ ندوۃ العلماء:۱/ ۱۳۹-۱۴۷)، اسی خاکہ کانتیجہ ہے کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف عربی زبان وادب کی شناورہوئی؛ بل کہ اردوادب کادامن بھی انھوں نے شہ پاروں سے بھردیا، جن میں نمایاں: علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی، شاہ معین الدین ندوی، مولانا رئیس احمد جعفری ندوی، مولانامسعودعالم ندوی، مولانا رشید اخترندوی،مولاناابوالحسن علی ندوی، مولانااسحق جلیس ندوی، مولاناعبدالسلام قدوائی ندوی، مولانا ابوالعرفان ندوی، مولانا محمد ثانی حسنی ندوی، مولانا ابوالجلال ندوی، مولانا ریاست علی ندوی، مولانا عبداللہ عباس ندوی وغیرہم ہیں، ادبی کہکشاں کے اس جھرمٹ میں ایک اورنام’’انجم مانپوری‘‘ کا بھی ہے۔
ان کااصل نام ’’نورمحمد‘‘ ہے،جب کہ قلمی نام ’’انجمؔ مانپوری‘‘ ، معروف اپنے قلمی نام سے ہی ہوئے، ان کی پیدائش ۱۳۰۰ھ مطابق ۱۸۸۱ء میں صوبہ بہار میں ضلع گیا کے ایک موضع’’مانپور‘‘میں ہوئی، آپ کے والد کانام’’شیخ باقرعلی‘‘ تھا، جوپیشہ سے ایک تاجرتھے، ان کی پانچ نرینہ اولاد ہوئیں، ایک کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، باقی چارلڑکے: حاجی دلاور حسین، وزیرمحمد، عبد الکریم اور نور محمد (انجمؔ مانپوری) نے اپنی حصہ کی زندگی پوری کی، انجم مانپوری بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے؛ اس لئے فطری طورپر ماں باپ کے دُلارے اوربھائیوں کے چہیتے تھے، لہٰذا سبھوں نے ان کی تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دی۔
ان کی تعلیم کا آغاز حسبِ رواج ناظرہ قرآن شریف سے ہوا، پھرابتدائی عربی وفارسی کی تعلیم کے لئے وقت کے ممتاز اورجیدعلماء:مولاناخیرالدین مرحوم اورمولانا عبدالغفار مرحوم کے مکتب میں شریک کئے گئے، جہاں عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم مذکورہ دونوں علماء کی خصوصی نگرانی میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ’’دارالعلوم ندوۃ العلماء‘‘ لکھنؤ گئے، جہاں علامہ شبلی نعمانی جیسی نابغۂ روزگار شخصیت کی شاگردی کی سعادت اور سید سلیمان (جو آگے چل کرسیدالطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی بنے) جیسے طالب علم کی رفاقت نصیب ہوئی، ظاہر ہے کہ تعلیم وتربیت میں جس طرح نصاب، نظام اور ماحول کا اثرہوتا ہے، اسی طرح استاذ اورہم درس رفقاء کا بھی خاصا اثرپڑتا ہے؛ چنانچہ ان پر بھی پڑا، اسی اثرکا نتیجہ تھا کہ ندوہ سے فراغت کے بعدبھی ان کی علمی تشنگی ’’صدائے ھل من مزید‘‘ لگاتی رہی اوریہ اس کی سیرابی کے لئے ’’شاہی مسجد‘‘ مرادآباد چلے گئے اور وہاں وقت کے اساطین علم: مولانااحمدحسن امرہوی اور مولانا محمود حسن سہوانی سے اکتساب فیض کیا، پھرواپس اپنے وطن گیا آگئے(کلام انجم مانپوری،مضمون بہ عنوان: شخص وعکس، از: معین شاہد، ص:۲۲-۲۳، مانپوری: احوال وآثار، از: اظہارخضر، ص: ۱-۲)۔
انجم مانپوری کا زمانہ ہمارے آج کے زمانہ سے بہت مختلف تھا، آج رواج یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم جب تک رواں رہے، اس کے گھریلوزندگی کے تعلق سے سوچنا بھی گناہ ہے، خواہ بچہ عمرکے اس دوراہے پرپہنچ جائے، جہاں خواہشات کے ریلے اسے غلط حرکات کے ارتکاب تک پہنچادے، انجم کے زمانہ میں عمرکی رفتارکودیکھاجاتاتھا اور تعلیم کے دوران بھی گھریلوزندگی سے باندھ دیاجاتاتھا؛ تاکہ بچوں سے ایسی حرکات سرزد نہ ہوں، جن کی وجہ سے سماج میں منھ چھپا کر چلنا پڑے، انجم مانپوری کے ساتھ بھی یہی ہوا، ابھی تعلیمی سلسلہ جاری ہی تھاکہ ۱۹۰۵ء کے آس پاس ان کی شادی کردی گئی اور تعلیمی مرحلہ سے فراغت کے ساتھ ہی وہ ایک بچی کے باپ بھی بن گئے، وقت گزرنے کے ساتھ پانچ بچوں (دوبیٹوں اورتین بیٹیوں) کے باپ بنے؛ لیکن قضائے الٰہی سے دونوں لڑکے عہد طفلی ہی میں دارآخرت کی طرف سدھارگئے ، اہلیہ کا انتقال ۱۹۴۶ء میں ہوا (انجم مانپوری، از: ڈاکٹر سید احمد قادری، ص:۱۳)۔
۱۹۰۶ء میں علامہ شبلی نعمانی کے ہاتھوں کے ان کے سرپردستارباندھی گئی، جواس بات کی علامت تھی کہ یہ اب طالب علمی کے ایک مرحلہ سے گزر چکے ہیں اور اب استادی کے مرحلہ میں داخل اورعلماء کی صف میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے جلسۂ دستاربندی کے تعلق سے سیداحمد قادری لکھتے ہیں:’’انجم مانپوری کے لئے ۱۹۰۶ء اہم سال رہا کہ اسی سال گیاؔ میں ان کی دستار بندی بڑے تزک واحتشام کے ساتھ ہوئی، اس بہت ہی اہم اورخصوصی تقریب میں علامہ شبلی نعمانی، علامہ عبدالحق حقانی(صاحب تفسیر حقانی) مولاناعبدالوہاب منطقی اور مولاناسیدامیرحسن بلیاروی (شوق بلیاروی کے نام شاعری کرتے تھے اوروہ پروفیسر اخترقادری کے جد امجد تھے) جیسی اپنے دور کی اہم دینی شخصیات نے انجم مانپوری کے سرپردستارفضیلت باندھ کر اس تقریب کوتاریخی بنایاتھا‘‘(انجم مانپوری،از: ڈاکٹر سید احمد قادری، ص:۱۳، نیزدیکھئے:کلام انجم مانپوری، ص:۲۳-۲۴)۔
تعلیمی لحاظ سے ایک مرحلہ کی تکمیل کے بعداب اوروں کی طرح انجم کوبھی فکرمعاش نے ستانا شروع کیا؛ چوں کہ ان کا پوراگھرانہ تجارت سے منسلک تھا، والدصاحب اپنے شہرکے اچھے تاجروں میں شمارہوتے تھے، تمام بھائی بھی تجارت سے جڑے ہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے بھی اسی راستہ کواختیار کرنے کاارادہ کیااوراس کے لئے ۱۹۰۷ء میں اپنے ایک دوست حافظ رفیق (جوبعد میں جامع مسجد گیا کے پیش امام ہوئے) کے ساتھ مل کر ’’رفیق انجم کمپنی‘‘ کے نام سے ایک ٹیلرنگ شاپ کھولی، ایک اوردوکان انھوں نے ’’انجم ہارڈویئر شاپ لوہا دوکان‘‘ کے نام سے قلب شہر میں کچہری روڈپرکھولی، انجم ہی کی طرح اس دوکان کی شہرت پورے صوبۂ بہار میں تھی (مانپوری: احوال وآثار، ص:۴،انجم مانپوری، از: ڈاکٹر سید احمد قادری، ص:۱۴)؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کے لئے پیدا ہی نہیں کیا تھا، قول بھی ہے: ’’کل میسرلماخلق لہ‘‘(جس کے لئے جسے پیداکیا جاتاہے، اس کے لئے وہ آسان کردیاجاتاہے)، لہٰذا اس کی طرف راغب نہ ہوسکے اوردوکان بند کردینی پڑی، پھر اس کے بعدوہ اپنے والد کے کام میں ہاتھ بٹانے لگے، بھائیوں کے ساتھ بھی شریک تجارت ہوئے ، بعدازاں فکرمعاش کے لئے کلکتہ کابھی سفر کیا ؛ لیکن…
جستجو کرنی ہراک امر میں نادانی ہے
جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے
(امام بخش ناسخؔ)
بالآخران تجارتی اورمعاشی تگ ودو کوچھوڑ چھاڑ کراس کام کی طرف قدم بڑھایا، جس کے لئے انھیں پیدا کیاگیاتھا، وہ اس وقت کے مشہور زمانہ اخبار ’’زمیندار‘‘ کے ایڈیٹر مولانا ظفرعلی خان کے پاس لاہورآگئے، جہاں انھیں ’’زمیندار‘‘ کاسب ایڈیٹربنایاگیا۔
مجموعی طور پراگران کی علمی زندگی کامطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان کے تین پہلونمایاں طورپر ملتے ہیں:(۱) صحافی کے روپ میں(۲) طنز ومزاح نگار کی صورت میں (۳) اور شاعرکی حیثیت سے، آیئے! ان تینوں پہلوؤں سے ان کوہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انجم: ایک صحافی کے روپ میں
انجم مانپوری قلم وقرطاس کے لئے پیداہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے اسی راستہ کواختیارکیا اورنمود وشہرت کے اس مقام پر پہنچے، جہاں آج بھی ان کانام علمی حلقوں میں نہ صرف جگمگارہا ہے؛ بل کہ اہل علم تحقیق وتنقید کا موضوع بنائے ہوئے ہیں، انھوں نے کب سے لکھنا شروع کیا؟ اس کا تذکرہ تو نہیں ملتا؛ لیکن اتنی بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی شغل خامہ فرسائی رہی ہوگی، اسی کے نتیجہ میں ان کے قلم میں روانی آتی گئی اور جب علمی افق پروہ نمودار ہوئے تو چھاتے چلے گئے، اس تعلق سے شاہد معین لکھتے ہیں:’’انجم صاحب کوادب وشعر سے بچپن ہی سے شوق تھا، آپ خواجہ عبدالرؤوف عشرتؔ لکھنوی سے اپنے کلام میں اصلاح لیاکرتے تھے‘‘(کلام انجم مانپوری، مضمون بہ عنوان: شخص وعکس، از: معین شاہد،ص: ۲۵)، اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ ذوق طالب علمی کے زمانہ سے ہی تھا، اسی ذوق کو فراغت کے بعد پروان چڑھایاگیا۔
انجم مانپوری کی صحافتی زندگی کاآغاز ۱۹۱۴ء سے ہوتا ہے، جب انھوں نے ایک نیم مذہبی رسالہ’’رہنما‘‘ نکالا؛ لیکن اس میدان کی ناتجربہ کاری اور مالی دشواریوں کی مارنے اسے زیادہ دن چلنے نہیں دیا، تاہم صحافت کی اس نا تجربہ کاری نے انھیں تجربہ کاری کادرس دیااورذہن ودماغ میں صحافتی دلچسپی کا ایسا نقش بٹھایا، جس نے بعد میں ’’ندیم‘‘ جیسا شہرہ آفاق ماہنامہ کے نکالنے میں خوب خوب مدد کی۔
’’رہنما‘‘ نے صحافت کی طرف ان کی رہنمائی کی؛ لیکن یہ سبق بھی دیتاگیاکہ ابھی بہت سیکھنا باقی ہے، اسی خلش کو لے کر اور کچھ کچھ معاشی پریشانیوں سے پریشان ہوکر ۱۹۱۸ء میں وہ لاہورجاپہنچے، جہاں ان کی ملاقات مولانا ظفر علی خان سے ہوئی، وہ اس وقت ’’زمیندار‘‘ نکالتے تھے اوراس کے ذریعہ سے ظرافت کے دریابہاتے اورطنز کے تیشہ برساتے تھے، ظفرعلی خان نے انجم مانپوری کی قدردانی کی، انھیں ’’زمیندار‘‘ کی سب ایڈیٹری سونپ دی، سب ایڈیٹری اور مولانا ظفر علی خان کی ہم نشینی سے انجم مانپوری کو نہ صرف صحافتی تجربات حاصل ہوئے؛ بل کہ طنز ومزاح کے فنی نکات کو سمجھنے میں بھی کافی مدد ملی، پھرتوان کے عزم وحوصلہ کوپرلگ گئے اورچند ہی مہینوں کے بعد لاہور سے واپس گیا آگئے۔
گیاآنے کے بعد سب سے پہلا کام انھوں نے اپنی معاشی حالت کودرست کرنے کاکیا، اس میں کئی سال لگ گئے اورجب وہ اپنی معاشی استحکام پرمطمئن ہوگئے توانھوں نے جون ۱۹۳۱ء میں گیا ہی سے ایک معیاری ماہنامہ’’ندیم‘‘ کا اجراء کیا اوراس شان سے کیا کہ لوگ آج بھی اسے یادکرتے ہیں، یہ ماہنامہ ۱۹۳۱ء سے لے کر۱۹۳۸ءتک انہی کی ادارت میں نکلتا رہا، پھرانھوں نے حالات کے تحت اس ذمہ داری سے سبک دوشی اختیارکرلی، جس کے بعدیہ ماہنامہ کبھی مولانا ریاست علی ندوی، کبھی حسن امام وارثی گیاوی اورکبھی مولانا محی الدین ندوی کی ادارت میں۱۹۵۰ء تک نکلتا رہا، اس تعلق سے قیوم خضر لکھتے ہیں:’’ندیم نے انجم مانپوری کے ادارتی عہد میں جو کارنامے انجام دئے، وہ ناقابل فراموش ہیں، اس ماہنامہ نے اپناایک الگ ادبی میدان بنایا، اپنی ایک الگ علمی فضا پیدا کی اوراردو دانوں کے درمیان علمی وادبی زندگی کی ایسی لہر دوڑادی، جس کے نتیجہ میں ایک اچھا خاصا ادباء وشعراء کا چرگہ تیارہوگیا… ۱۹۳۳ء اور ۱۹۳۶ء میں ندیم کا بہارنمبرنکال کر ایک نئی روایت قائم کی، ان دونمبروں نے بہار کی گزشتہ علمی وادبی عظمتوں کی بازیافت کی اورنئے ادباء وشعراء کی تخلیقات پیش کرکے ان کوادبی دنیا میں روشناس کرایا(ارتعاش قلم،ص:۱۳۷)، ندیم کے اس بہارنمبرپرتبصرہ کرتے ہوئے مولانا عبد الماجد دریابادی نے لکھا:’’دارالمصنفین سے ندیم کا بہار نمبر مل گیا، ماشاء اللہ خوب ہی نہیں،بہت خوب ہے، خصوصاً ادبی حیثیت سے، آپ یقین فرمایئے کہ مجھے بہار والوں کے ساتھ دلی محبت ہے، یہ بات پنجاب دکن ہی کے ساتھ نہیں، یہاں (تک)کہ اودھ کے باہر صوبہ آگرہ کے لئے بھی نہیں پایا، ندوہ والوں میں مجھے اعزازی ندوی بنالیا، جی چاہتا ہے یوں ہی اعزازی بہاری بن جاؤں‘‘(انجم مانپوری، از: سید احمد قادری، ص:۱۹)۔
۱۹۵۰ء میں گیا سے ایک رسالہ ’’کرن‘‘ جاری ہوا، انجم مانپوری اس کے نگراں تھے، اس رسالہ میں اکثران کے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے، اس رسالہ کا وفد اس کے نشرو اشاعت کی غرض سے دوسرے شہروں کا دورہ کیا کرتا تھا، انجم بھی اس وفد میں شریک ہوتے تھے، یہ بھی ان کی صحافتی زندگی کی ایک مثال ہے۔
خلاصہ یہ کہ: انجم مانپوری ایک کامیاب صحافی تھے، جس کی گواہی آج بھی ’’ندیم‘‘ کے خزاں دیدہ صفحات دے رہے ہیں؛ لیکن افسوس ! کہ جلدہی وہ اس ماہنامہ سے سبک دوش ہوگئے اوردنیا انجم مانپوری کی صحافتی جلوہ سامانیوں سے محرم ہوگئی۔
انجم مانپوری: طنز ومزاح نگارکی صورت میں
طنز ومزاح نگاری اردو ادب کا وہ دلکش باب ہے، جس نے نہ صرف قاری کوہنسنے ہنسانے کا سامان فراہم کیا ہے؛ بل کہ اس کے فکر وشعور کوبھی جھنجھوڑا، طنز اپنی کاٹ اور گہرائی سے قاری کے دل میں چبھن پیدا کرتا ہے؛ مگر یہی چبھن اصلاح کا پہلا قدم بنتی ہے، جب کہ مزاح کی شوخی اور دل آویزی اس چبھن کومسکراہٹ میں ڈھال دیتی ہے، طنز ومزاح نگاری دراصل وہ فن ہے، جوبظاہر معمولی اورہلکی پھلکی باتوں میں سماج کے بڑے مسائل، انسانی کمزوریوں اور تہذیبی تضادات کوآشکار کرتا ہے، یہ محض ہنسنے ہنسانے کی صنعت نہیں؛ بل کہ ایک فکری اورادبی خدمت ہے، جوتفریح کے پردہ میں شعور کی بیداری اورمعاشرت کی درستی کا سامان فراہم کرتی ہے۔
انجم مانپوری میں طنز ومزاح کی ایک ایسی دلکش جہت ملتی ہے، جوقاری کو ہنسنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی آمادہ کرتی ہے، ان کی تحاریرمیں صرف تفریحی پہلو نہیں ہوتا؛ بل کہ معاشرتی برائیوں، انسانی کمزوریوں اور روزمرہ زندگی کے تضادات کو بڑی شگفتگی سے آشکار کرتا ہے، ان کے ہاں مزاح کی شوخی اور طنز کی کاٹ ایک ساتھ مل کر ایسارنگ پیدا کرتی ہے، جس کی وجہ سے قاری کے لبوں پر مسکراہٹ بھی رینگنے لگتی ہے اوردل ودماغ پر فکرکی لکیریں بھی کھنچ جاتی ہیں، یہی انجم مانپوری کی فنکارانہ عظمت ہے کہ وہ ہنسی کے دامن میں اصلاح کی دولت چھپا دیتے ہیں اور معمولی باتوں کوادبی وقار عطا کرتے ہیں۔
انجم مانپوری کامقام طنز ومزاح نگاری میں کافی بلند ہے، سلطان آزادلکھتے ہیں:’’اردو طنز وظرافت میں حضرت انجم مانپوری کامقام کافی بلند ہے، آپ نے اردو طنز وظرافت میں بہ یک وقت شاعری اورنثرنگاری دونوں اصناف کے ساتھ پورا پورا انصاف کیااور دونوں میں مقبولیت بھی پائی…حضرت مانپوری کے مزاحیہ مضامین میں ’’میراروزہ‘‘، ’’پنک آشرم‘‘، ’’سیکنڈ ہینڈ موٹر‘‘، ’’ہاتھی‘‘،’’کرایہ کی ٹم ٹم‘‘اور’’میرکلوکی گواہی‘‘ ان کے بہترین طنزیہ ومزاحیہ مضامین ہیں، خاص طور سے ’’میرکلوکی گواہی‘‘ ظرافت کے فن وادب کی کسوٹی پر پورا اترنے کے علاوہ اعلیٰ کلاسیکی مزاحیہ ادب کی شاندار میراث ہے، جسے کبھی بھی نہیں بھلایاجاسکتا‘‘(بہار میں اردو طنز وظرافت، از: سلطان آزاد، ص:۸۴-۸۵)، قیوم خضر نے بھی اس بات کا اعترا ف کیا ہے کہ انجم مانپوری میں طنز ومزاح کی جوحس اور رنگ پایاجاتا ہے، وہ ان کی شاعری سے کہیں زیادہ ان کے نثرمیں موجود ہے، وہ لکھتے ہیں: ’’ان کے رنگ کا چوکھا پن شاعری سے زیادہ نثرہی میں ابھرتا ہے‘‘ (ارتعاش قلم، ص:۱۴۴)۔
مانپوری کی تحریرکے اندرکئی خصوصیات ہیں، ان کا ذکرکرتے ہوئے شبیرعالم لکھتے ہیں:’’مانپوری نے الفاظ ومحاورات کا استعمال برمحل وبرجستہ کیا ہے؛ لیکن کہیں کہیں پر ٹھیٹھ مقامی یعنی اودھی محاورات کااستعمال کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فکر وفن کے سلسلہ میں ان کازاویۂ نظر عوامی زیادہ تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں پیچیدہ تراکیب نہیں ملتی ہیں، بھاری بھرکم الفاظ کم سے کم استعمال کرتے ہیں، ان کے اسلوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جاہل سے عالمانہ گفتگو کرنے کے قائل نہیں؛ مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی خیال رکھتے ہیں کہ عالم سے جاہلانہ گفتگو نہ ہو‘‘ (انجم مانپوری: بحیثیت طنز ومزاح نگار، ص:۱۲۱)۔
مانپوری کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں جا بہ جا علاقائی زبان کا استعمال اس خوبی سے کرتے ہیں کہ تحریرکالطف دوبالا ہوجاتا ہے؛ اس لیکن اُس کے لئے، جو اس علاقہ کی زبان سے واقفیت رکھتا ہو، ناواقفوں کے لئے تو ’’تعقید ِ لفظی‘‘ سے معنون ہے، قیوم خضر ان کی اس خوبی کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مانپوری نے اپنے انشائیوں میں خاص طور پر مقامی مگھی الفاظ کا استعمال جس دھڑلے اور حسن وخوبی کے ساتھ کیا ہے، اس سے ان کی ذہانت وفطانت کے ساتھ ساتھ مقامی بولی سے دلی لگاؤ کا پتہ چلتا ہے اور اس کی بھی واقفیت ہوتی ہے کہ ان کی نظر جزئیات وتفصیلات پر کافی گہری ہے، نیز چھوٹی چھوٹی بات بھی ان کی ذہنی گرفت سے باہر نہیں‘‘(ارتعاش قلم، ص:۱۳۸)۔
انجم مانپوری بلاشبہ ایک بڑے طنز ومزاح نگارتھے اور مزاح نگاری کے آسمانِ افق پر چمکنے کے باوجود انھیں وہ حیثیت نہیں مل پائی، جوملنی تھی، اس رویہ پر کئی بڑوں نے آنسوبہایاہے؛ چنانچہ پروفیسرعبدالمغنی لکھتے ہیں: ’’اس میں شبہ نہیں کہ نثر کے مزاحیہ ادب میں مانپوری کا اثاثہ شوکت تھانوی، عظیم بیگ چغتائی اورکنہیالال کپور وغیرہ سے کم نہیں ہے؛ مگر مانپوری کے کارناموں کی مجموعی طورپر وہ شہرت نہیں ہوئی، جوان کے ہم صف دوسرے ادیبوں کوحاصل ہوئی‘‘ (کلام انجم مانپوری، ص:۷)، سیدشہاب الدین دسنوی لکھتے ہیں: ’’…یہ سب ہوتے ہوئے بھی انجم مان پور کے تھے اورمان پور بہار میں تھا، رسالہ ’’ندیم‘‘ گیا سے شائع ہوتا تھا اورگیا صوبہ بہار کا شہر تھا؛ اس لئے اردودنیا نے، جو اس وقت غیرمنقسم ہندوستان پر مشتمل تھی، اِس بہاری طنز نگار کاکچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح شوکت تھانوی اگرکچھ اورنہ بھی لکھتے تو ان کا مضمون’’سودیشی ریل‘‘ ہی انھیں اردوکے طنزیہ ادب میں جگہ دلانے کے لئے کافی تھا، ٹھیک اسی طرح انجم مانپوری کا مضمون’’میرکلوکی گواہی‘‘ہی انھیں اردوکے طنزنگاروں کی صف میں لا کھڑا کردینے کے لئے کافی ہے‘‘(کلام انجم مانپوری، ص:۴-۵)، افصح ظفر لکھتے ہیں:’’ہوسکتا ہے کہ مانپوری خط مشرق میں رہنے کی وجہ سے ایسے وقت میں(جہاں مرزافرحت اللہ بیگ، خواجہ حسن نظامی، عظیم بیگ چغتائی، شوکت تھانوی، رشید احمدصدیقی، پطرس بخاری وغیرہ نے ظرافت نگاری میں شہرت حاصل کرلی تھی) نظر انداز کردیئے گئے، پھر بھی مانپوری کے اتنے بھرے پُرے کارنامے کو نظرسے اوجھل کردینا ایک ستم ظریفی سے کم نہیں، نظرانداز کردینے کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ صنفی لحاظ سے مانپوری کی نثری تحریروں میں کوئی واضح نقش نہیں ابھرتا‘‘(نقدِ جستجو، ص:۱۵۳)، راقم کے نزدیک اس کی معقول وجہ ان کا’’مولوی‘‘ ہونا بھی ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ ادب سے مولوی کے تعلق کواس طرح باورکیا جاتا ہے، جیسے آگ اورپانی، ہوسکتا ہے کہ اسی ’’عدم اجتماعیت‘‘ کی وجہ سے بھی اس کی طرف کم توجہ دی گئی ہو۔
ان سب کے باوجود بقول سیدمحمدحسنین: ’’مانپوری کے انشایئے اردو کے چند معیاری انشائیوں پرپورے اترتے ہیں، ان میں نفیس مزاج اور ہلکے طنز کا امتزاج ہوتا ہے‘‘(بہارکے نو چراغ،ص:۴۲)، صرف یہی نہیں کہ انجم کے انشایئے معیاری تھے؛ بل کہ چشم حقیقت سے اگرنگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بھی مل جائے گی کہ ان کی تحریروں میں جوکچھ بھی ہے، وہ سب ان کا اپنا ہے، اپنے سماج سے جڑا ہوا ہے، اپنی زمین سے تعلق رکھنے والا ہے، کسی کا چربہ نہیں، افصح ظفر رقم طراز ہیں: ’’اردو میں یوں توطنز یہ اورمزاحیہ کردار کئی ایک ایسے ہیں، جنھوں نے خوب نام کمایاہے؛ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کرداراکثروبیشتر مانگے کااجالا ہیں، جیسے: سرشار کا خوجی ؔ اورآزادؔ، منشی سجادحسین کا حاجی بغلولؔ، ایم اسلم کا مرزاجیؔ، امتیازعلی تاج کا چچا چھکنؔ، شوکت تھانوی کا قاضی جیؔ اور عظیم بیگ چغتائی کا مرزاجنگیؔ، یہ سارے کردار ناپ تول کر تراشے گئے ہیں، ان کرداروں کے نشوونما میں ان کے خالقوں نے گرچہ پورا پورا حق اداکرنے کی کوشش کی ہے؛ لیکن اِن کرداروں کودیکھ کر اور سمجھ کریہ کھٹک ضرور ہوتی ہے کہ یہ کردار کسی نہ کسی طرح ماضی کے یوروپی ادب کے مختلف کرداروں سے متاثر ہوکر تخلیق کئے گئے ہیں، اردو کے مزاحیہ ادب میں صرف انجم مانپوری کوہی یہ فخر حاصل ہے کہ ان کے پا س ’’میرکلو‘‘ کی شکل میں ایک ایسا کردار ہے، جس کی تخلیق سرتاسر ہندوستان کی آب وہوا میں ہوئی ہے… مانپوری کا یہ کردار اپنے مخصوص سانچے میں ڈھل کراس طرح ہمارے سامنے آتا ہے کہ یہ تمام صورت حال میں ایک ایسی علامت کے طور پر ابھرتا ہے کہ ہم اس پرفدا ہوجاتے ہیں، مانپوری کو زندہ رکھنے کے لئے میرکلو کا کردار کافی ہے‘‘(نقدجستجو، ص:۱۶۱-۱۶۴)، اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’’میرکلو کی گواہی‘‘ کا ایک نمونہ پیش کردیاجائے:
وکیل: میرکلو صاحب! آپ کبھی جیل کی بھی سیرکرآئے ہیں؟
میرصاحب: آج کل کون ملک کا خادم ایساہے، جوجیل سے نہ ہوآیا ہو۔
وکیل صاحب: آپ کوملک کی کس خدمت کے صلہ میں یہ فخر حاصل کرنے کا موقع ملا؟
میرصاحب: وہی قانون شکنی۔
وکیل صاحب: کس قانون کے توڑنے کی خدمت آپ نے اپنے ذمہ لی تھی؟
میرصاحب: گاندھی جی نے نمک کے قانون توڑنے کابیڑا اٹھا یا تھا اوربعض لیڈروں نے جنگلات کے قانون کی خلاف ورزی کواپنے ذمہ لیا ، میرے خیال میں سب سے زیادہ ضرورت قانون شہادت کی اصلاح کی ہے، اسی لئے قانون شکنی کے لئے میں نے اس کومنتخب کیا۔
وکیل صاحب(حاکم کومخاطب کرکے): حضوریہ دروغ حلفی کے جرم میں سزا پاچکے ہیں؛ مگر اپنی زبان سے صاف اقرارکرنا نہیں چاہتے۔
حاکم: توآپ اس فیصلہ کی نقل داخل کرسکتے ہیں، دوسرا سوال کیجئے۔
وکیل: کیوں میرصاحب! احسان علی مرحوم کو آپ جانتے تھے؟
میرصاحب: اے حضور! جاننے کی ایک کہی، خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے، ہم دونوں ایک جان دو قالب تھے، نہ مجھے ان کے بغیرآرام، نہ ان کومیرے دیکھے بغیرچین۔
وکیل: ان کی عمر کیا تھی؟
میرصاحب: یہی تیس اور ساٹھ کے درمیان ہی تھی۔
وکیل: یہ تیس اورساٹھ کے درمیان کہنے سے کام نہیں چلے گا، صاف کہئے وہ بوڑھے تھے یاجوان؟
میرصاحب: عمرکے لحاظ سے توبہت زیادہ بوڑھے نہیں تھے؛ مگر اکثربیمار رہنے کی وجہ سے بوڑھے معلوم ہوتے تھے۔
وکیل: بال سفید تھے یا سیاہ؟
میرصاحب: نزلہ کی وجہ سے بال سفید ہوگئے تھے؛ لیکن جب خضاب لگاتے تھے تو جوان معلوم ہوتے تھے۔
وکیل: رنگ گوراتھا یا کالا؟
میرصاحب: نہایت ہی گورے چٹے آدمی تھے؛ لیکن وہی بیماری کی وجہ سے رنگ کچھ سانولاسا ہوگیا تھا۔
وکیل: لانبے تھے یاناٹنے؟
میرصاحب: قد تولانباتھا؛ لیکن کمرجھک جانے کی وجہ سے ناٹے معلوم ہوتے تھے۔
جی توچاہتا ہے کہ ’’میرکلو کی گواہی‘‘ پوری نقل کردی جائے؛ لیکن خوف طوالت اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دیتا؛ تاہم اس نمونہ سے معلوم ہوگیا ہوگاکہ مانپوری نے کس خوبی سے ظرافت کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے اس مزاج پر طنز کیا ہے، جو رائج ہے اور جس پر فخرکیا جاتا ہے، یہی مانپوری کی تحریرکاکمال ہے، ان کی ظریفانہ تحریریں اگردیکھنی ہوں تو ’’طنزیات مانپوری‘‘(حصہ اول)، ’’طنزیات مانپوری(حصہ دوم)، ’’مطائبات مانپوری‘‘ اور’’مرنے کے بعد‘‘ کا زندگی ہی میں مطالعہ کرکے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔
انجم مانپوری: ایک شاعرکی حیثیت سے
شاعری انسانی جذبات اورخیالات کالطیف ترین اظہار ہے، جولفظوں کے قالب میں ڈھل کر دلوں کی گہرائیوں کوچھوتی ہے اور روح کی تاریک کیفیات کو منورکرتی ہے، کبھی یہ غم کے نغمہ سناتی ہے توکبھی مسرت کے ساز چھیڑتی ہے، کبھی فکر کی بلندیوں پرلے جاتی ہے توکبھی حسنِ کائنات کی باریکیوں میں محوکرتی ہے۔
اسی شاعری کی ایک دلچسپ شاخ مزاحیہ شاعری بھی ہے، جوسنجیدہ زندگی کے بوجھ کوہلکاکرکے قاری وسامع کے چہروں پرتبسم بکھیرتی دیتی ہے، اس میں طنزبھی ہوتا ہے؛ مگر چبھتا نہیں، مذاق بھی ہوتا ہے؛ مگردل آزار نہیں؛ بل کہ یہ اصلاح وتفریح دونوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے، جوانسانی طبیعت کو تازگی عطا کرتی ہے اور قہقہوں کے رنگوں سے ادب کی محفل کوروشن بنادیتی ہے؛ البتہ چوں کہ فُکاہیہ اور طنزیہ شاعری ’’عمل‘‘ کافی الفور’’ردعمل ‘‘ ہوتی ہے؛ اس لئے ضروری نہیں کہ اس میں فکرکی گہرائی بھی پائی جائے، سیدشہاب الدین دسنوی لکھتے ہیں: ’’چوں کہ طنزیہ کلام عموماً کسی فوری جذبے کاردعمل ہوتا ہے؛ اس لئے اس میں فکر کی گہرائی یافلسفے کی تلاش بے سود ہے، وقت کے ساقدریں بدل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ کلام کاوزن بھی، پھربھی کلاسیکی تلمیحات اور رعائتِ لفظی سے لے کر طنزیہ اورمزاحیہ شعر کے ذریعہ ایسی بات کہی جاسکتی ہے، جوسوچنے پر مجبور کرے‘‘(کلام انجم مانپوری، ص:۵)۔
انجم مانپوری بھی ایک شاعر تھے؛ لیکن بنیادی طور پروہ ایک مزاحیہ شاعر تھے اورجس طرح وہ نثری تخلیق میں طنزوتعریض کے تیربرساتے اورمزاح کے قوس وقزح بکھیرتے تھے، شاعری میں بھی وہ اِس رنگ ڈھنگ اور روش واطوار کو اپناتے تھے، پروفیسر عبدالمغنی ان کے شاعری کے تعلق سے تجزیہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’سب سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہجویاتِ انجم میں طنز، مزاح اور ظرافت سبھی عناصر موجود ہیں؛ لیکن ان میں غالب عنصر مزاح کا ہے اورگاہے گاہے ظرافت کے آثار بھی پائے جاتے ہیں اورطنز خال خال ہے، مزاح کے عنصر(Humour)کی ترکیب انجم کے کلام میں کیفیات اور الفاظ دونوں سے ہوتی ہے، وہ چن چن کر ایسے واقعات کولیتے ہیں، جن میں بھونڈاپن پایاجاتاہے، پھرموزوں الفاظ وتراکیب سے وہ اس بھونڈے پن کوبہت تیکھا بناکر پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں پڑھنے والے کے منھ سے ہنسی کافوارہ چھوٹنے لگتا ہے، اس مزاح میں کبھی کبھی طنز (Irony) اور ظرافت (Wit) کی چاشنی بھی ہوتی ہے، جس سے مزاح کا لطف دوبالاہوجاتا ہے اورمعانی کی نئی تہیں بھی پیدا ہوجاتی ہیں‘‘(کلام انجم مانپوری، ص:۸)۔
بہار کے مشہورشاعرعلامہ جمیل مظہری ان کی شاعری کے تعلق سے لکھتے ہیں: ’’بہرحال! اپٹوڈیٹ شاعری میں انھوں نے خاص اپنی شاعری کے جو نمونے پیش کئے ہیں، وہ ڈنکے کی چوٹ پر پکارپکار کرکہہ رہے ہیں کہ مانپوری نے اگر نثر کے ساتھ نظم کوبھی اپنی شاعری کا آلہ بنایاہوتا تواکبرالہ آبادی کی خلافت کا مسئلہ بغیرکسی نزاع کے ان کے ہاتھ پرطے ہوجاتا‘‘(انجم مانپوری، از: سیداحمدقادری، ص:۷۶)، یہ گویا ایک بڑے شاعرکی طرف سے ایک سند ہے کہ وہ ایک مزاحیہ اورظریفانہ شاعری کی بھرپورصلاحیت رکھتے تھے؛ تاہم انھوں نے سنجیدہ شاعری بھی کی ہے؛ لیکن بقول قیوم خضر: ’’مانپوری کی سنجیدہ شاعری کے مقابلہ میں ان کی مزاحیہ شاعری کارنگ زیادہ چوکھا ہے‘‘؛ بل کہ حقیقت کی نگاہ سے اگردیکھا جائے توان کااصل رنگ وروپ توان کے نثرہی میں نظر آتا ہے، صحیح لکھا ہے قیوم خضر نے کہ: ’’یوں توان کے رنگ کا چوکھا پن شاعری سے زیادہ نثرہی میں ابھرتا ہے‘‘ (ارتعاش قلم، ص:۱۴۴)، آیئے! ایک آدھ نمونہ ان کی شاعری کا دیکھتے چلیں:
بجائے علم وہنر سیکھئے ایٹی کیٹ فقط
میں بن کے نکلا ہوں کالج سے اپٹوڈیٹ فقط
عدو کو گالوں کا بوسہ، مجھے فقط لب کا
کسی کو کیک، کسی کو یہ چاکلیٹ فقط
سزائے جیل ملی جس کو، وہ منسٹر ہے
سزا دی جس نے، وہ رہا مجسٹریٹ فقط
میں کورٹ شپ کی پروپشنری کی مدت میں
تھا ساتھ ان کے؛ مگر ایز اے کنڈیڈیٹ فقط
ہے مفلسی میں بھی بازار حسن کا پھیرا
میں پوچھ آتا ہوں ہرشب کو جاکے ریٹ فقط
………
رنگ روپ اپنا بدلتے رہئے پالی ٹیکس میں
لیڈری کرنا ہو گر بہروپیا ہوجایئے
پیچھے رہئے سب سے قربانی کا موقع آئے جب
جب بٹیں عہدے، اچک کر پیشوا ہوجایئے
جب گناہوں کی سکت ہی کچھ نہ پیری میں رہی
بہتر اب ہے مانپوریؔ پارسا ہوجایئے
فاقہ زدوں سے صبر وقناعت کی بات ہے
حکمت کی نہیں یہ صرف حکومت کی بات ہے
عشق مجاز وعشق حقیقی میں فرق ہے
منبر کی ہے یہ بات ، وہ خلوت کی بات ہے
بے عزتی ہولاکھ الیکشن میں فرق کیا
آخریہ ممبری بھی توعزت کی بات ہے
پھر بزم میں پہنچنا، نکلوانے بعد بھی
غیرت کاذکرچھوڑیئے، ہمت کی بات ہے
اک کوطلاق ، دوسرے سے عقد ہربرس
واعظ سے کون بولے، شریعت کی بات ہے
……
لیں چَرَن شُدر کے، برہمن بھی
ہائے کیا چیز ہے الیکشن بھی
میل بھی کانگریس سے ،اَن بن بھی
ہیں غنیمت جناب ٹنڈن بھی
مُردے ووٹر بھی ہوگئے زندہ
حشرسے کم نہیں الیکشن بھی
دام غلے کا دے کے دھکے کھائیں
قیمتی بھیک ہے یہ راشن بھی
نہ ملا دین ہی، نہ دنیا ہی
حج کیا، دیکھ آئے لندن بھی
دونوں بیگار میں ہیںاس بت کے
میربُدّھو بھی، شیخ جُمّن بھی
……
اندھیر مچ رہا ہے اب برق مغربی سے
تاریک ایشیا ہے یورپ کی روشنی سے
بدخُلق مولوی سے، خوش طبع پادری سے
ویرانہ مسجدیں ہیں، آباد ہیں کلیسے
یہ صرف ڈانٹتے ہیں، دے دیتا ہے وہ دھکے
صاحب سے بڑھ کے ڈرہے، صاحب کے اردلی سے
تُک بندیوں میں باتیں کہہ جاتے ہیں یہ تہ کی
کیا ورنہ مانپوریؔ کو شوق شاعری سے
’’نمونہ ازمشتے خروارے‘‘ کے طور پر یہ کافی ہے، ورنہ اس طرح کے مزاح، طنز، تعریض؛ بل کہ شگوفے اور پھلچڑیاں چنتے چنتے پوری ایک کتاب ہوجائے گی، مزیدکے لئے ’’کلام انجم مانپوری‘‘، مرتب: معین شاہد(ایڈیٹر’’آدرش‘‘ گیا) کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
بہرحال! صحافت کی دنیا کاچمکتا یہ ستارہ، طنز ومزاح نگار کے روپ میں قارئین کو ہنسانے اورغور وفکر کے پہلو دینے اور اپنی شاعرانہ کمال اورالفاظ ومعانی سے ہم آہنگ پرلطف مفہوم پیدا کرنے والا یہ بندہ اپنے وقت موعود : ۲۷/ اگست ۱۹۵۸ء بوقت پانچ بجے شام اِس دارفانی سے کوچ کرکے اس داربقاء کی طرف رخصت ہوگیا، جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا اور اپنے پیچھے جہاں سوگواروں کی ایک بڑی تعداد کوچھوڑ کرگئے، وہیں ایسے نقوش ثبت کرگئے، جوقیامِ قیامت تک یادرکھے جائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں