آنسوؤں کی عبادت

آنسوؤں کی عبادت

آنسوؤں کی عبادت

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


عبادت صرف تسبیح کے دانوں کی گردش، رکوع و سجدوں سے مرصّع نماز، یا محراب و منبر سے کیے جانے والے وعظ و پند کا نام نہیں؛ بل کہ کبھی پلکوں کی دہلیز پر لرزنے والا یہ بے آواز آنسو بھی عبادت کا روپ دھار لیتا ہے،جب الفاظ کا ساتھ چھوٹ جائے اور ندامت کے بوجھ سے لہجہ لڑکھڑانے لگے تو آنکھوں سے گرنے والا نمکین پانی اللہ کے حضور وہ مقدمہ پیش کرتا ہے، جسے زبان ادا نہیں کر سکتی، انسان کی زبان کبھی کبھی اپنے احساسات کی پوری ترجمانی سے قاصر رہ جاتی ہے؛مگر دل کی گہرائی سے نکلنے والے آنسو ایسی خاموش فریاد ہوتے ہیں، جو براہِ راست بارگاہِ الٰہی تک پہنچ جاتی ہے۔

رمضان المبارک کا مبارک مہینہ دراصل اسی کیفیت کو جگانے کا موسم ہے، یہ وہ وقت ہے، جب دل کی بنجر زمین کو نمی ملتی ہے اور روح کے سوکھے ہوئے چمن کو آنسوؤں کی بارش سیراب کر دیتی ہے،روزہ، تلاوتِ قرآن، قیام اللیل اور دعا کی ساعتیں انسان کے اندر ایسی نرمی پیدا کرتی ہیں، جو اسے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور ندامت کے ساتھ جھکنے پر آمادہ کر دیتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ نرم دلی کی سب سے سچی علامت آنکھوں کا نم ہونا ہے؛ کیوں کہ جب دل میں خشیت اور محبت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کا سب سے پہلا اظہار آنسوؤں کی صورت میں ہوتا ہے۔

آنسو اس لیے قیمتی ہیں کہ یہ روح کی گہرائیوں سے کشید ہوتے ہیں،یہ دکھاوے اور تصنع سے پاک ہوتے ہیں اور اخلاص کا نچوڑ بن کر نکلتے ہیں، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان آنسوؤں کی غیر معمولی قدر و منزلت بیان فرمائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:

ليس شيءٌ أحبَّ إلى اللهِ من قطرتَيْن وأثرَيْن : قطرةُ دموعٍ من خشيةِ اللهِ ، وقطرةُ دمٍ تُهراقُ في سبيلِ اللهِ(سنن ترمذی، حدیث نمبر:۱۶۶۹)

 اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں: ایک وہ آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلے اوردوسرا خون کا قطرہ، جو اللہ کے راستے میں بہایاجائے۔ 

ایک سچا آنسو بظاہر بہت معمولی معلوم ہوتا ہے؛ مگر حقیقت میں اس کی تاثیر بہت گہری ہوتی ہے، یہ گناہوں کی تپش کو ٹھنڈا کر دیتا ہے، دل کی سختی کو توڑ دیتا ہے اور بندے اور اس کے رب کے درمیان قرب کا ایسا رشتہ قائم کر دیتا ہے، جسے کوئی ظاہری عمل کبھی کبھی پیدا نہیں کر پاتا، اگر انسان کی آنکھیں خشک رہیں اور اس کے دل میں خشیت کی کیفیت پیدا نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہے کہ دل دنیا کی بے شمار مصروفیات اور خواہشات کے بوجھ تلے سخت ہو گیا ہے، دنیا کی رنگینیوں اور بے جا آرزوؤں نے احساس کی فطری لطافت کو دبا دیا ہے، قرآنِ کریم نے اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً(البقرہ: 74)

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، پس وہ پتھروں کی طرح ہو گئے؛بل کہ اس سے بھی زیادہ سخت۔ 

لیکن جب بندہ تنہائی میں اپنے رب کی عظمت کا تصور کرتا ہے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو یاد کرتا ہے تو یہی سخت دل آہستہ آہستہ نرم ہونے لگتا ہے، انسان کو اپنی خطائیں یاد آتی ہیں اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے رب نے اس کی کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا اور کتنی بار اسے مہلت دی، اسی احساسِ ندامت سے دل میں وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

دل کو نرم کرنے اور آنکھوں کو اشکبار کرنے کے کئی راستے ہیں،سب سے پہلا راستہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں کو یاد کرے اور اس بات پر غور کرے کہ اس نے کتنی بار اپنے رب کی نافرمانی کی؛مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دی اور اس کی پردہ پوشی فرمائی، دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی بے شمار نعمتوں کو یاد کرے،جب انسان اس بات پر غور کرتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کا حقیقی مستحق بھی نہیں تھا؛مگر پھر بھی اللہ نے اسے عطا کیا تو دل میں شکر اور عاجزی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے،سی طرح آخرت کی یاد بھی دل کو نرم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، وہ لمحہ تصور میں لائیں، جب انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا اور اس کے اعمال کا حساب ہوگا، اس تصور سے دل پر ایک سنجیدہ کیفیت طاری ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس میں تدبر بھی دلوں کو نرم کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے،جب بندہ اس احساس کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے کہ یہ اس کے رب کا کلام ہے اور اس میں براہِ راست اس سے خطاب کیا جا رہا ہے تو دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے، قرآن خود اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:

تَرٰى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ(المائدہ: 83)

تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں، اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔

بعض لوگ رونے کو کمزوری سمجھتے ہیں؛مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، دنیا کی نظر میں شاید آنسو بے بسی کی علامت ہوں؛ لیکن اللہ کے حضور یہی آنسو بندے کی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں، یہ اس عاجزی کا اظہارہے، جو انسان کو اپنے رب کے قریب کر دیتا ہے اور اس کے گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کر دیتی ہے،نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لا يَلِجُ النارَ رجلٌ بكَى من خَشيَةِ اللهِ حتى يعودَ اللبَنُ في الضَّرْعِ (جامع ترمذی، حدیث نمبر: ۲۳۱۱)

وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ کے خوف سے رو پڑا؛ یہاں تک دودھ تھن میں واپس چلاجائے۔

یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ آنسو دراصل دل کی زندگی کی علامت ہیں،جب دل زندہ ہوتا ہے تو اس میں خشیت، محبت اور ندامت کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں اور یہی کیفیات انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی میں تنہائی کے کچھ لمحے اپنے رب کے لیے مخصوص کرے، جب دنیا کی آوازیں خاموش ہو جائیں اور مصروفیات کا شور تھم جائے تو بندہ اپنے رب کے حضور بیٹھے، اپنے دل کا حال اس کے سامنے رکھے اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرے،دعا میں جلدی نہ کرے ؛بل کہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھ کر اپنے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کرے،اگر اس وقت آنکھیں نم ہو جائیں تو انہیں روکنے کی کوشش نہ کرے؛کیوںکہ یہ آنسو دراصل اللہ کی رحمت کے لمس کی علامت ہوتے ہیں۔

ایسے لمحوں میں بندہ اپنے رب سے یہی عرض کرتا ہے کہ اے اللہ! میرا دل سخت ہو گیا ہے، اسے اپنی محبت سے نرم کر دے، مجھے اپنی یاد میں زندہ رکھ اور مجھے اپنی قربت نصیب فرما،حقیقت یہ ہے کہ جو آنکھیں دنیا میں ندامت اور محبتِ الٰہی سے نم ہوتی ہیں، قیامت کے دن وہی آنکھیں امن اور رحمت کے سائے میں ہوں گی۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی