بندگی کا دائمی شعور

بندگی کا دائمی شعور

بندگی کا دائمی شعور

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


رمضان المبارک کی بخت بیدار ساعتیں رخصت ہوئیں تو سحر کی لطافتیں، افطار کی پُرنور رونقیں اور تراویح کی روح پرور صدائیں یادوں کے نگار خانے میں سمٹ گئیں، رخصت ہوتے ہوئے اس ماہِ سعید نے اہلِ فکر کے سامنے ایک سنگین سوال چھوڑا ہےکہ کیا بندگی کا وہ نور، جو اس ماہِ کامل میں ہمارے دلوں کے نہاں خانوں میں اترا تھا، ہلالِ عید کے طلوع ہوتے ہی ماند پڑ گیا؟ یا وہ ہمارے باطن میں رچ بس کر پیکرِ عمل کی مشعلِ راہ بن چکا ہے؟

قرآنِ حکیم نے روزے کا جوہر اور اس کا غایتِ قصویٰ بیان کرتے ہوئے صاف لفظوں میں اعلان فرمایا:لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ’’تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘، یہاں’’تقویٰ‘‘کسی وقتی کیفیت یا ایک ماہ کے جذباتی ابال کا نام نہیں؛ بل کہ یہ وہ دائمی شعورِ بندگی ہے، جو انسان کے رگ و پے میں سرایت کر کے اسے ہر لمحہ اپنے رب کے حضور جوابدہ رکھتا ہے، یہی وہ کیفیتِ احسان ہے، جس کے بارے میں مخبرِ صادق ﷺ نے فرمایا:أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاہ’’اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘، بندگی کا یہ سفر کسی ایک مہینے کی مسافت پر ختم نہیں ہوتا؛ بل کہ اس کی منزل تو لحد کی آغوش ہے، ربِ ذوالجلال کا فرمان ہے:وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِين’’اور اپنے رب کی عبادت کرو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ رمضان ایک ’’روحانی ورکشاپ‘‘ تھا، جہاں نفس کی تطہیر اور روح کی بالیدگی کا سامان فراہم کیا گیا، اب اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اس تربیت کو اپنی روزمرہ زندگی کا جزوِ لاینفک بنائیں، بارگاہِ الٰہی میں وہی عمل شرفِ قبولیت پاتا ہے، جس میں استقامت اور دوام ہو،حدیثِ پاک میں ہے:أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ’’اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے، جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو‘‘؛ چنانچہ اگر اس مہینے میں تلاوتِ قرآن کا ذوق پیدا ہوا، نمازوں میں خشوع کا نور نصیب ہوا اور سحر گاہی کی لذت میسر آئی تو ضروری ہے کہ انوارِ بندگی کی یہ جھلک باقی گیارہ مہینوں میں بھی برقرار رہے، ورنہ یہ تمام ریاضتیں محض ایک موسمی مشق بن کر رہ جائیں گی۔

رمضان کی حقیقی کامیابی اس وقت ظہور پذیر ہوتی ہے، جب اس کے نقوش ہمارے اخلاق اور معاشرتی رویوں میں نمایاں ہوں، بھوک اور پیاس کی جو شدت ہم نے جھیلی، وہ ہمیں ’’الْخَلْقُ عِیَالُ الله‘‘(مخلوق اللہ کا کنبہ ہے) کے فلسفے سے روشناس کرانے کے لیے تھی، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائیں، مومن کی پہچان اس کی نرم خوئی اور عفو و درگزر میں ہے، جیسا کہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘، اصل روشنی وہی ہے، جو صرف اپنے دل کے گوشوں کو نہیں؛ بل کہ دوسروں کی اندھیری زندگیوں کو بھی منور کر دے۔

اگرچہ رمضان کی جدائی دلوں پر ایک فطری اداسی طاری کر دیتی ہے؛ لیکن اس کے آفاقی پیغام کو فراموش کر دینا سب سے بڑا خسارہ ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ’’رمضان کا رب ہی تمام مہینوں کا رب ہے‘‘، اس کی رحمت کے دروازے ہر وقت وا ہیں اور اس کا دستِ کرم ہر دم بندوں کا منتظر رہتا ہے، لہٰذا ہمیں یہ پختہ عزم کرنا ہوگا کہ:

• ہماری عبادت وقتی نہیں؛ بل کہ مستقل ہوگی۔

• قرآن سے ہمارا تعلق رسمی نہیں؛ بل کہ قلبی اور فکری ہوگا۔

• نیکی ہمارے لیے ایک بوجھ نہیں؛ بل کہ ہمارے مزاج اور جبلت کا حصہ ہوگی۔

یاد رکھیے! جس کے سینے میں رمضان کے بعد بھی ہدایت کا چراغ فروزاں رہے اور جس کے عمل میں تقویٰ کی مہک باقی رہے، درحقیقت وہی بامراد ہے، اور اسی کی عید، ’’حقیقی عید‘‘ ہے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی