کرم نوازی کا موسم

کرم نوازی کا موسم

کرم نوازی کا موسم

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


جب افقِ عالم پر رمضان المبارک کا ہلال اپنی نورانی ضیا کے ساتھ نمودار ہوتا ہے تو مومن کے دل و روح میں پاکیزگی اور نورانیت کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے، یہ مبارک مہینہ انسان کے باطن کو جگا دیتا ہے اور اسے اپنے رب کے قریب لے آتا ہے، نفس کی کدورتیں مٹنے لگتی ہیں، دل نرم ہو جاتا ہے اور انسان اپنے وجود کو بخل، خود غرضی اور دنیا پرستی جیسی بیماریوں سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے، قرآنِ حکیم نے اسی کامیابی کو یوں بیان فرمایا ہے: وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(الحشر:۹) ’’جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا، وہی حقیقی فلاح پانے والے ہیں‘‘، گویا رمضان انسان کو اپنی ذات کے حصار سے نکال کر دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کا درس دیتا ہے۔

اس مبارک راستے میں ہمارے لیے سب سے کامل اور روشن نمونہ حضور اکرم ﷺ کی مقدس زندگی ہے، آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سخاوت، رحمت اور ایثار کی ایسی مثال ہے، جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ’’رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان کے مہینے میں آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جاتی تھی‘‘، جب حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان کی راتوں میں آکر آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تو آپ ﷺ کی سخاوت ’’أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۲۳۰۸)یعنی بھلائی کے کاموں میں آپﷺ کی رفتاراس تیز ہوا سے بھی زیادہ ہو جاتی، جو ہر طرف راحت اور تازگی پہنچا دیتی ہے‘‘، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی جودوسخارمضان المبارک میں دوچند ہوجایا کرتا تھا۔

سخاوت کا عمل انسان کے رزق کو کم نہیں کرتا؛بل کہ اس میں برکت اور وسعت پیدا کرتا ہے،حدیثِ شریف میں آتا ہے کہ ہر صبح دو فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں؛ ایک دعا کرتا ہے:اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا’’اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرما‘‘ اور دوسرا کہتا ہے:اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا(صحیح بخاری، حدیث نمبر:۱۴۴۲، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۰۱۰) ’’ اے اللہ! مال روک کر رکھنے والے کے مال کو ضائع کر دے‘‘، اس طرح اسلامی شریعت انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں دیا گیا مال ضائع نہیں ہوتا؛ بل کہ کئی گنا بڑھ کر واپس آتا ہے۔

سخاوت کا سب سے اعلیٰ درجہ ’’ایثار‘‘ہے، یعنی اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو ترجیح دینا، مدینہ کے انصار کی یہی شان قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی: وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ(الحشر:۹) ’’ وہ اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں‘‘، یہی وہ روحانی سبق ہے، جو رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی عظمت مال جمع کرنے میں نہیں؛بل کہ اسے اللہ کی راہ میں بانٹنے میں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رمضان نیکیوں کی بہار اور رحمتوں کا موسم ہے،اس مہینے میں دلوں میں جود و سخا کے چراغ روشن ہوتے ہیں اور انسان اپنے بھائیوں کی حاجت روائی میں مسرت محسوس کرتا ہے،جب بندہ اللہ کے بندوں پر مہربانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مبارک مہینے میں بقدراستطاعت ہم کشادہ دست بن جائیں، صدقہ و خیرات، حسنِ سلوک اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور محروموں کے چہروں پر خوشی بکھیرنے کی کوشش کریں،یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور یہی وہ راستہ ہے، جو انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں سرخروئی عطا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطافرمائے، آمین!!!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی