وداعی ساعتیں
محمد جمیل اختر جلیلی ندوی
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جب اپنی تمام تر روحانی رعنائیوں، رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ افقِ حیات پر طلوع ہوتا ہے تو دلوں میں ایمان کی ایک نئی بہار لے آتا ہے، عبادت کی لذتیں روح کو تازگی بخشتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کا ایک خاص احساس پاتا ہے؛ مگر وقت کی رفتار کے ساتھ یہ مبارک مہینہ بھی اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگتا ہے، پھر جب رمضان کے آخری ایام دستک دیتے ہیں تو ایک بیدار دل مومن کے اندر ایک گہری فکر پیدا ہوتی ہے کہ اس نے اس نیکیوں کے موسم سے کیا حاصل کیا اور کیا گنوا دیا؟
حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے آخری ایام دراصل خود احتسابی کے دن ہوتے ہیں، جس طرح دنیا کا تاجر کسی کاروباری سیزن کے اختتام پر اپنے نفع و نقصان کا حساب لگاتا ہے، اسی طرح ایک مومن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ رمضان کے اختتام پر اپنے اعمال کا جائزہ لے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کی عبادات نے اس کی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے اور اس نے اس بابرکت مہینے سے کتنا روحانی سرمایہ حاصل کیا ہے۔
عموماً ہم رمضان میں روزوں، تراویح، تلاوتِ قرآن اور صدقہ و خیرات کی کثرت کو ہی اپنی کامیابی سمجھ لیتے ہیں؛حالاں کہ رمضان کی اصل کمائی اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت ہے؛ اس لیے خود احتسابی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہماری عبادات میں اخلاص، خشوع اور روحانیت کس قدر موجود تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری عبادتیں صرف ظاہری رسم بن کر رہ گئیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں، جنھیں اپنے روزوں سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے راتوں میں عبادت کرنے والے ایسے ہیں، جنھیں مشقت کے سوا کچھ نہیں ملتا(مسند احمد: 8693)۔
یہ ارشادِ نبوی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت کا مقصد صرف اعمال کی کثرت نہیں؛بل کہ نیت کی پاکیزگی اور دل کی حاضری ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کی، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں (بخاری: 37-38)۔
رمضان کا آخری عشرہ خصوصی فضیلت کا حامل ہے؛کیوں کہ انہی مبارک راتوں میں شبِ قدر عطا کی گئی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اسی لیے رسول اکرم ﷺ ان دنوں میں عبادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے، خود بھی شب بیداری کرتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی عبادت کے لیے بیدار رکھتے تھے (بخاری: 9141)،یہ ایام بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو ازسرِنو مضبوط کرنے کا سنہری موقع ہوتے ہیں، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا(الزمر:53)’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے‘‘، یہ آیت بندوں کو امید اور توبہ کا پیغام دیتی ہے۔
خود احتسابی دراصل انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتی ہے،حضرت لقمان حکیمؒ سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے حکمت کہاں سے سیکھی؟ تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے نادانوں سے حکمت سیکھی،جب کسی کو غلطی کرتے دیکھتا تو اپنے دل میں جھانکتا کہ کہیں یہ عادت مجھ میں تو نہیں، یہی طرزِ فکر خود احتسابی کی اصل روح ہے۔
اسلام نے اس صفت کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ(الحشر: 18)’’ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے‘‘، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عقلمند وہ ہے، جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کرے‘‘، اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کا مشہور قول ہے: ’’حساب لیے جانے سے پہلے اپنا حساب کر لو‘‘۔
رمضان کے آخری ایام میں صدقۂ فطر کی ادائیگی بھی اسی روحانی تربیت کا حصہ ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے محروم طبقات بھی خوشیوں میں شریک ہوں، اس موقع پر بھی ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق بہترین چیز مستحقین تک پہنچائیں۔
درحقیقت رمضان کے یہ آخری ایام فکری بیداری کے دن ہیں، یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی عارضی ہے اور ایک دن ہمیں اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے؛ اس لیے ان مبارک راتوں میں بندہ عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے شبِ قدر کی راتوں میں یہ دعا سکھائی: اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔
اگر انسان رمضان کے آخری ایام میں سچے دل سے اپنے اعمال کا جائزہ لے، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے اصلاح کا عزم کر لے تو یہی اس مہینے کی اصل کامیابی ہے،علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا توبن
درحقیقت جو شخص اپنے نفس کے آئینے میں جھانکنے کا حوصلہ پیدا کر لیتا ہے، وہی زندگی کی حقیقی کامیابی اور روحانی بلندی تک پہنچتا ہے، رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو پاک کریں، اپنی زندگیوں کو تقویٰ اور اخلاص کے راستے پر ڈالیں اور اپنے رب کی رضا کو اپنا سب سے بڑا مقصد بنا لیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں