آدابِ مسرت

آدابِ مسرت

آدابِ مسرت

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


عید کا دن شکر گزاری، بندگی اور روحانی مسرت کا ایک حسین مظہرہے، جب رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں اور ایک ماہ کی طویل ریاضت — روزہ، نماز، تلاوتِ قرآن، نوافل اور ذکر و تسبیح — کے بعد مسلمان ایک نئے عزم کے ساتھ عید کی صبح کا استقبال کرتے ہیں تو روح کے نہاں خانوں میں شکر کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

فجر کی سپیدۂ سحری کے ساتھ جب عید کا سورج طلوع ہوتا ہے تو فضا میں ایک خاص قسم کی نورانیت محسوس ہوتی ہے، گھروں میں مسکراہٹیں رقص کرنے لگتی ہیں، بچے خوشی سے نہال ہوتے ہیں اور بڑے باری تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے عیدگاہ کا رخ کرتے ہیں، اس طرح یہ دن خالق کی رحمتوں اور مخلوق کی خوشیوں کا ایک حسین سنگم بن جاتا ہے۔

عید کی صبح اسلامی معاشرت کے اتحاد و یگانگت کا بہترین منظر پیش کرتی ہے،فرزندانِ توحید نئے اور پاکیزہ لباس زیب تن کیے، خوشبوؤں سے معطر ہو کر اور فضاؤں میں تکبیرات کی صدائیں بلند کرتے ہوئے عیدگاہوں کی طرف گامزن ہوتے ہیں، وہاں ہزاروں مسلمان جب ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں تو اسلامی اخوت اور عالمی مساوات کا وہ نقشہ سامنے آتا ہے، جس کی نظیر دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی، امیر و غریب اور شاہ و گدا کا ایک ہی زمین پر سر بسجود ہونا اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام کی اصل روح اجتماعیت اور برابری میں مضمر ہے۔

نمازِ عید سے فراغت کے بعد، جب لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہیں تو ہر سو محبت اور دعاؤں کی خوشبو پھیل جاتی ہے، شریعتِ اسلامی نے اس باہمی اظہارِ مسرت کو نہ صرف پسند کیا ہے؛بل کہ اس کے استحباب کی نشاندہی بھی فرمائی ہے، عید کے دن ایک دوسرے کو مبارک باد دینا مستحب عمل ہے،  علامہ شامیؒ نے محقق ابن امیر حاج کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عید کے دن مبارک باد دینا فی الجملہ جائز اور مستحب ہے:بَلِ الْأَشْبَهُ أَنَّهَا جَائِزَةٌ مُسْتَحَبَّةٌ فِي الْجُمْلَةِ(رد المحتار:2 /169) ’’مبارک باد دینا فی الجملہ جائز اور مستحب ہے‘‘، اس کی اصل ہمیں صحابہ کرامؓ کے عمل سے ملتی ہے،حافظ ابن حجرؒ نے سندِ حسن کے ساتھ حضرت جبیر بن نفیرؓ کا قول نقل کیا ہے کہ:اصحابِ رسول ﷺ جب عید کے دن ایک دوسرے سے ملتے تو کہتے: تقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ (فتح الباری:2 /447)’’اللہ ہمارے اور آپ کے اعمال کو قبول فرمائے‘‘۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہی کلمات مسنون اور افضل ہیں؛ البتہ اگر کوئی ’’عید مبارک‘‘ کہہ دے تو یہ بھی درست ہے؛ تاہم اسے لازم یا ضروری سمجھنا درست نہیں؛ نہ کہنے پر ناراضگی بھی مناسب نہیں۔

جہاں تک عید کے موقع پر مصافحہ اور معانقہ (گلے ملنے) کا تعلق ہے تو اسے ایک سماجی خوشی کے طور پر کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اسے عید کا لازمی شرعی جزو یا سنتِ مخصوصہ نہ سمجھا جائے؛ چنانچہ مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ ؓ لکھتے ہیں: عیدین میں معانقہ کرنایا عید کی تخصیص سمجھ کرمصافحہ کرناشرعی نہیں؛ بل کہ محض ایک رسم ہے(کفایت المفتی:2 /302)، بنوری ٹاؤن کا فتوی ہے: مبارک بادی دیتے وقت مصافحہ یامعانقہ کرنے میںکوئی حرج نہیں؛ البتہ اس کولازمی سمجھ کرنہ کیا جائے (banuri.edu.pk فتوی نمبر:143909200979) ۔

  عید کا دن مسرت و شادمانی کا دن ہے اور شریعت نے جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے اس کے اظہار کی مکمل اجازت دی ہے؛ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن ان کے پاس انصار کی دو لڑکیاں جنگِ بعاث کے حوالے سے اشعار گا رہی تھیں (وہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں)، جب حضرت ابوبکر صدیقؓ تشریف لائے تو انھوں نے اسے ناپسند کیا؛ لیکن نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا(بخاری:952)’’اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے‘‘۔

اس حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ عید کے دن خوشی کا اظہار کرنا، اچھے اشعار، حمد و نعت یا اصلاحی نظمیں سننا درست ہے؛ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خوشی کے نام پر لہو و لعب اور غیر شرعی افعال اختیار کیے جائیں، آج کل بعض جگہوں پر ڈی جے (DJ) بجانے، بیہودہ موسیقی یا شور و غل کا جو رواج چل پڑا ہے، وہ عید کی تقدس اور اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔

الغرض: عید الفطر محض ایک روایتی جشن کا نام نہیں؛ بل کہ یہ بندگی، ایثار اور باہمی ہمدردی کا پیغام ہے، اگر ہم اس دن خوشیوں کو شریعت کے دائرے میں رہ کر منائیں اور اپنی مسرتوں میں محروم طبقات کو بھی شامل رکھیں تو عید کی حقیقی روح بیدار ہوگی، یہی وہ راستہ ہے، جس سے ہمارا معاشرہ محبت، اخوت اور خیر خواہی کی خوشبو سے معطر ہو سکتا ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی