روحانی کفالت

روحانی کفالت

روحانی کفالت

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


انسانی زیست کی تگ و دو کا بیشتر حصہ اپنے لختِ جگر اور شریکِ حیات کی آسائشوں کی نذر ہو جاتا ہے، ایک شفیق باپ اور وفا شعار شوہر کی زندگی کا پہیہ اسی تگاپُو میں گھومتا ہے کہ وہ اپنے کنبہ کے لیے راحتوں کا سامان کر سکے، وہ تپتی دوپہروں کی حدت سہتا ہے اور یخ بستہ راتوں کے جبر کو خندہ پیشانی سے جھیلتا ہے،بسا اوقات وہ اپنی مامتا بھری مٹی اور وطن کی خوشبو کو خیرباد کہہ کر دیارِ غیر کی اجنبی مسافتوں کی دھول بھی اسی لیے چاٹتا ہے کہ اس کے آنگن میں خوشحالی کے پھول کھل سکیں،وہ اپنی تمام تر توانائیاں، خواب اور خواہشیں صرف اس لئے قربان کر دیتا ہے؛ تاکہ اس کے پیاروں کا مستقبل تابناک ہو سکے، بے شک یہ مادی ذمہ داری ایک عظیم عبادت ہے؛لیکن ذرا تامل کیجیے! تگ و دو کے اس ہنگامے میں ایک لمحہ رک کر اپنے وجود سے سوال کیجیے کہ کیا ایک محبت کرنے والے نگہبان کا منصب صرف پیٹ کی آگ بجھانے اور تن ڈھانپنے کے سامان تک محدود ہے؟ کیا کفالت کا مفہوم محض دسترخوان کی وسعت، ریشم و کمخواب کی فراہمی اور سنگ و خشت کے بلند و بالا مکانات کی تعمیر میں پوشیدہ ہے؟ 

حقیقت یہ ہے کہ انسانی وجود محض مٹی کا ایک ڈھیر نہیں، جسے صرف مادی لقموں کی ضرورت ہو؛ بل کہ یہ پیکرِ خاکی اس لطیف روح کا امین ہے، جس کی غذا ذکرِ الٰہی اور معرفتِ ربانی ہے،جس طرح ہم اپنے نونہالوں کے نحیف جسموں کو بھوک کی تپش اور افلاس کی محرومی سے بچانے کے لیے بے قرار رہتے ہیں، عین اسی طرح ان کے نہاں خانۂ دل کی آبیاری اور آخرت کی دائمی کامیابی کے لیے فکر مند ہونا ہماری فطری اور ایمانی ذمہ داری ہے،قرآنِ حکیم نے اس آفاقی سچائی کو نہایت بلیغ اور لرزہ براندام کر دینے والے اسلوب میں بیان فرمایا ہے:قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا’’اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو  آگ سے بچاؤ‘‘، یہ آیتِ کریمہ کسی بھی گھر کے سربراہ کو جھنجھوڑتی ہے کہ وہ محض دسترخوان کی وسعتوں کا ضامن نہیں؛ بل کہ اپنے خاندان کی روحانی اقدار کا پاسبان اور ان کی عاقبت کا امین بھی ہے،سچی محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم اپنے پیاروں کو صرف دنیا کی عارضی دھوپ سے بچا کر ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں سلا دیں؛ بل کہ حقیقی شفقت تو یہ ہے کہ ہم انہیں جہنم کی ابدی تپش سے بچانے کے لیے بے چین ہو جائیں، اس روحانی کفالت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کے در و دیوار کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، اپنی شریکِ سفر اور لختِ جگر کو اس ذاتِ ذوالجلال کی یاد کی طرف مائل کریں، جو تمام راحتوں کا منبع ہے،ہمیں انہیں ان سحر انگیز لمحات کی قدر سکھانی ہوگی، جب کائنات خاموش ہوتی ہے، آسمان سے رحمتیں برستی ہیں اور بندہ اپنے رب کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ اس کی سرگوشیاں بھی عرشِ بریں پر سنی جاتی ہیں۔

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی اس سلسلے میں ہمارے لیے کامل نمونہ ہے، آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو امت کے لیے مینارۂ ہدایت ہے، آپ ﷺ خود عبادت میں بے مثال تھے؛ مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے اہلِ خانہ کی روحانی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے، خصوصاً رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آپ ﷺ کی عبادت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا،  ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ:کان رسول اللہ ﷺ إذادخل العشر أحیااللیل وأیقظ أہلہ وجد وشد المئزر (صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۱۷۴)’’جب اخیرعشرہ آتا توآپ ﷺشب بیداری فرماتے، اپنے گھروالوں بیدارکرتے اور(عبادت کے لئے)کمرکس لیتے‘‘، یہ منظر اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ ایمان کی حقیقی کامیابی صرف اپنی نجات میں نہیں؛ بل کہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی اس نورانی سفر میں شریک کرنے میں ہے، ایک مومن کا دل اس وقت مطمئن ہوتا ہے، جب وہ اپنے پیاروں کو بھی اللہ کے دربار میں جھکتے اور اس کی رحمت کے طلبگار بنتے دیکھتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں اہلِ خانہ کو عبادت کے لیے بیدار کرنا محض ایک رسمی ہدایت نہیں؛بل کہ ایک ایسا عمل ہے، جس پر اللہ کی خصوصی رحمت نازل ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: رحم اللہ رجلاً قام من اللیل فصلی ، وأیقظ امرأته فصلت، فإن أبت رش فی وجهها الماء(سنن ابن ماجۃ، باب ماجاء فیمن أیقظ أہلہ من اللیل،حدیث نمبر:۱۳۳۶)’’اللہ تعالیٰ اس شخص پررحم فرمائے، جورات میں بیدارہوکرنماز پڑھتاہے اوراپنی بیوی کوبیدارکرتاہے اوروہ اٹھ کرنماز پڑھتی ہے، اگربیوی اٹھنے سے انکارکرتی ہے تواس کے چہرہ پرپانی کا چھڑکتاہے (تاکہ بیوی جاگ جائے اورنماز پڑھ لے)‘‘، اس ارشاد میں محبت، شفقت اور روحانی تعلق کا حسین امتزاج جھلکتا ہے، یہ کوئی سختی نہیں؛ بل کہ ایک لطیف اور محبت بھرا انداز ہے، جس کے ذریعہ ایک مومن بندہ اپنے شریکِ حیات کو اللہ کی یاد کی طرف متوجہ کرتا ہے، ذرا تصور کیجیے اس گھر کے ماحول کا جہاں رات کے آخری پہر شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنیں، ایک دوسرے کو جگائیں اور مل کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوں، یقیناً ایسے گھروں پر فرشتوں کی دعائیں نازل ہوتی ہیں اور وہاں کی فضا نور و سکینت سے بھر جاتی ہے۔

قیام اللیل اور شب بیداری کو اگر ایک فرد کی ذاتی عبادت کی بجائے پورے گھر کی مشترکہ عبادت بنا دیا جائے تو اس کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں،جب ایک گھر کے افراد مل کر اللہ کو یاد کرتے ہیں تو اس گھر سے بے برکتی اور بے سکونی رخصت ہو جاتی ہے، وہاں دلوں میں محبت بڑھتی ہے، میاں بیوی کے تعلق میں اخلاص پیدا ہوتا ہے اور بچوں کی تربیت میں ایک مضبوط بنیاد قائم ہوتی ہے، یہ وہ روحانی دولت ہے، جو دنیا کی کسی مادی آسائش سے زیادہ قیمتی ہے؛کیوں کہ یہ دولت انسان کے ساتھ آخرت تک جاتی ہے۔

آج کے دور میں جب زندگی کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور مادی آسائشوں کی دوڑ نے انسان کو بے حد مصروف بنا دیا ہے، ایسے میں روحانی کفالت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ہمیں اپنے گھروں کو صرف آرام و آسائش کے مراکز نہیں بنانا چاہیے؛بل کہ انہیں عبادت، ذکر اور دعا کی خوشبو سے معطر کرنا چاہیے، اگر ہم اپنے اہلِ خانہ کو دنیا کی راحتیں دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اللہ کی طرف بھی متوجہ کریں تو یہی ہماری اصل کامیابی ہوگی۔

آئیے! ہم عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں کو محض اینٹ اور پتھر کے مکان نہیں رہنے دیں گے؛ بل کہ انہیں ایمان، عبادت اور ذکرِ الٰہی سے منور کریں گے۔ ہم اپنے بچوں اور شریکِ حیات کو نہ صرف دنیا کی آسائشیں دیں گے؛ بل کہ ان کی روحوں کو بھی اللہ کی قربت کا ذوق عطا کرنے کی کوشش کریں گے، جب گھروں میں رات کی خاموشیوں میں سجدوں کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں گی تو وہ گھر یقیناً ایسی نورانی بستی میں تبدیل ہو جائیں گے، جن پر زمین والے بھی رشک کریں گے اور آسمان والے بھی۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی