عید کی حقیقی مسرت

عید کی حقیقی مسرت

عید کی حقیقی مسرت

(از:مولاناعبدالماجددریابادیؒ)


[عید الفطر محض ایک تہوار نہیں؛ بل کہ روحانی تربیت، ایثار و ہمدردی اور شکر و بندگی کا حسین امتزاج ہے،رمضان المبارک کی ایک ماہ طویل عبادت، صبراور تقویٰ کے بعد جب عید کا دن طلوع ہوتا ہے تو یہ دراصل اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بندہ اپنے رب کی رضا کے قریب ہوا یا نہیں؛ لیکن افسوس کہ آج عید کی حقیقی روح کہیں ماند پڑتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ ظاہری نمود و نمائش، لباس و خوراک کی فراوانی اور وقتی خوشیوں نے لے لی ہے۔

زیرِ نظر مضمون حضرت مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کا ایک بصیرت افروز اور فکر انگیز تحریر ہے، جس میں انھوں نے نہایت مؤثر انداز میں عید کی اصل حقیقت کو اجاگر کیا ہے، وہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عید کی خوشی صرف اپنی ذات تک محدود رکھنے کا نام نہیں؛ بل کہ اس کا حقیقی لطف تب حاصل ہوتا ہے، جب ہم اپنے اردگرد کے محروم، نادار اور یتیم افراد کو بھی اس خوشی میں شریک کریں، یہی وہ جذبہ ہے، جو عید کو محض ایک رسم سے اٹھا کر ایک زندہ، بامقصد اور دائمی مسرت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

یہ مضمون قاری کو اپنے طرزِ فکر اور طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم عید کی حقیقی مسرت کے طلبگار ہیں تو ہمیں اپنے دلوں میں وسعت پیدا کرنی ہوگی، دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھنا ہوگا اور اپنی خوشیوں کو بانٹ کر انھیں دائمی بنانا ہوگا، یہی وہ تعلیم ہے، جو ہمارے دینِ اسلام کی روح اور سیرتِ نبوی ﷺ کا خلاصہ ہے، آیئے! اب اصل تحریر پڑھتے ہیں___  میم، جیم، الف]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عید آرہی ہے، آپ کے بچے(خداآپ کاسایہ ان کے سروں پرعرصے تک قائم رکھے)خوش ہورہے ہیں کہ نئے نئے رنگین کپڑے پہننے کوملیں گے، طرح طرح کی مٹھائیاں اوراچھے اچھے کھانے کھانے میں آئیں گے اورعیدگاہ میں نئے نئے کھلونے خریدیں گے۔ آپ کواپنے بچوں کی خوشیاں مبارک! لیکن یہ بھی کبھی آپ نے سوچاہے کہ ان مٹھائیوں اورکھانوں کی لذت کَیْ لمحوں تک اورکپڑوں اورکھانوں کی خوشی کتنی دیرتک قائم رہ سکتی ہے؟ کپڑے میلے ہوں گے، کھلونے ٹوٹیں گے اورمٹھایاں حلق کے نیچے اترجائیں گی۔ اپنے بچوں کوہنستا کھیلتا دیکھ کرتھوڑی دیرآپ بھی خوش ہولیں گے؛ لیکن جس طرح تھوڑی ہی دیرکے بعد ان کی اداسی یقینی ہے، اسی طرح آپ کی بھی خوشی ٹھہرنے والی نہیں۔ آپ وہ دائمی خوشی کیوں نہ خرید فرمالیں، جسے نہ کبھی زوال ہواورنہ جس سے آپ کبھی محروم ہوسکیں؟

آپ کے پڑوس میں، آپ کے محلہ میں، آپ کی بستی میں آپ ہی کے بچوں کی طرح دل رکھنے والے اوردلوں میں ارمان وشوق رکھنے والے کچھ اوربچے بھی ہیں، جن کے ناز بردار ماں باپ آج اس عالم میں موجود نہیں، عید ان کے گھرمیں بھی آئی ہے، پران کے چہرے اداس ہیں اورکوئی ان کی اداسی پر کڑھنے والانہیں۔ ان کے دل غم گین ہیں اورکوئی ان کی غم گینی کودورکرنے کی تڑپ اپنے دل میں رکھنے والانہیں۔ وہ بے والی ووارث ہیں، آپ ان کی سرپرستی کیجئے۔ وہ بے آسراہیں، آپ ان کے آسرابنئے۔آپ کی عید جب ہی مقبول ہوسکتی ہے، جب آپ ان کی عید کواپنی عید بنائیں اوراپنے دل میں یہ خیال تک نہ لائیں کہ آپ ان پرکوئی احسان ونوازش کررہے ہیں؛ بل کہ اپنی خوش بختی پرسجدۂ شکرکریں کہ آپ کواپنی عاقبت سدھارنے کا ایک موقع دیاگیا۔ اگرآج ایک یتیم کی بھی عید آپ نے کرادی تو ’’کل‘‘ جب تمام ہنستے ہوئے چہرے رورہے ہوں گے، آپ کے چہرے پران شاء اللہ اس وقت بھی تبسم رقص کررہاہوگا۔

عید کا چاند دیکھا جاچکا ہے۔ امیرگھرانوںکی ڈیوڑھیاں مبارک باد کے شورسے گونج رہی ہیں۔ آپ اپنے دل میں کل کے مصارف دودھ، شکر، سوئیاں، میوہ، عطر، پان، بچوں کی خاطرداری، دوستوں کے تحفہ تحائف، ملازمین ومتوسلین کے انعام واکرام وغیرہ کاحساب لگارہے ہوں گے؛ لیکن یہ بھی کبھی آپ کے خیال میں آتاہے کہ ان دعوتوں اور ضیافتوں کی خوشیوں کی عمرکتنی ہے؟ ان میں سے کسی مسرت کوبھی پائداری نصیب ہے؟ آپ اس مسرت کا سودا کیوں نہ کرلیں، جو آپ سے کبھی نپ چھن سکے اورجوبڑے سے بڑے آڑے اور نازک وقت پربھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑے؟

آپ کے پڑوس میں، آپ کے محلہ میں، آپ کی بستی میں کچھ غریب وبیکس، ضعیف ومفلس، محتاج وبے زربھی اپنی زندگی کے دن پورے کررہے ہیں، وہ بھی آپ ہی کی شریعت کا کلمہ پڑھنے والے ہیں، آپ ہی کے رسول ﷺ کی امت ہیں، آپ ہی کے پروردگارکے بندے ہیں، فرق صرف اتناہے کی آپ کے ہاں بہت کچھ ہے اور ان بے چاروں کے ہاں کچھ بھی نہیں۔آپ کل مٹھیاں بھربھرکرپیسے لُٹائیں گے، وہ غریب اناج کے دانہ دانہ کوترس رہے ہیں۔ آپ کے ہاں نوکرچاکرہی نہیں؛ بل کہ کتے اور بلی تک کل عید منائیں گے، ان بے چاروں کواس کی فکر ہے کہ کل کافاقہ کیسے بورداشت کیاجائے گا۔ آپ اگرعیدکی حقیقی مسرت حاصل کرناچاہتے ہیں تواپنے کھانے سے پہلے ان محتاجوں اورمسکینوں کوکھلایئے اوردوستوں کی پرتکلف دعوتوں اورضیافتوں سے قبل ان فاقہ کشوں کاجبری روزہ کھلوایئے۔ آپ کی اصلی عید یہی ہے کہ یتیموں اورمسکینوں کے ہاں عید کرایئے کہ آپ کے سروروسردارا کا یہی طریقہ تھا۔ یتیموں کی غمخواری، مسکینوں کی دستگیری، دردمندوں کی حاجت روائی، ان مختصرفقروں میں ساری سیرت مبارک کا عطر کھنچ آتا ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی