عید کی رات

عید کی رات

عید کی رات

محمد جمیل اخترجلیلی ندوی


رمضان المبارک کی پُرنور ساعتیں جب اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں اور افقِ عالم پر عید کا ہلالِ نو جلوہ گر ہوتا ہے تو کائنات کی فضا میں ایک عجیب سی روحانی سرشاری رقص کرنے لگتی ہے،یہ وہ رات ہوتی ہے، جس میں ایک مومن کے دل میں ایک طرف ماہِ صیام کی جدائی کا ملال ہوتا ہے تو دوسری طرف باری تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کے نزول پر شکر و امتنان کی لہر دوڑ جاتی ہے، عید کی یہ رات محض دنیوی جشن یا ہما ہمی کا نام نہیں؛ بل کہ یہ تو بندگی کے اس سفر کی تکمیل کا اعلان ہے ،جس کا مقصد ’’تقویٰ‘‘کا حصول تھا، قرآنِ کریم اس رات کی حقیقی روح کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ(البقرۃ: 185)’’تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزار بنو‘‘۔

گویا عید کی یہ شب دراصل ’’تکبیر‘‘اور ’’شکر‘‘کی رات ہے،یہ وہ مبارک گھڑی ہے، جب بندہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر ایک ماہ کی عبادتوں کی قبولیت کی التجا کرتا ہے، اس رات کی فضیلت کے حوالے سے اگرچہ حدیثِ مبارکہ: مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ احْتِسَابًا لِلّٰهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ(کتاب الاذکار للنووی، ص: ۲۲۴)’’جس نے ثواب کی نیت سے عیدین کی راتوں کا قیام کیا، اس کا دل اس دن بھی زندہ رہے گا، جس دن دل مردہ ہو جائیں گے‘‘کی سند کو محدثین نے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے؛تاہم فضائلِ اعمال اور کارِ خیر کی ترغیب کے باب میں اس پر عمل کرنا اہل علم کے نزدیک ہمیشہ سے مستحسن رہا ہے۔ 

مشہوراصولی، فقیہ اورمحدث ابن رجب حنبلیؒ کا یہ بلیغ قول اس رات کے باطنی فلسفے کو پوری طرح واضح کر دیتا ہے ، وہ فرماتے ہیں:ليس العيد لمن لبس الجديد،إنما العيد لمن طاعاته تزيد،ليس العيد لمن تجمل باللباس والركوب، إنما العيد لمن غفرت له الذنوب،في ليلة العيد تفرق خلق العتق والمغفرة على العبيد؛ فمن ناله منها شيء فله عيد، وإلا فهو مطرود بعيد(لطائف المعارف، ص:277)’’عید اس کی نہیں، جس نے نئے کپڑے پہنے؛ بل کہ عید تو اس کی ہے، جس کی نیکیاں (اطاعت) بڑھ گئیں،عید اس کی نہیں، جس نے لباس اور سواری سے خود کو آراستہ کیا؛بل کہ عید تو اس کی ہے، جس کے گناہ معاف کر دیے گئے، عید کی رات بندوں میں (جہنم سے) آزادی اور مغفرت کے پروانے تقسیم کیے جاتے ہیں؛ پس جسے ان میں سے کچھ حصہ مل گیا، اس کے لیے عید ہے، ورنہ وہ (اللہ کی رحمت سے) دور پھینکا گیا محروم شخص ہے‘‘، یہ الفاظ ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ عید کی اصل خوشی ظاہری زیب و زینت اور لباس کی فاخری میں نہیں؛ بل کہ روح کی پاکیزگی اور رضائے الٰہی کے حصول میں پوشیدہ ہے۔

فقہاء اور اہل دانش کا بھی یہی نقطہ نظر ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی راتوں کو ذکر و اذکار، تلاوت اور نوافل سے منور کرنا ایک نہایت پسندیدہ عمل ہے؛ تاہم احناف کے نزدیک اگر کوئی شخص محض عشاء اور فجر کی نمازیں جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کر لے تو وہ بھی اس رات کی برکات سے محروم نہیں رہتا؛ البتہ اس رات کوعبادت کے لیے مساجد میں اجتماع یا جماعت کے قیام کا التزام سنت سے ثابت نہیں؛ بل کہ اس کی اصل خوبصورتی انفرادی طور پر اپنے گھروں کے گوشہِ عافیت میں رب سے لو لگانے میں ہے۔

افسوس کہ آج کے پُر فتن دور میں یہ رات اکثر بازاروں کی چکاچوند، بے مقصد مٹر گشتی اور غفلت شعاری کی نذر ہو جاتی ہے؛ حالاںکہ یہ وہ ساعتیں ہیں، جو مردہ دلوں کو زندگی بخشتی ہیں، اگر ایک بندہ ٔمومن اس رات کے چند لمحات بھی خلوصِ دل کے ساتھ بارگاہِ ایزدی میں گزار لے تو یہی لمحات اس کی پوری زندگی کا قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں۔ 

عید کی یہ رات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رمضان کا دیا ہوا تقویٰ، صبر اور ایثار کا نور صرف ایک مہینے تک محدود نہ رہے؛بل کہ اسے آنے والے پورے سال کے لیے زادِ راہ بنایا جائے، یہ رات محض مسرت کی رات نہیں؛بل کہ’’بصیرت‘‘کی رات ہے، ایک ایسی رات، جو انسان کو اس کے اصل مرکز (رب) سے جوڑتی ہے اور اسے ایک نئی، پاکیزہ اور بامقصد زندگی کے آغاز کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ 

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک رات کی قدر دانی کی توفیق دے، ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے آباد رکھے اور عید کی خوشیوں کو ہماری روحانی ترقی کا ذریعہ بنا دے، آمین!!!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی