رب کی دہلیز پر
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
رمضان المبارک کا آخری عشرہ رحمتوں، برکتوں اور روحانی تجلیات کا وہ دل آویز موسم ہے، جس میں سوکھے ہوئے دلوں کی زمین پر ایزدی فیضان کی نئی بہار اترتی ہے، یہ وہ پُراثر ساعتیں ہیں، جب زمین کی گرد میں الجھے ہوئے دل آسمانوں کی وسعتوں کی طرف پرواز کرنے لگتے ہیں اور بندہ ندامت و پشیمانی کے ساتھ اپنے رب کے درِ کرم پر جبینِ نیاز جھکا دیتا ہے، انہی مبارک ایام میں ایک ایسی عبادت جلوہ گر ہوتی ہے، جو بندگی کی لطافت، محبت کی شدت اور روح کی بالیدگی کا حسین سنگم ہے اور وہ ہے’’اعتکاف‘‘۔
اعتکاف دراصل دنیا کے ہنگامہ خیز شور و غوغا سے وقتی کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے آپ کو مکمل طور پر یادِ الٰہی اور بندگی کے لیے وقف کر دینے کا نام ہے، یہ وہ کیفیت ہے، جب بندہ مسجد کی پُرسکون فضا میں بیٹھ کر اپنے باطن کی دنیا کو سنوارتا ہے اور ذکر و فکر کی قندیلوں سے اپنے دل کے نہاں خانوں کو روشن کرتا ہے، اس کی اصل روح یہی ہے کہ انسان دنیا کی تگ و دو سے نکل کر خالقِ حقیقی کے آستانے پر ڈیرہ ڈال دے، چند دن کے لیے اپنی مصروفیات، کاروبار اور دنیاوی جھمیلوں سے کنارہ کش ہو کر اللہ کے گھر کو اپنا مسکن بنا لے اور اسی کی یاد میں گم ہو جائے، یہ گویا عشقِ الٰہی کی وہ معراج ہے، جہاں بندہ اپنی ہستی کو اپنے رب کے حضور نذر کر دیتا ہے اور زبانِ حال سے عرض کرتا ہے کہ اے میرے پروردگار! میں تیرے در پر آ بیٹھا ہوں، اب تیری رحمت کے سوا میرا کوئی ٹھکانہ نہیں۔
اس عظیم عبادت کی شان کا سب سے روشن ثبوت یہ ہے کہ یہ رسول اکرم ﷺ کی دائمی سنت رہی ہے، آپ ﷺ ہر سال رمضان المبارک کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے؛ تاکہ شبِ قدر کی تلاش اور ذکرِ الٰہی میں کامل یکسوئی حاصل ہو سکے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: کان رسول اللہ ﷺ یعتکف العشر الأواخر من رمضان’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے‘‘۔ (صحیح مسلم)
یہ عمل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اعتکاف محض گوشہ نشینی نہیں؛ بل کہ اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق قائم کرنے اور روح کو پاکیزگی کے نئے افق تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، قرآنِ کریم نے بھی اس عبادت کا ذکر نہایت توقیر کے ساتھ کیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ(البقرہ: 125)
ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کی یہ نورانی روایت صرف امتِ محمدیہ ہی تک محدود نہیں؛ بل کہ یہ انبیائے کرام کی سنتوں کا وہ مبارک تسلسل ہے، جو بندگی کی تاریخ میں ہمیشہ سے جاری رہا ہے۔
شریعتِ اسلامیہ میں رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف’’سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ‘‘ہے، اس حکم میں اسلام کی اجتماعی روح بھی نمایاں ہوتی ہے؛ کیوں کہ یہاں عبادت کا دائرہ فرد تک محدود نہیں رہتا؛ بل کہ پوری بستی اور معاشرے کے ساتھ جڑ جاتا ہے، اگر کسی محلے یا بستی کی مسجد میں ایک شخص بھی اعتکاف میں بیٹھ جائے تو سب کی طرف سے یہ سنت ادا ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر سب اس سے غفلت برتیں تو یہ کوتاہی اجتماعی محرومی کا سبب بن جاتی ہے۔
اعتکاف کا آغاز بیسویں رمضان کے غروبِ آفتاب سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ شوال کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے، اس دوران معتکف کی زندگی کا محور عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا اور محاسبۂ نفس بن جاتا ہے، فقہائے کرام کے نزدیک اس اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے؛ اس لیے معتکف دن بھر صائم رہ کر اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور رات کے سکوت میں عبادت و مناجات کے ذریعہ اپنی روح کو سیراب کرتا ہے، گویا یہ عبادت انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہے، بھوک اور پیاس نفس کی سرکشی کو کمزور کرتی ہیں اور ذکر و فکر دل کو نورِ ایمان سے منور کر دیتے ہیں۔
مسجد کی ان خاموش فضاؤں میں بیٹھا ہوا معتکف ایک عجیب روحانی سکون محسوس کرتا ہے، دنیا کے ہنگامے اس کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں اور اس کے دل پر سکینت کی روشنی اترنے لگتی ہے، کبھی وہ کلامِ الٰہی کی تلاوت میں محو ہوتا ہے، کبھی دعا اور مناجات میں اور کبھی تنہائی کے عالم میں اپنی لغزشوں کو یاد کر کے اشکبار ہو جاتا ہے، انہی لمحوں میں اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی اس ربِ کریم کے در پر کھڑا ایک سائل ہے، جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں۔
اعتکاف کا ایک بڑا ثمرہ شبِ قدر کی تلاش بھی ہے، وہ مبارک رات، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ’’شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘، لہٰذا اس کی برکتوں کو سمیٹنے کا بہترین موقع معتکف کو میسر آتا ہے، وہ ان طاق راتوں میں جاگ کر عبادت اور دعا کے ذریعہ اپنے مقدر کو روشن کرتا ہے اور اس عظیم نعمت سے محروم نہیں رہتا۔
درحقیقت اعتکاف محض ایک رسمی عبادت نہیں؛بل کہ روح کی پیاس بجھانے والا ایک زندہ چشمہ ہے، یہ انسان کو اس کے اصل مقصدِ تخلیق کی یاد دلاتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ دنیا کی تمام رونقیں عارضی ہیں، اصل سکون اور قرار صرف اللہ کی یاد میں ہے، رمضان کا یہ مبارک عشرہ ہمیں پکار کر کہتا ہے کہ اے انسان! تجھے ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹنا ہی ہے،بس اگر ہم مکمل دس دن کا اعتکاف نہ بھی کر سکیں تو کم از کم کچھ وقت مسجد کی خاموش تنہائیوں میں گزار کر اپنے رب کے ساتھ اپنے تعلق کو تازہ ضرور کریں، کیوں کہ یہی تعلق دراصل زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور یہی وہ رشتہ ہے، جو انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کے کام آنے والا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں