سجدوں کی لمبی راتیں

سجدوں کی لمبی راتیں

سجدوں کی لمبی راتیں

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


رمضان المبارک کے آخری عشرے کی یہ بابرکت ساعتیں محض رات جاگنے کا نام نہیں؛ بل کہ یہ وہ لمحات ہیں، جن میں بندہ اپنے رب کے حضور خود کو مٹا کر اس کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،یہ وہ مقدس راتیں ہیں، جن میں دلوں کی دنیا بدل جاتی ہے، روحوں میں ایک عجیب سی بیداری پیدا ہوتی ہے اور انسان اپنے رب کے سامنے جھک کر اپنی عاجزی کا اعتراف کرتا ہے، جب رات کی خاموشی ہر طرف پھیل جاتی ہے اور دنیا کی ہماہمی تھم جاتی ہے، تب بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے اور اس کے سامنے اپنی بے بسی اور محتاجی کا اظہار کرتا ہے، انہی لمحات میں عبادت کی لذت اور بندگی کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے بندوں کی تعریف فرمائی ہے، جو راتوں کو اپنے بستروں سے الگ ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں،ارشاد باری تعالیٰ ہے:تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا’’ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں اور وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں‘‘، اس آیت میں اس بندگی کی کیفیت بیان کی گئی ہے، جو رات کی تنہائی میں اپنے رب کے ساتھ بندے کا تعلق مضبوط کرتی ہے، یہی وہ ساعتیں ہیں، جب انسان کی روح دنیاوی مصروفیات سے آزاد ہو کر اپنے خالق کے سامنے جھک جاتی ہے اور بندگی کا حقیقی لطف محسوس کرتی ہے۔

سجدہ دراصل بندگی کا اعلیٰ ترین مظہر ہے،یہ وہ مقام ہے، جہاں انسان اپنی انا، اپنی بڑائی اور اپنے غرور کو مٹا دیتا ہے اور مکمل عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے، جب انسان اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتا ہے تو وہ گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ میں ایک کمزور اور محتاج بندہ ہوں اور میرا رب ہی حقیقی طاقت اور اختیار کا مالک ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے، جب وہ سجدے میں ہو؛اس لیے اس حالت میں کثرت سے دعا کیا کرو‘‘، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ محض ایک جسمانی عمل نہیں؛ بل کہ روحانی قرب کا وہ لمحہ ہے، جس میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔

لمبے سجدے دراصل بندے کے دل کی پکار ہوتے ہیں، جب انسان طویل سجدہ کرتا ہے تو وہ اپنی بے بسی اور محتاجی کا اعتراف کرتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں اور اس کی ہر سانس اس کے رب کی عطا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ حقیقی قوت، حقیقی عزت اور حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس احساس کے ساتھ جب بندہ سجدے میں جاتا ہے تو اس کا دل نرم ہو جاتا ہے، اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور اس کے دل سے نکلنے والی دعائیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔

سجدہ دراصل وہ خلوت ہے، جہاں بندہ اپنے رب سے دل کی باتیں کرتا ہے، کبھی زبان سے الفاظ نکلتے ہیں اور کبھی آنکھوں کے آنسو ہی اس کی ترجمانی کرتے ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پاس الفاظ نہیں ہوتے؛ لیکن اس کا دل اپنے رب سے بہت کچھ کہہ رہا ہوتا ہے، یہی وہ لمحات ہوتے ہیں، جب بندہ اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی اور رحمت کی درخواست کرتا ہے، وہ اپنے رب سے پاکیزہ دل مانگتا ہے، ایسا دل، جو حسد، کینہ اور ریا سے پاک ہو، وہ کامل ایمان کی دعا کرتا ہے، ایسا ایمان، جو حالات کی سختیوں میں بھی متزلزل نہ ہو، اسی طرح وہ اپنے والدین، عزیزوں اور پوری امت کے لیے خیر و برکت کی دعا کرتا ہے۔

سجدے میں بہنے والا ایک آنسو بھی بندگی کی سچائی کا گواہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے خوف اور محبت میں بہنے والے آنسو اس کے نزدیک بہت قیمتی ہوتے ہیں، حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دو قطرے بہت محبوب ہیں: ایک وہ خون کا قطرہ، جو اس کی راہ میں بہے اور دوسرا وہ آنسو، جو اس کے خوف سے نکلے، جب بندہ ندامت کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس کا دل نرم ہو گیا ہے اور اس کے اندر بندگی کی حقیقت بیدار ہو چکی ہے۔

رمضان کی ان مبارک راتوں میں خاص طور پر آخری عشرے میں بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ اس تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے،جب دنیا سو رہی ہو اور خاموشی ہر طرف پھیلی ہو، تب بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر چند رکعت نماز ادا کرے اور سجدے میں جا کر اپنے دل کی باتیں کہے، اسے جلدی نہیں کرنی چاہیے؛ بل کہ سکون اور خشوع کے ساتھ اپنے رب کے سامنے ٹھہرنا چاہیے، یہی وہ لمحے ہیں، جب انسان کی روح کو حقیقی سکون ملتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہونے کا احساس کرتا ہے۔

دن کی مصروفیات انسان کو دنیا کی دھول میں الجھا دیتی ہیں؛ لیکن رات کا ایک سچا اور طویل سجدہ اسے دوبارہ اپنے اصل کی طرف لوٹا دیتا ہے، یہی سجدے انسان کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ اس کی اصل حقیقت بندگی ہے اور اس کی کامیابی اپنے رب کی رضا میں ہے،رمضان کی یہ راتیں دراصل اسی حقیقت کو پہچاننے اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہیں، اگر بندہ ان راتوں کو سجدوں، دعا اور آنسوؤں سے آباد کر لے تو یقیناً یہ لمحے اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں۔

بارالہا! ہمیں اخیرعشرہ کی کما حقہ قدردانی کی توفیق عطافرما، میری آنکھوں میں وہ آنسودے، جوتجھے پسند ہے، اپنا قرب عطافرما، لمبے سجدوں کی توفیق دے، آمین!

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی