ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: علم و ملت کا امین

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: علم و ملت کا امین

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: علم و ملت کا امین

محمد جمیل اخترجلیلی ندوی


زمانہ کبھی کبھار ایسے چراغ بجھا دیتا ہے، جن کی لو اگرچہ خاموش ہوتی ہے؛مگر روشنی دور تک پھیلتی ہے؛ ایسے قافلہ سالار اٹھ جاتے ہیں، جو ہجوم کے شور میں نہیں، فکر کی گہرائی میں پہچانے جاتے ہیں،ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ بھی انہی نادر روزگار ہستیوں میں سے تھے، جن کی زندگی گفتار کی نہیں، کردار کی گواہ تھی، جن کا قلم نمود کا اسیر نہ تھا اور جن کی فکر وقتی ہنگاموں سے بلند ہو کر ملت کے دیرپا مسائل سے ہم کلام رہتی تھی۔

وہ علم کو زینتِ محفل نہیں، زادِ سفر سمجھتے تھے، تحقیق کو تفننِ طبع نہیں، فریضۂ ملت جانتے تھےاور اختلاف کو تصادم نہیں، مکالمے کا عنوان بناتے تھے، ان کی نگاہ حال کی دھند میں مستقبل کی راہوں کو تلاش کرتی اور ان کا شعور تاریخ کے آئینے میں قوموں کے عروج و زوال کا محاسبہ کرتا تھا، اسی لیے ان کی زندگی فرد کی داستان نہیں، ایک فکری روایت کی تمثیل ہے،ایک ایسے عہد کی ترجمانی ہے، جس میں شور بہت تھا؛مگر بصیرت کم یاب تھی۔

ڈاکٹر منظور عالمؒ کے انتقال سے محض ایک جسم خاک کے سپرد نہیں ہوا؛ بل کہ تدبر، توازن اور تحقیق پر مبنی ایک فکری دبستان نے آہستہ سے آنکھ موند لی، یہ سطور نہ محض تعزیت کا بیان ہیں اور نہ رسمی خراجِ عقیدت؛بل کہ اس شعور کا اعتراف ہیں کہ کچھ لوگ مرتے نہیں، صرف تاریخ کے دامن میں منتقل ہو جاتے ہیںاور وہاں سے آنے والی نسلوں کی سمت متعین کرتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ 9/ اکتوبر 1945ء کو پیدا ہوئے، آپ کے والدِ محترم محمد عبدالجلیل تھے، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی، آپ کا تخصص فیوچر اسٹڈیز، اسٹریٹجک پلاننگ اور اسلامی معاشیات جیسے نہایت اہم اور عصری موضوعات میں تھا، جس نے آپ کو محض ایک محقق نہیں؛ بل کہ ایک دور اندیش مفکر کے مقام پر فائز کیا۔

ڈاکٹر منظور عالمؒ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے علم کو محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بنایا؛بل کہ اسے اجتماعی شعور اور سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا، اسی وژن کا عملی اظہار 1986ء میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS) کے قیام کی صورت میں ہو،یہ ادارہ ہندوستان کا پہلا مسلم تھنک ٹینک ثابت ہوا، جہاں جذبات کے بجائے دلیل، شور کے بجائے شعور اور وقتی ردِعمل کے بجائے طویل المدت فکری حکمتِ عملی کو فروغ دیا گیا، چار دہائیوں کے دوران IOS نے بارہ سو سے زائد علمی نشستیں، سینکڑوں تحقیقی منصوبے اور سیکڑوں معیاری مطبوعات پیش کیں، جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورتِ حال کو دستاویزی بنیادوں پر اجاگر کیا۔

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری رہے اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے قریبی رفیق و معاون کی حیثیت سے ملت کے اجتماعی مسائل پر نہایت سنجیدگی، وقار اور آئینی شعور کے ساتھ کام کیا، وہ تصادم کے بجائے مکالمے، احتجاج کے بجائے حکمت اور مایوسی کے بجائے امید کے قائل تھے، ان کا طرزِ فکر یہ پیغام دیتا تھا کہ مشکل ترین حالات میں بھی اصول، توازن اور شرافت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ڈاکٹر منظور عالمؒ کی شخصیت محض قومی دائرے تک محدود نہ تھی۔ ان کے روابط عالمی سطح پر مسلم دنیا کے نامور مفکرین، اداروں اور قائدین تک پھیلے ہوئے تھے، وہ اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے رکن، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے چیئرمین، آرگنائزیشن آف مسلم سوشیالوجسٹس اِن انڈیا کے صدر، تعاون ٹرسٹ کے صدر اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کے بھارت میں نمائندہ رہے، اسی طرح IIIT (امریکہ) اور IICO کویت جیسے عالمی اداروں کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے، ان کے تعلقات ملکی و بین الاقوامی سطح پر وزرائے اعظم، وزراء، گورنروں اور ممتاز علمی شخصیات تک محیط تھے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کی علمی و فکری خدمات کے ساتھ ساتھ ان کا اہلِ علم سے ذاتی رابطہ اور حوصلہ افزائی کا جذبہ بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، راقم کے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ ایک مرتبہ ان کی ہمارے جامعہ ضیاء العلوم، کنڈلور میں تشریف آوری ہوئی، جس موقع پر بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اس ملاقات کے دوران راقم نے اپنی بعض تصنیفات بطورِ ہدیہ پیش کیں، جنہیں انہوں نے نہایت شفقت اور قدر دانی کے ساتھ قبول فرمایا، بعد ازاں ان کے زیرِ نگرانی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کی جانب سے راقم کی کتاب ’’حضرت عائشہؓ اور نکاح کے وقت ان کی عمر: ایک تحقیقی جائزہ‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی، جو ان کی علمی حوصلہ افزائی، اہلِ قلم کی سرپرستی اور تحقیقی ذوق کا روشن ثبوت ہے، یہ اقدام نہ صرف راقم کے لیے باعثِ افتخار ہے؛بل کہ ڈاکٹر موصوف کی علم دوستی اور فکری وسعت کا بھی عکاس ہے۔

ڈاکٹر منظور عالمؒ کی سب سے نمایاں پہچان ان کی غیر جذباتی؛ مگر جرات مند فکری بصیرت تھی، وہ نہ وقتی مقبولیت کے اسیر تھے اور نہ کسی دباؤ کے تحت اپنی رائے بدلنے والے، ان کی تحریریں اور تقاریر آج بھی یہ سبق دیتی ہیں کہ قومیں نعروں سے نہیں؛ بلکہ علم، کردار اور مستقل مزاجی سے بنتی ہیں، وہ بلاشبہ ’’فرد میں انجمن‘‘تھے اوردلِ دردمند اور فکرِ ارجمند کے امین بھی۔

آج(۱۳/جنوری ۲۰۲۶ء) ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ کا انتقال ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے ایک عظیم علمی و فکری خسارہ ہے، یہ کسی ایک فرد یا ادارے کا نقصان نہیں؛بل کہ ایک ایسی فکری قیادت کا خلا ہے، جسے پُر کرنا آسان نہیں، تاہم ان کی اصل میراث ان کے قائم کردہ ادارے، ان کا چھوڑا ہوا فکری سرمایہ اور وہ علمی روایت ہے، جو آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ملت کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی