تقدیر کی روشن رات

تقدیر کی روشن رات

تقدیر کی روشن رات

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


رمضان المبارک کا قافلہِ نور جب اپنے آخری پڑاؤ کی جانب گامزن ہوتا ہے تو کائنات کی جبیں پر ایک ایسی ضیا بار رات نمودار ہوتی ہے، جس کی تابانی سے ارض و سما کے گوشے جگمگا اٹھتے ہیں،یہ وہ شبِ سعید ہے، جسے قدرت نے اپنے خاص اسرار کی نقاب کشائی کے لیے چنا اور قرآنِ حکیم نے اسے ’’لیلۃ القدر‘‘کے جلیل القدر لقب سے سرفراز کیا۔

یہ محض ایک رات نہیں؛ بل کہ تقدیر کی وہ روشن منزل ہے، جہاں فرش زمیں پر عرش بریں کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور قدسیوں کی آمد سے فضائیں معطر ہو جاتی ہیں،جب آسمان سے انوار و برکات کی موسلا دھار بارش ہوتی ہےتو گناہ گاروں کے مقدر کے فیصلے مہرِ الٰہی سے ثبت کیے جاتے ہیں، اس رات کی عظمت کا اعتراف خود خالقِ کائنات نے ان معجز نما  الفاظ میں فرمایا:

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۝ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ۝ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ(سورۃ القدر)

بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا، اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر معاملہ لے کر اترتے ہیں، یہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر وہ رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور فرشتے زمین پر اترتے ہیں، یہ رات خیر و برکت اور سلامتی سے معمور ہوتی ہے، مفسرین نے لکھا ہے کہ اس رات میں عبادت کرنے والا شخص گویا ایک طویل مدت کی عبادت کا اجر حاصل کر لیتا ہے، ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات کی عبادت تقریباً تراسی (۸۳) سال سے زیادہ عبادت کے برابر اجر رکھتی ہے۔

احادیثِ نبویہ میں بھی اس رات کی بے پناہ فضیلت بیان کی گئی ہے، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:من قام ليلة القدر إيمانًا واحتسابًا غُفِرَ له ما تقدم من ذنبه(بخاری و مسلم)’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں عبادت کے لیے کھڑا ہو، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘‘، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس رات کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرے میں خصوصی اہتمام فرماتے تھے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:كان رسول الله ﷺ إذا دخل العشر الأواخر شد مئزره وأحيا ليله وأيقظ أهله(بخاری و مسلم)’’جب رمضان کے آخری دس دن آتے تو رسول اللہ ﷺ کمر کس لیتے، راتوں کو زندہ رکھتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے‘‘۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر کی تلاش اور اس میں عبادت کا اہتمام مومن کی زندگی کا اہم حصہ ہونا چاہیے، اگرچہ اس رات کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے؛لیکن جمہورامت نےرمضان مبارک کی ستائیسویں شب کو اس کے ہونے کا قوی احتمال سمجھا ہے، اسی لیے مسلمان اس رات میں خصوصی عبادت، دعا اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرتے ہیں۔

شبِ قدر دراصل بندے کے لیے اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کا ایک سنہری موقع ہے، اس رات میں کی گئی دعا اور عبادت دل کی دنیا کو بدل دیتی ہے، حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر نصیب ہو جائے تو میں کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني(ترمذی)’’اے اللہ! تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے بھی معاف فرما دے‘‘۔

درحقیقت یہی وہ دعا ہے، جو اس رات کی روح کو بیان کرتی ہے؛ کیوں کہ شبِ قدر دراصل مغفرت، رحمت اور نجات کی رات ہے، جو بندہ اس رات کو غفلت میں گزار دیتا ہے، وہ بڑی محرومی کا شکار ہوتا ہے اور جو اسے عبادت، دعا اور توبہ میں گزار دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے؛ اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ اس مقدس رات کی قدر کرے، اپنے دل کو اللہ کی یاد سے روشن کرے، سجدوں میں گریہ و زاری کرے اور اپنے رب سے مغفرت و رحمت کی بھیک مانگے، یہی وہ ’’تقدیر کی روشن رات‘‘ہے، جس میں بندے کی قسمت سنور سکتی ہے، گناہ معاف ہو سکتے ہیں اور زندگی کا رخ بدل سکتا ہے، اگر یہ رات ایمان، اخلاص اور عبادت کے ساتھ گزار لی جائے تو یہ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو روشن کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس شب کی قدردانی کی توفیق عطافرمائے، آمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی