ناسکؔ وہ اپنی ذات میں منزل سے کم نہ تھا (آہ! مفتی شمس الدین رشادی رحمۃ اللہ علیہ)

آہ! مفتی شمس الدین رشادی رحمۃ اللہ علیہ

ناسکؔ وہ اپنی ذات میں منزل سے کم نہ تھا
آہ! مفتی شمس الدین رشادی رحمۃ اللہ علیہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی


اِس عالم آب وگل میں جس نے بھی آنکھیں، اسے الٰہی قاعدہ کے مطابق اسی دنیا میں آنکھیں موندنی بھی ہے؛ البتہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے ایک وقت اپنے علم میں مقررکررکھا ہے، جب وہ وقت آجاتا ہے توپھردنیاکی کوئی طاقت اسے جانے سے نہیں روک سکتی،انبیاء آئے اوراس دنیا میں اپنے فرض منصبی کو اداکرنے کے بعدرخصت ہوگئے، علماء، صلحاء اوراتقیاء آئے، سبھوں نے اپنے اپنے حصہ کا کام کیا اور وقت موعود پرچلے گئے، خلیفہ و بادشاہ آئے، جابروقاہرآئے، فرعون وہامان آئے، داراوسکندرآئے، رستم وشیرواں آئے، حاتم وقارون آئے، ہلاکووچنگیز آئے، کسی نے خلافت ارضی کا حق ادا کیا، کسی نے شان خسروی دکھائی، کسی نے ظلم وجبرکی ایسی داستان رقم کی کہ آج بھی دنیااس کے ظلم پرآنسوبہاتی ہے، کسی نے اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ دنیا آج بھی بہادری میں اس کا نام بطور مثال پیش کرتی ہے اورکسی نے جود وسخا میں ایسی تاریخ لکھی کہ دنیا آج بھی سخاوت میں اس کا نام لیتی ہے؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی آج زندہ نہیںہے، سب اپنے مابعدوالوں کے لئے داستانِ عبرت بن چکے ہیں، جب ان کے جانے کاوقت آیا تونہ سلطنت کام آئی، نہ حکومت، نہ بہادری، نہ سخاوت، بس ایک جھٹکے میں سانس بنداور یہ دنیاکے لئے میت ومردار: ولکل أمة أجل، فإذا جاء أجلهم، لایستأخرون ساعة و لایستقدمون(الأعراف:۳۴)’’ہرگروہ کے لئے ایک وقت مقررہے، جب وہ وقت آئے گا تووہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوپائیں گے اور نہ آگے‘‘۔

لیکن کچھ جانے والے اپنے پیچھے ایسے نقوش چھوڑجاتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے ’’زندۂ جاوید‘‘ ہوجاتے ہیں، حدیث میں بھی ہے کہ انسان کی موت کے بعدتین چیزیں اس کی باقی رہ جاتی ہیں: (۱) صدقۂ جاریہ (۲)نفع بخش علم(۳) اوروالدین کے لئے دعاء کرنے والی نیک اولاد، مولانا و مفتی شمس الدین رشادی ؒصاحب بھی ان لوگوں میں سے ہیں، جنھوں نے اپنے پیچھے یہ چیزیں چھوڑرکھی ہیں، صدقۂ جاریہ کے طورپر بنگلورمیں ’’جامعہ دارالبلاغ‘‘ اور’’گریشیس پبلک اسکول‘‘نامی ادارے، نفع بخش علم کے طورپر سیکڑوں شاگرد اور یقیناً اولاد بھی صالح ہی ہوں گی، جوان کے حق میں دعاکرتی رہے گی۔

مولاناکی پیدائش ۱۹۵۹ء میں بلیاپور، دھنباد(جھارکھنڈ) میں ایک غریب گھرانے میں ہوئی، بچپن محلہ کی گلیوں میں کھیلتے ہوئے گزررہی تھی کہ اس وقت کے مرد صالح اور بلیاپورکے متقی وبزرگ امام جناب حکیم نسیم صاحبؒ (جواصلاً مونگیرکے رہنے والے تھے اوریہاں آکرنہ صرف امامت کے فرائض انجام دیتے تھے؛ بل کہ شرک وبدعات اوررسم وخرافات دورکرنے کی کوشش کرتے تھے اوربچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے بھی فکرمندرہتے تھے)کے مشورہ سے ضلع دھنباد کے معروف ادارہ ’’مدرسہ اصلاح المسلمین‘‘، سرکارڈیہہ میں بغرض تعلیم داخل کرایا گیا، جہاں سے انھوں نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی، بعدازاں حکیم صاحب ہی کے مشورہ سے ’’جامعہ رحمانی‘‘ مونگیرگئے اورابتدائی دینی تعلیم(غالباً چہارم عربی تک) حاصل کی، اس وقت وہاں حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب نورہ اللہ مرقدہ بنفس نفیس تشریف رکھتے تھے، ظاہرہے کہ حضرت مولاناکی نگاہ کیمیااثر نے مولاناشمس الدین صاحبؒ کی تعلیم وتربیت میں کافی کچھ اثرڈالا ہوگا، مفتی شمس الدین صاحب کا خودبیان ہے (جومجھے میرے سسرجناب مولانا شمیم احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے بتایا)کہ میرے پاس قمیص ہوا کرتی تھی، جسے میں پہنا کرتا تھا، ایک دن حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ صاحب نے مجھے بلایا اورایک کرتا عنایت فرمایا، جوان کی بزرگانہ توجہ اور شفقت کی دلیل تھی، جامعہ رحمانی کے ہم درس رفیقوں میں موجودہ زمانہ کے معروف فقیہ اور آل انڈیامسلم پرسنل بورڈ کے صدر، استاذ گرامی قدرحضرت مولاناخالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی بھی تھے، وہاںکے خوانِ یغماء سے جومقدرتھا، اسے چننے کے بعد ’’دارالسرور بنگلور‘‘ کے لئے رختِ سفرباندھا اور وہاں کے مشہور ادارہ ’’دارالعلوم سبیل الرشاد‘‘ میں داخلہ لیا، جہاں سے انھوں نے عالمیت وفضیلت تک کی مکمل تعلیم حاصل کی، یہ غالباً۱۹۷۶ء کی بات ہے، جس وقت سبیل الرشاد میں اعلیٰ نمبرات سے کامیاب ہونے والوں کوفضیلت کے ساتھ ساتھ افتاء کی بھی سند اجازت دی جاتی تھی، یہاں ان کے درسی ساتھیوں میں جناب مولانا عبد الخالق مدراسی(موجودہ نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند) تھے، کہتے ہیں کہ شخصیت سازی میں جس طرح استاذ اور ماحول کاہاتھ ہوتا ہے، اسی طرح رفیقانِ درس کا بھی ہوتا ہے، مولانا کے رفیقوں میں ایسے تھے، جن کے اندرعزم وحوصلہ اور کچھ کرگزرنے کاجذبہ موجود تھا، اسی کا نتیجہ مفتی صاحب کے ادارے’’جامعہ دارالبلاغ‘‘ اور ’’گریشیس بپلک اسکول ‘‘ہیں۔

دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور سے فراغت کے بعدصوبہ تامل ناڈو کے وانم باڑی کے ایک ادارہ میں تین سال تک تدریسی خدمت انجام دی، پھر مادرعلمی دارالعلوم سبیل الرشادبنگلورمیں تقرری عمل میں آئی، جہاں انھوں نے تقریباً دس سال تک تدریسی خدمت انجام دی، جس میں اونچے درجے کی کتابیں بھی زیرتدریس رہیں، دارالافتاء میں بھی وقت دیا کرتے تھے، اسی دوران انھوں نے میسور یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور پھر بنگلوریونیورسٹی سے ڈاکٹرعبدالاحد صاحب کی نگرانی میں پی ایچ ڈی بھی مکمل کی اوراس طرح انھوں نے عصری تعلیم حاصل کرتے ہوئے ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی ڈگری حاصل کی، ۱۹۸۹ء میں انھوں نے دارالعلوم سبیل الرشاد کی تدریسی ذمہ داری سے سبک دوشی اختیار کرلی۔

دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور سے سبک دوشی کے بعد انھوں نے بنگلورکے حسنات کالج میں ٹیچنگ شروع کی، اس دوران انھوں نے ایک دینی ادارہ ’’جامعہ دارالبلاغ‘‘ کے نام سے بنگلور شہرمیں قائم کیا، ساتھ میں عصری تعلیم کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک اسکول بھی’’گریشیس پبلک اسکول‘‘ کے نام سے اوپن کیا، جس میں دسویں کلاس تک تعلیم ہوتی ہے، بنگلور میں انھوں نے ایک مسجد’’مسجدقباء، خلاصی پالیم‘‘ میں دس سالوں تک امامت کے فرائض انجام دئے، جب کہ ’’مسجد اعلیٰ، کڑچی پالیہ‘‘ میں تقریباً پچیس سالوں تک خطابت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔

مولانا بنیادی طورپر ایک مدرس تھے، آج دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں تدریسی خدمات انجام دینے والوں کی جو کھیپ ہے، وہ تقریباً مولانا کے شاگردوں کی کھیپ ہے، وہاں سے سبک دوشی اختیارکی تو حسنات کالج میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے، تعلیم وتدریس کے لئے ہی انھوں نے ایک مدرسہ اور ایک اسکول قائم کیا، یہ تعلیم کے ساتھ نہ صرف ان کی گہری دلچسپی کی دلیل ہے؛ بل کہ قوم کے نونہالوں کے تعلق سے ان کی تعلیمی فکرمندی کا بھی ثبوت ہے۔

مولاناایک خطیب بھی تھے، ان کی خطابت دینی موضوعات کے ساتھ ساتھ فکری موضوعات سے لبریز ہواکرتی تھی، انداز ایسانرالا تھا کہ لوگوں کے دلوں میں بات اترجاتی تھی، یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے نام کے ساتھ’’خطیب عصر‘‘ کا سابقہ بھی لگایا کرتے تھے، وہ ایک مفسربھی تھے، ان کے تفسیری دروس بھی عوام وخواص میں مقبول تھے، اسی مناسبت سے ان کے شاگردان کے نام کے ساتھ’’مفسرقرآن‘‘ کا بھی سابقہ لگایا کرتے تھے۔

ان تمام خصائص کے ساتھ ساتھ مولاناکی سب سے بڑی خصوصیت ’’چھُپ ‘‘ کررہنے کی تھی، یہی وجہ ہے کہ خود مولانا کے علاقہ کے لوگ ان کی تعلیمی لیاقت سے واقف نہیں؛ لیکن اس کے باوجود مولانا کی شخصیت ایک مقبول شخصیت تھی، جس کا اندازہ نماز جنازہ میں شریک لوگوں کودیکھ کر لگایا جاسکتا ہے، مولانا ہمارے علاقہ کے تھے، میں پہلے ان کے نام سے واقف ہوا، پھرکام سے، ایک آدھ بارٹیلی فونک ملاقات ہوئی، یہ میری بدقسمتی ہے کہ باوجود کئی بار بنگلور آنے جانے کے، ان سے براہ راست ملاقات کی سعادت حاصل نہیں ہوسکی، جس کا اب افسوس ہی افسوس رہے گا۔

مولانااگرچہ اپنے علاقہ سے دوررہتے تھے؛ لیکن علاقہ اور اہل خانہ سے چشم پوشی اختیارنہیں کررکھی تھی؛ چنانچہ کئی طلبہ کی تعلیم کا وہ ذریعہ بنے، خاندان کے کئی افراد کی وہ ہمیشہ مدد کیا کرتے تھے، جب کبھی گھرآتے تولوگوں سے ملنے ملانے کے ساتھ ساتھ ان کے حال احوال اورخیرخبر بھی پوچھتے رہتے، ملتے تو مسکراکر ملتے، جس میں ہرایک کے ساتھ اپنائیت کا احساس ہوتا، مفتی صاحب سادہ مزاج تھے، سادگی کوپسند کرتے تھے۔

۱۴/دسمبر۲۰۲۵ء بروز اتوار کو صبح کی اولین ساعتوں میں اچانک ان کے انتقال کی خبرآئی توقلبی طورپر افسوس ہوا، ایسی علمی شخصیت کے اتنی جلد چلے جانے کا غم توتھاہی، ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہوسکنے کا رنج اس پرمستزاد!لیکن قضاء وقدرکے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا چارۂ کار نہیں اور یہی ایک مؤمن کاشیوہ ہے، ہم اس فیصلے پر راضی برضا ہیں اوروہی کہتے ہیں، جونبی محترم ﷺنے اپنی مبارک زبان سے اپنے لخت جگرکی موت پر اداکئے تھے: إن العین تدمع، و القلب یحزن، ولانقول إلا مایرضی ربنا،وإنالفراقک یاشمس الدین لمحزونون’’آنکھ اشک بارہے اوردل غم سے بوجھل؛ مگرزبان سے وہی نکلتا ہے، جوہمارے رب کی رضا کے مطابق ہو، یقیناً تمہاری جدائی پراے شمس الدین ہم بہت رنجیدہ ہیں‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے مولانا کو تین صلبی اولادسے نوازاتھا، بڑا بیٹا محمد طٰہ پیشہ سے ایک انجینئرہیں اوربی ٹیک تک کی تعلیم حاصل کی ہے، ایک لڑکی ہمانشاط ہیں، جنھوں نے بی ایس سی اور بی ایڈ تک تعلیم حاصل کی ہے، چھوٹے لڑکے محمددانش ہیں، جوپیشہ سے ایم بی بی ایس ڈاکٹرہیں ، اللہ تعالیٰ ان تمام کو اوران کے گھر والوں کو، ان کے اہل تعلق اورشاگردوں کو صبرجمیل کی توفیق عطافرمائے، مفتی صاحب کے حسنات کو قبول فرمائے اوران کی لغزشوں سے درگزرکامعاملہ فرمائے، آمین یارب العالمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی